لاہور سمیت پنجاب کی مختلف جیلوں میں 13 مجرموں کو پھانسی دیدی گئی

17 جون 2015

لاہور (نامہ نگار + نمائندگان) لاہور سمیت پنجاب کی مختلف جیلوں میں 13 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ سزائے موت کے دو مجرموں کی پھانسی مو خر جبکہ ایک مجرم مدعی سے صلح ہونے پر پھانسی سے لٹکنے سے بچ گیا۔ گزشتہ برس دسمبر میں سزائے موت پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک 150 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔ اس موقع پر جیلوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔ کوٹ لکھپت جیل میں قتل کے مجرم مختار احمد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس موقع پر اسکے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں خاتون کے قاتل اللہ دتہ اور تین افراد کو قتل کرنے والے مجرم یونس کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔اسی جیل میں قتل کے مجرم ذوالفقار کی پھانسی سے چند منٹ قبل مدعی سے صلح ہو گئی اور سزا پر عملدرآمد روکدیا گیا۔ پھانسی پانیوالے کی نعشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں۔ بہاولپور سنٹرل جیل میں خاتون سمیت تین افراد کے قاتل غلام رسول اور ڈکیتی مزاحمت پر ایک شخص کو قتل کرنے والے مجرم اصغر کو پھانسی دی گئی۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قتل کے مجرم مختار احمد کو پھانسی دی گئی جبکہ ایک مجرم خضرحیات کی پھانسی حکم امتناعی آنے پر مو خر کردی گئی۔ جہلم کی ڈسٹرکٹ جیل میں رشتہ کے تنازع پر مخالف کو قتل کرنے والے سابق ٹریفک ہیڈ کانسٹیبل عبدالرؤف کو پھانسی دی گئی۔ سیالکوٹ کی ڈسٹرکٹ جیل میں تین افراد کے قاتل بشارت کو پھانسی دی گئی۔ چکوال کے گائوں ارڑ مکھال میں 8 افراد کے قاتل تین مجرموں اکرام، رفیق اور جاوید کو اڈیالہ جیل میں گزشتہ روز پھانسی دیدی گئی۔ گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں 12 سالہ لڑکی سے زیادتی کے مجرم اشرف کو پھانسی دی گئی جبکہ تین افراد کے قتل کے مجرم سعید کی پھانسی ایک مدعی کی جانب سے صلح ہونے پر مو خر کر دی گئی۔ڈیرہ غازیخان سنٹرل جیل میں بھتیجے کے قاتل مجرم اصغر کو پھانسی دیدی گئی۔