نہر میں نہانے والے

17 جون 2015
نہر میں نہانے والے

خبر چھپی کہ لاہور کے علاقے مسلم ٹاو¿ن میں نہر میں چھلانگ لگانے والے دو نوجوان سر پر چوٹ لگنے کے باعث ہلاک ہو گئے۔ ان میں ایک 22سالہ علی زرناب اور دوسرا 18سالہ حسام تھا۔ دونوں سٹوڈنٹ تھے۔ جس روز خبر شائع ہوئی، میرے دیرینہ رفیق محمد علی چراغ نے فون کیا کہ ان میں ایک نوجوان علی زرناب میرا بیٹا تھا۔ میں نے علی زرناب کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ محمد علی چراغ اکلوتے بیٹے کی ہلاکت پر گہرے صدمے میں تھا اور اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ 

اگلے روز خبر شائع ہوئی کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر کیپٹن(ر) محمد عثمان نے نہر میں نہانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پابندی پہلے بھی کئی مرتبہ لگائی گئی۔ لکھ کر بھی لگایا جاتا ہے کہ ”نہر میں نہانا منع ہے“ کیا اس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے یا نہیں؟قبل ازیں بھی نہر میں نہاتے ہوئے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ علی زرناب والدین کا اکلوتا بیٹا اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اسے تیرنا بھی نہیں آتا تھا۔ نہر میں چھلانگ لگانے سے قبل اس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ میں رسک لے رہا ہوں اگر کوئی حادثہ پیش آ گیا تو میرے والدین اور بہنوں پر کیا بیتے گی؟ محمد علی چراغ نے مجھے بتایا کہ تین بیٹیوں کی پیدائش کے سات برس بعد بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام ”زرناب“ رکھا یعنی خالص سونا۔ وہ انتہائی ذہین، لائق اور محنتی طالب علم تھا۔ اس نے او لیول کے بعد اے لیول کیا پھرACCA کا امتحان پاس کیا اور ان دنوں CAکر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹاو¿ن شپ کے ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں پڑھا رہا تھا۔ دوسرا نوجوان جو ہلاک ہوا وہ علی زرناب کا شاگرد تھا۔ محمد علی چراغ سے میری رفاقت تقریباََ چالیس برس پر محیط ہے۔ وہ ادیب، محقق اور نقاد ہے۔ پچھلے چند برسوں سے مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ میں ریسرچ آفیسر کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ محمد علی چراغ کی تحریک پاکستان کے حوالے سے متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سب سے بڑھ کر اسلامی شخصیات پر انسائیکلو پیڈیا لکھا اور صوفیاءکرام کے فارسی دیوانوں کے اردو میں شرح و تراجم کر کے ادبی خدمات انجام دیں۔ نہر میں نہانے والے نوجوانوں سے پوچھا جائے تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ سخت گرمی اور لوڈ شیڈنگ میں ہم کہاں جائیں؟ نوجوان ملک و قوم کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت اور ذہنی پرداخت ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ حکومت پنجاب کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ دیگر کئی ممالک میں سمندر کے ساحلوں اور بڑے دریاو¿ں پر محفوظ اور خوبصورت تفریح گائیں بنائی گئی ہیں۔ ان کو پیشِ نظر رکھ کر یہاں بھی تفریح گاہیں بنائی جا سکتی ہےں۔ جب تک اس طرح کی سہولیات میسر نہیں آتیں، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ان غیر محفوظ تفریح گاہوں سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔ حکومت برطانیہ نے لاہور میں کئی سوئمنگ پول بنائے تھے۔ کیا موجودہ حکومت اس قسم کے سوئمنگ پول نہیں بنا سکتی؟ بہترین بدلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ حالات کو بہتر کر دیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ وہ لاہور میں کم از کم 100مقامات پر پلے گراو¿نڈ اور سویمنگ پول بنا دیں اور ان مقامات پر باقاعدہ کوچ رکھے جائیں۔ بے شک ٹکٹ لگا دی جائے۔ اس سے حکومت کو آمدنی بھی ہو گی۔ حدیث ہے ۔ ”آسانیاں پیدا کرو، مشکلات مت پیدا کرو۔ اچھی بشارت دو، کوئی ایسی بات نہ کرو جس سے نفرت پیدا ہو“ .... منیر نیازی کی یہ نظم محمد علی چراغ کی نذر کر تا ہوں:
جب سے وہ بچھڑا ہے
اس گھر کی خاموشی اس کی قبر سے گہری ہے
اس کے گُن
روشن آنکھوں کی طرح یہاں منڈلاتے ہیں
اور چاندی سی آوازوں سے
دکھ کو دور بھگاتے ہیں۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...