لاہور میں تعلیمی کانفرنس کا انعقاد

17 جون 2015

گزشتہ روز لاہور میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن جو ایک ملک گیر تنظیم ہے نے آل پاکستان تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا اس کانفرنس میں ملک بھر میں سے تنظیم کا اہم رہنماﺅں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی اس کانفرنس کے مہمان خصوصی سینیٹر پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات تھے۔ انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پرائیویٹ سیکٹر مستقبل کے معماروں کی تربیت کے حوالے سے اہم کردار کر رہا ہے ایسے تعلیمی ادارے جو جہالت کے خاتمے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومتیں انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کریں۔ دو ہزار اٹھارہ تک قومی آمدنی کا چار فیصل تعلیم پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تعلیم کے شعبے میں دو چیلنجز کا سامنا ایک طرف شرح خواندگی کو بڑھانا اور دوسری طرف پاکستان میں ایسا معیار تعلیم قائم جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے تعلیم کے شعبے میں پچھلی حکومتوں کی نسبت زیادہ رقم مختص کی ہے۔ ہم نے مسلم لیگ کے منشور میں بعدازاں وزیراعظم نے اس عزم کا اعلان کیا تھا کہ ہم تعلیم پر ہونیوالے اخراجات اپنے دور حکومت میں ”جی پی ڈی“ کے 4 فیصد تک بڑھا دیں گے ہم اپنے اس عزم پر قائم ہیں لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ تعلیم پر اخراجات میں وفاق کا حصہ صرف 2 فیصد ہے۔ تعلیم پر اخراجات کی موجودہ شرح یعنی جی ڈی پی کا 1.67 فیصد کو 4 فیصد تک لے جانے کےلئے، وفاقی حکومت کو اپنی موجودہ شرح یعنی جی ڈی پی کا 0.34 سے بڑھا کر 0.80 فیصد کرنا ہو گا۔ جبکہ صوبوں کو اپنے موجودہ حصے یعنی جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کو بڑھا کر 3.2 فیصد کرنا ہو گا۔ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری کو پورے کریگی۔راقم نے تنظیم کے مرکزی صدر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نظام تعلیم آج وینٹی لیٹر پر ہے اور لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ 67 سال گزرنے کے بعد پاکستان ناخواندگی کے حوالے سے دنیا میں دسرے نمبر پر ہے مگر اسکے باوجود ارباب اختیار اس تلخ حقیقت کا ادراک نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قواعد کی رو سے پاکستان کا کل قومی آمدنی کا کم از کم 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا پابند ہے مگر اسکے باوجود اس وقت 70 لاکھ بچے پرائمری تعلیم اور ڈیڑھ کروڑ بچے ہائی سکول جانے سے محروم ہیںجبکہ اس مد میں مجموعی بجٹ کا 2.5 فیصد بھی مختص نہیں کیا گیا۔ راقم نے کہا کہ پاکستان کی ہر حکومت نے پاکستان کو پڑھا لکھا بنانے کے صرف دعوے ہی دعوے کئے ہیں لیکن عملی طور کچھ نہیں کیا۔ راقم نے کہا کہ تعلیم کیلئے بجٹ دفاعی بجٹ کے برابر ہونا چاہئے تھا۔ راقم نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو بجٹ میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر عائد ٹیکسز کو ختم کرنا چاہئے تھا۔ راقم نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں پر 18 قسم کے ٹیکسز عائد ہیں ان ٹیکسز کی وجہ سے عرصہ تین سال کے دوران ملک بھر کے تیس ہزار سکول بند ہو گئے اور باقیوں کی بندش کا عمل جاری ہے۔ راقم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تعلیم کےلئے بمشکل ایک فیصد بجٹ مختص کیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی حکومت فروغ تعلیم کیلئے کتنی سنجیدہ ہے۔ راقم نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی عوام کی ایک غالب اکثریت کو جاہل اور ان پڑھ رکھا جا رہا ہے جن لوگوں نے اقتدار میں آنا ہوتا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان باشعو ہو گیا تو انکی دال نہیں گلے گی اور پڑھی لکھی قوم ان کو اقتدار میں آنے نہیں دیگی۔ یہ گزرے برسوں کے جاگیرداروں والا رویہ جو اپنے گاﺅں میں سکول نہیں کھلنے دیتے تعلیم دشمنی کا یہ اندازہ آج بھی برقرار ہے اور جو وطیرہ اختیار کیا گیا ہے اس سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تعلیم اس لئے ترجیح نمبر ایک نہیں ہے کیونکہ پڑھا لکھا پاکستان ہمارے سیاستدانوں اور جرنیلوں کے مفاد میں نہیں ہے اسی لئے 67 سالوں میں ہمارے حکمرانوں نے خواندگی کی شرح میں اضافہ نہیں ہونے دیا۔ راقم نے کہا کہ سابق وفاقی حکومت نے 18 ویں ترمیم میں نصاب تعلیم بنانے کا اختیار صوبوں کوسونپ دیا ہے حکومت کے اس اقدام سے صوبائی تعصب کو فروغ ملے گا ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت یکساں نظام تعلیم قومی امنگوں کےمطابق تیار کرے۔ راقم نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور پنجاب حکومن نجی سکولوں پر عائد ٹیکسز ختم نہیں کرتیں تب تک ہم دس فیصد بچوں کو فری تعلیم نہیں دینگے۔ راقم نے کہا کہ بھارت میں پرائیویٹ سکولوں پر ایک بھی ٹیکس نہیں ہے اس لئے وہ اپنی حکومت کے حکم پر دس فیصد بچوں کو فری پڑھا رہے ہیں۔ اگر پنجاب اور وفاقی حکومت پرائیویٹ سکولوں پر عائد تمام ٹیکسز ختم کر دے تو ہم بھی دس فصد بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کر دینگے۔ صوبہ سندھ تنظیم کے صدر عرفان قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی میں دہشتگرد پرائیویٹ سکولوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں، بھتہ خوری کیلئے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کو آئے دن ڈراتے، دھمکاتے رہتے ہیں۔ حکومت ہماری جان و مال کا تحفظ کرے صوبہ بلوچستان تنظیم کے صدر محمد جعفر خان، خیبر پختونخواہ تنظیم کے صدر محمد سرفراز نواز، مرکزی تنظیم کے سیکرٹری جنرل امجد علی اور پنجاب تنظیم کے رہنما ابرار احمد خان ، رانا مقرب الٰہی، کاشف ادیب ، جاوید انجم، حافظ ذوالفقار شاہد، چودھری واحد احمد، ملک افتخار حسین اور رانا ندیم صابر ایڈووکیٹ نے بھی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کی اور کہا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے فروغ تعلیم کیلئے بڑا کام کر رہے ہیں حکومت کو انکی مشکلات دور کرنی چاہئے تاکہ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان دلجمعی سے کام کر سکیں اس کانفرنس کے دوران مون لائن سکول نسبت روڈ کی دو طالبات عافیہ اور سدرہ نے ایک طنز و مزاح پر مشتمل ایک خاکہ بھی پیش کیا۔