عام مکھی، شہد کی مکھی اور ناک پر بیٹھی مکھی

17 جون 2015
عام مکھی، شہد کی مکھی اور ناک پر بیٹھی مکھی

سندھ اسمبلی میں بجٹ منظور ہونے کے بعد ایم کیو ایم والوں نے کراچی میں ہڑتال اور کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا۔ اتفاق سے وزیراعظم صاحب بھی اس وقت کراچی کے دورے پر تھے۔ ایم کیو ایم کے اعلان پر انہیں ایک محاوراتی بیان دینے کا دورہ پڑا۔ ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ ایک مکھی بھی مر جائے تو کراچی بند ہو جاتا ہے اور گورنر سندھ کو تلقین کی کہ وہ روز روز ہونے والی ہڑتالیں ختم کروائیں۔ یہ بیاناتی مکھی کراچی سے اڑی اور لندن جا کر الطاف بھائی کی ناک پر بیٹھ گئی۔ ایک صاحب ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے، ایک دن ایک ڈھیٹ مکھی ان کی ناک کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی۔ وہ ہاتھ مار کر مکھی اڑاتے تو مکھی ان کے چہرے کے گرد چکر لگا کر پھر ناک پر آن بیٹھتی۔ آخر وہ غصے میں پاگل ہو گئے اور ناک پر بیٹھی ہاتھ ملتی مکھی پر زبردست دوہتھڑ چلایا۔ مکھی تو ایک بار اڑان بھر گئی لیکن دوہتھڑ بچاری ناک پر اس زور سے پڑا کہ ناک کا اگلا سرا ناک سے جدا ہو کر زمین بوس ہو گیا۔ ایک دیدہ ور شاعر نے اس منظر کی عکاسی اس شعر میں کی ہے ....

ناک کٹ کر گر گئی آخر تمہاری خاک پر
بیٹھنے دیتے نہیں تھے تم تو مکھی ناک پر
بات کہیں سے کہیں نکلی جا رہی ہے۔ بات ہو رہی تھی الطاف بھائی کی، نواز شریف کی محاوراتی مکھی الطاف بھائی کی ناک پر جا بیٹھی تو انہوں نے ناک بھوں چڑھائی اور ایک بیاناتی مکھا چھوڑ دیا۔ آپ کو علم ہو گا کہ اونٹوں اور گدھوں پر بیٹھنے والی نیلے رنگ کی ایک بڑی مکھی کو مکھا کہا جاتا ہے۔ الطاف بھائی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مرنے والے کارکنوں کو مکھی کہنا ان کی توہین ہے۔ دراصل وزیراعظم کے دماغ پر مکھی بیٹھ گئی ہے۔ وہ استعفیٰ دے دیں اور ماہر نفسیات سے مکھی مار علاج کروائیں۔ یہ الطافیہ بیان وزیراعظم کی ناک تک تو نہیں پہنچ سکا لیکن میڈیا والوں کی ناک پر بیٹھ کر بھوں بھوں کرنے لگا۔ میڈیائی وزیر پرویز رشید نے یہ مکھا بازی دیکھی تو ایک مکھی توڑ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایم کیو ایم والوں کو عام مکھی نہیں بلکہ شہد کی مکھی کا درجہ دیتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے مکھی کا لفظ محاورے کے طور پر استعمال کیا ہے، مطلب یہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہڑتال کر کے کاروبار زندگی مفلوج کر دینا اچھی روایت نہیں ہے۔ نواز شریف کے مکھی نواز بیان کے جراثیمی اثرات ختم کرنے کیلئے وزیر موصوف نے ایم کیو ایم والوں کو شہد کی مکھیاں قرار دیا۔ اس طرح وہ وزیراعظم سے بھی دو قدم آگے نکل گئے۔ نواز شریف نے تو لذت تقریر میں مکھی کا لفظ محاورے کے طور پر استعمال کیا تھا لیکن وزیر اطلاعات نے سوچ سمجھ کر ایم کیو ایم والوں کو شہد کی مکھی کا درجہ دیا ہے۔ شہد کی مکھیوں کے عمومی کردار پر ایک نظر ڈالئے تو ایم کیو ایم کے کردار کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اس بیان پر الطاف بھائی سوچ رہے ہوں گے ....
سیاست کے چمن میں شہد کی مکھی ہمیں کہنا
کہاں سوچا تھا، یہ تہمت پڑے گی اک دن سہنا
شہد کا پورا چھتہ ملکہ مکھی کے احکامات کا پابند ہوتا ہے۔ ملکہ مکھی کارکن مکھیوں کے مقابلے میں زیادہ موٹی ہوتی ہے۔ اس کے گرد محافظ مکھیوں کا پہرہ ہوتا ہے۔ ان مکھیوں کو ڈرون کہا جاتا ہے۔ ملکہ مکھی کے اشارے پر کارکن مکھیاں چھتے کے قرب و جوار میں موجود گلستانوں میں پھیل جاتی ہیں، رنگ برنگے کھلے ہوئے پھولوں پر حاوی ہو کر بطور بھتہ ان کا رس چوس لیتی ہیں۔ پھر یہ رسیلا بھتہ ملکہ کی قیام گاہ یعنی چھتے میں لے آتی ہیں۔ ملکہ مکھی اپنا حصہ رکھ کر باقی بھتہ چھتے میں بنے خانوں میں جمع کرنے کا حکم صادر کرتی ہے۔ اس طرح شہد کی صورت میں گل رس خانہ بند ہوتا رہتا ہے۔ شہد کی مکھی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ عام مکھی کی طرح نہیں ہوتی کہ جب جب چاہے اسے مار ڈالے، شہد کی مکھی ڈنک مار مکھی ہوتی ہے اور اپنی طرف بڑھنے والے ہر شخص کو ایسا ڈنک لگاتی ہے جس کی اذیت وہ عمر بھر یاد رکھتا ہے۔ کوئی چھتے پر ہاتھ ڈالے تو ساری مکھیاں بھنبھناتی ہوئی اس پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اگر ایم کیو ایم والوں نے وزیر اطلاعات کے تشبیہاتی بیان پر گہرائی میں جا کر غور کیا تو موصوف کون سا حفاظتی مکھی چوس استعمال کریں گے۔ پھر یاد آیا کہ ایک زبردست مکھی چوس گورنر سندھ عشرت العباد کی صورت میں موجود ہے۔ بہت سے قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ مکھی چوس کا مطلب کیا ہے تو عرض ہے کہ ایک کنجوس شخص کے دودھ میں مکھی گر گئی۔ اس نے دونوں انگلیوں کی چٹکی بنا کر مکھی نکالی تو دیکھا کہ مکھی دودھ میں لت پت ہے۔ اس نے دودھ بچانے کیلئے مکھی کو منہ میں ڈال کر چوسا اور پھر بے دودھ مکھی کو منہ سے نکال پھینکا۔ ایسی ہی ایک مکھی چوس حرکت کو ایک قدیم شاعر نصیر نے یوں شعربند کیا ہے ....
لیا اس خالِ لب کا، جو ہے بوسہ شیخ نے
تو رِندوں نے کہا، حضرت بھی مکھی چوس ہیں گویا
٭٭٭