ڈی جی رینجرز کی بریفنگ اور سیاسی واویلا

17 جون 2015

سندھ اپیکس کمیٹی کی میٹنگ میں کراچی کی صورتحال پر بریفنگ کے دوران ڈی جی رینجرزمیجر جنرل بلال اکبر نے جو انکشافات کئے ہیں۔سیاستدانوں کی جانب سے اس کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔کسی نے ڈی جی رینجرز کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے تو کسی نے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کسی نے اسے بد قسمتی قرار دیا ہے تو کسی نے وفاقی حکومت کے لائحہ عمل کا سوال اٹھایا ہے۔رد عمل کا اظہار کرنیوالے یہ سب لوگ پاکستان کے نامی گرامی سیاستدان ہیں۔سبھی ملک و قوم کے حقیقی وفادار اور عوام کے سچے خادم و بہی خواہ جانے مانے یا کہے جاتے ہیں۔کراچی ایک عرصے سے ٹارگٹ کلرز ،لینڈ مافیا،بھتہ مافیا،اور دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔مگر انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی۔ ڈی جی رینجرز نے اگرکسی سیاسی جماعت یا شخصیت کا نام لئے بغیر تفصیلی بریفنگ میں کراچی کی صورتحال کے ذمہ دارچہروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کیلئے اسلحہ خریدنے یابندر بانٹ کیلئے ۲۳۰ بلین روپے سالانہ بھتے اور غیر قانونی رقوم کی کلیکشن کا نہ صرف انکشاف کیا ہے بلکہ سیاستدانوں،وڈیروں ،سٹی گورنمنٹ اور پولیس افسروں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تویقینا ان کے پاس اس کے شواہد موجود ہونے چاہئیںاور اگر ایسا ہے تو قوم کو ان کا اسلئے ممنون ہونا چاہئیے کہ انہوںنے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی حد تک ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ ورنہ وہ’’ پردے میں رہنے دو‘ پردہ نہ اٹھائو‘ پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا ‘‘کی پالیسی اختیار کر سکتے تھے۔ بے داغ سیاستدانوں کو تو نہ صرف شفافیت پر مبنی پیشرفت کا مطالبہ کرنا چاہئیے بلکہ کھلے دل سے اس کار خیر میں ساتھ دینا چاہییے۔ ڈی جی رینجرز نے کسی شخص کو نامزد نہیں کیا۔انہوں نے جس انداز سے کراچی کی صورتحال کے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئیے ۔ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ،کون گنہگار ہے اور کون بے گناہ، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔تاہم ڈی جی رینجرز کی بات میں وزن ہے اسے یکسر نظرانداز کرنا زیادتی ہوگی۔اس پر شفاف قانونی کارووائی اگر ہو جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آ سکتا ہے ۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے سیاستدان اتنی جلدی جامے سے باہر کیوں ہوجاتے ہیں۔یہ بغیر سوچے سمجھے صبر کا دامن ہاتھ سے کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔اور اداروں پر انہیں کیوں اتنی بد اعتمادی ہے۔کیا تمام ادارے یا افسران اپنی قومی ذمہ داریاں محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ انہیںیہ اعتماد سے کام کیوں نہیں کرنے دیتے۔اگر ڈی جی رینجرز کے انکشافات کو ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو کیا اٹھارہ کروڑ عوام میں سب کے سب مخبوط الحواس لوگ ہیں ۔کیا ان کا اپنا ذہن بالکل کام نہیں کرتا،کیا لوگ بے تکا سیاسی واویلا سننے کے بعد یہ سمجھنا شروع کر دینگے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری جیسی مکروہ واراتیں کرنے کیلئے کوئی آسمانی مخلوق اترتی ہے ؟جب بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز نے کراچی کا یہ حال بنا رکھا ہے تو لوگ کیسے مان لیں کہ سب کے سب سیاسی شعبدہ باز اور فرعون نما وڈیرے دودھ میں دھلے ہوئے ہیں ۔ کیاعوام نہیں سمجھتے کہ کراچی میں کھیلے جانے والے کھیل میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔یہ بھی عام فہم بات ہے کہ بیرونی ہاتھوں میں آلہء کار بننے والے ضمیر فروش مقامی ہی ہیں۔ایسے منظرنامے میں عوامی لیڈرشپ کی ذمہ داریاں دو چند ہو جاتی ہیں۔ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور دہشت گردی میں ملوث پردہ نشینوں کے چہروں کو بے نقاب کرنے والے ہر ہاتھ کو مضبوط کریں۔دامن جن کا صاف ہے انہیں تو پسوں نہیں پڑنے چاہئیں۔سیاسی رہنمائوں کا وطیرہ ہی بن گیا ہے کہ ان کے معمولی سے معمولی کارکن پر انگلی اٹھانے والے کسی بھی ایماندار سے ایماندار سرکاری افسر کو معاف ہی نہیں کیا جاتا ۔اس کی تو سر منڈواتے ہی اولوں سے تواضع کر دی جاتی ہے۔کیا یہی ہے سارا کاروبار سیاست؟کیا اسے کہتے ہیں عوام کی خدمت؟ حق تو یہ تھا کہ ڈی جی رینجرز کی بریفنگ کے بعد سب بڑے رضاکارانہ طور پر خود کو تطہیر کیلئے پیش کرنے کی پیشکش کر دیتے یا کم از کم اتنا کہہ ہی دیتے کہ وہ اپنی صفوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کو تیار ہیں اوراپنی اپنی پارٹیوں کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ تاکہ نظر بھی آتا کہ ہمارے سیاسی قائدین کے دامن صاف ہیں ،وہ بے داغ کردار کے مالک ہیںاور وہ قومی اداروں کواحترام کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ ایسا اگر نہیں بھی کیا گیا تو نہ سہی مگر ڈی جی رینجرز کے انکشافات کو ٟٟبے بنیاد،، یا ٟٟ بے ثبوت ،، قرار دینے میں اسقدر عجلت کا مظاہرہ کرنے کی کیا منطق تھی۔کیا موقع ہاتھ سے نکلا جارہا تھا یا مقاصد کچھ اور تھے۔ سیاسی اراکین کی جانب سے اداروں کی بے توقیری کے رجحان کی حوصلہ افزائی جاری رہی تو قانون کی حکمرانی کا خواب کبھی شرمندہء تعبیر نہیں ہو سکتا۔اور اگر یہ لوگ خود ہی قانون کی حکمرانی کے راستے کی دیوار بنے رہے تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہاں سب اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں مصروف ہیں قومی مفاد سے کسی کو کوئی سروکار نہیں اور پھر وہ دن دور نہیں جب عوام تلملا اٹھیں گے اور ان سے قوم پر رحم کرنے کی التجاء کردیں گے اور ساتھ ست سلام بھی۔ عوام کا حافظہ کمزور نہیں ،انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ ۷۰ء سے پہلے کا کراچی کیسا تھا اور ۷۰ء سے بعد کے کراچی کو کس کی نظر لگی۔لوگ جانتے ہیں کہ تب کراچی کی راتیں دن کا منظر پیش کر رہی ہوتی تھیں اور غریب لوگ فٹ پاتھ پر بھی بے خوف و خطر سکون سے سو سکتے تھے ۔ جبکہ آج کا کراچی بھی لوگوں کے سامنے ہے ۔

اگر ہم واقعی امن کی خواہش میں سنجیدہ ہیں اور ملک کا کچھ احساس ہے یا عوام کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو ہمیں بے جا ذاتی طمع و حرص کی لعنت کو نیست و نابودکر نا ہوگا اور خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے کی بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا اور قانون کی حکمرانی اداروں کے احترام کے بغیر ممکن نہیں ۔