زرداری کا بیان بلاجواز، ہتک آمیز ہے، نثار: وزیر داخلہ ہم سے نفرت کرتے ہیں: کائرہ

17 جون 2015

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + خبرنگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کا بیان بلاجواز نامناسب اور ہتک آمیز ہے۔ سابق صدر نے اہم قومی ادارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اپنی کوتاہیاں اور کمزوریاں چھپانے کے لئے قومی ادارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ زراری کے بیان پر ردعمل میں وزیر داخلہ نے کہا کہ گرتی ساکھ کی وجہ کوئی ادارہ نہیں پیپلز پارٹی کی اپنی کارکردگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری کے طرز سیاست سے قومی تشخص اور اداروں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے قومی ادارے کو اس وقت نشانہ بنایا جب جوان جانیں قربان کر رہے ہیں۔ یہ طرز سیاست خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ قابل مذمت ہے۔ ’’زرداری صاحب جو مرضی کہیں‘‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلح افواج اور اس کی قیادت کی عزت ہر پاکستانی کے دل میں ہے۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال کی کارکردگی کی بنیاد پر ایپکس کمیٹی میں رینجرز نے تجاویز دیں، کراچی میں رینجرز کی موجودگی تحفظ کا نشان ہے، ایشوز کو سیاسی بیانات کی بھینٹ چڑھا کر ہم قوم کی خدمت نہیں کرتے، ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، برطانوی پولیس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، آرمی ایکٹ آرڈیننس کی مدت ختم ہوگئی تھی، توسیع ضروری تھی۔ جو پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھاتا ہے اس کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کی جائے گی۔ میں پرامید ہوں رینجرز کی سفارشات پر عمل ہوگا۔ ڈی جی رینجرز نے 230 ارب روپے کے غیر قانونی فنڈز سے متعلق قانون سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی۔ وزیر داخلہ نے کہا رینجرز سرحدوں پر اور ملک کے اندر ملکی استحکام کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ملک بھر میں ضلع کی سطح پر 70 نئے پاسپورٹ آفس قائم کئے جائیں گے۔ پاسپورٹ آفس سے رشوت اور مافیا کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ کراچی میں آپریشن کمانڈر وزیراعلیٰ سندھ ہیں، اگر کسی کو رینجرز سے شکایت ہے تو وزیراعلیٰ سندھ یا ایپکس کمیٹی میں بات کرے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ وزیرداخلہ کی طرف سے آصف زرداری کے بیان پر ردعمل کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چودھری نثار پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں ان کی نفرت کا عالم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، آصف زرداری ایسی شخصیت ہیں جو مخالفوں کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ اداروں کا رویہ منفی رہا ہے۔ کیا جنرل (ر) اسد درانی نے عدالت میں اعتراف نہیں کیا کہ انہوں نے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کئے۔ جنرل حمید گل روز کسی نہ کسی چینل پر گلا پھاڑ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے آئی جے آئی بنائی۔ افتخار چودھری نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کیا؟ رینجرز کو ہمارے خلاف بیان دینے کی کیا ضرورت تھی۔ پیپلز پارٹی اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔