کچھ دلوں میں پھر پاور پالیٹکس کی امنگیں اٹھ رہی ہیں، کپتان کیساتھ استعفے دیتے تو دوبارہ الیکشن ہو جاتا، ہماری کردار کشی نہ رکی تو اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے: زرداری

17 جون 2015

اسلام آباد(آن لائن + نوائے وقت رپورٹ) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہماری کردار کشی بند نہ کی گئی تو سب کا کچھا چٹھا کھول دوں گا، سابق صدر نے کہا پیپلز پارٹی جب ہلتی ہے تو سب ہل جاتے ہیں جس دن ہم کھڑے ہو گئے صرف سندھ نہیں کراچی سے فاٹا تک سب کچھ بند ہو جائے گا جو سوائے میرے کہنے کے کسی کے کہنے سے نہیں کھلے گا۔ کپتان کے ساتھ استعفیٰ دے دیتے تو فوراً الیکشن ہوجاتے۔ اسلام آباد میں پیپلزپارٹی فاٹا کے عہدیداروں کی تقریب حلف برداری ہوئی جس میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ کئی ماہ سے پارٹی کی کردار کشی کی جارہی ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ پیپلزپارٹی کمزور ہوگئی، در اصل ابھی باہر نکلنے کا وقت نہیں آیا ہم سیاسی گیم دیکھ کر ہی چال چلیں گے۔ ہماری کردار کشی بند نہ کی گئی تو سب کا کچا چٹھا کھول دوں گا۔ پاکستان بننے سے اب تک ایسی فہرست جاری کریں گے کہ پورا ملک ہل جائے گا۔ زرداری کا کہنا تھا کہ جنہوں نے جیل کا گرم پانی نہیں پیا انہیں جمہوریت کی قدر نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلے اور اس کی جڑیں مضبوط ہوں کیونکہ جمہوریت کی قدر انہیں ہے جنہوں نے گھر سے جنازے اٹھائے، میں مشرف دور میں جیل میں رہا لیکن خود کو بہادر کمانڈو صدر کہلانے والا 3 مہینے بھی جیل میں رہنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ ملک کو کتنا خطرہ ہے مشرف کو نہیں پتا، ہم نہیں چاہتے کہ ادارے کمزور ہوں، ہمیں پتا ہے کہ کتنے کیسز عدالت میں چل رہے ہیں، کچھ لوگ پاور پالیٹکس کرنا چاہتے ہیں، انہیں کھیلنے دیا جائے اور پاور انجوائے کرنے دی جائے، یہ ملکی معیشت کو درست کردیں تو سر آنکھوں پر ہوں گے۔ زرداری نے کہا کہ پی پی ہلتی ہے تو سب ہل جاتے ہیں، ہم جس کو روک لیتے ہیں وہ رک جاتے ہیں، مجھے طاقت سے کوئی سروکار نہیں عوام کی خدمت سے ہے، ہم سیاست کو بدلیں گے کیونکہ کچھ سیاسی اداکار خود ارب پتی بن گئے اور اب وہ سیاست کو بدلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا اور تمام پارٹیوں کو ساتھ رکھا لیکن کچھ لوگ میری مفاہمت کی سیاست کو میری غلطی سمجھتے ہیں ہمیں صدارات یا وزارت کا شوق ہوتا تو 2013 کے آر اوز الیکشن کے خلاف ہم بھی تحریک انصاف کے ساتھ استعفے دے دیتے تو اسی وقت الیکشن ہوجاتے لیکن میں (ن) کے ساتھ کھڑا رہا تا کہ کل کو وہ یہ نہ بولیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا 2 سال میں ہماری حکومت ختم کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جن کو کھیلنے کیلئے وکٹ دی ابھی انہیں کھیلنے دیا جائے۔ سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی پر الزامات لگانے والے قرآن کی روح سے ظالم ہیں جانتے ہیں کالعدم تنظیمیں کس کے اشارے پر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا میں 5سال تک جیل رہا بہادر کمانڈو 3ماہ کیلئے بھی تیار نہیں۔ میرے دل میں جمہوریت کی قدر اس لئے ہے کہ اپنے گھر سے جنازے اٹھائے ہیں۔ سب جگہ پیپلزپارٹی کو مضبوط کریں گے، تھوڑا انتظار تو کرو ابھی آپ لوگوں کو سیکھنا ہے اور مجھے سکھانا ہے، ابھی ان کو کھیلنے دو جنہیں ہم نے کھیلنے کیلئے وکٹ دی ہوئی ہے۔ الیکشن کو میں گھما پھرا سکتا ہوں، دوستوں کا ایمان چیک کررہا ہوں، اخونزادہ چٹان کو سینٹ میں 24کروڑ روپے میں خریدنے کی کوشش کی وہ نہیں بکے۔ آر او الیکشن ہی سہی، ملک میں جمہوریت تو ہے۔ ہمیں تنگ نہ کرو ورنہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اگر ہم شروع ہوئے پاکستان بننے سے آج تک کے سب جرنیلوں کا کچا چٹھا کھول دیں گے۔ بی بی کی شہادت پر کہا تھا ’’پاکستان کھپے‘‘ لیکن حد ہوتی ہے کسی بات کی۔ صرف ہمیں ہی جنگ آتی ہے کسی اور کو نہیں آتی۔ ہم اداروں کو کمزور نہیں کرنا چاہتے ہم آپ کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔ کالعدم تنظیموں کے پیچھے ’’را‘‘ ہے۔ دریں اثناء آصف زرداری نے کہا کہ فوج ہمارا اپنا ادارہ ہے آپ کو صرف 3سال رہنا ہے اور ہمیں ہمیشہ۔ ہمیں پتہ ہے عدالت میں کتنے کیس چل رہے ہیں اور کتنے چلنے والے ہیں۔ ان کے پالے ہوئے طوطے ٹائیں ٹائیں کررہے ہیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ اگر ہماری کردار کشی نہ رکی تو اینٹ سے اینٹ بجا دینگے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس آج شام طلب کرلیا گیا۔ اجلاس کی صدارت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور پارٹی امور کا جائزہ لیا جائے گا۔