زرداری کی کال پر زوردار احتجاج مشکل ہے: خورشید شاہ کے عشایئے میں باتیں

17 جون 2015
زرداری کی کال پر زوردار احتجاج مشکل ہے: خورشید شاہ کے عشایئے میں باتیں

اسلام آباد (نواز رضا، سجاد ترین) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں قائمقام صدر رضا ربانی‘ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق‘ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن‘ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف زرداری، وزیر اطلاعات پرویز رشید‘ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر سراج الحق سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ خورشید شاہ کی دعوت بہت بڑی سیاسی تقریب بن گئی جس میں شرکاء بھارتی وزیراعظم کے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو ٹیلی فون‘ آصف علی زرداری کے خطاب اور خواجہ آصف کے ایم کیو ایم کے حوالے سے بیان پر تبصرے کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آصف زرداری کی تقریر سے ملک میں ایک نئی لڑائی شروع ہونے کا خدشہ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ سندھ میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ ہوتا ہے ایسا پنجاب میں کیوں نہیں ہوتا پیپلزپارٹی کے ایک اہم رہنما نے کہا کہ اب بی بی زندہ نہیں ہے اور پانچ سالوں کے دوران ہمارے وزیروں نے کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کے بعد زرداری نے احتجاج کی کال دی تو ان کے ساتھ ان کیَ "یار" بھی ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔ پیپلزپارٹی کے لیڈر ایک دوسرے سے یہ بھی سوال کر رہے تھے کی اس تقریر سے پیپلز پارٹی کا گراف اپ ہو ا ہے یا نہیں تو وہ لوگ جو پیپلزپارٹی کا چہرہ سمجھے جاتے ہیں ان کا جواب تھا کہ تقریر سے پارٹی کاگراف اپ نہیں ہو سکتا ہے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے کہا کہ بھٹو بننا ہے تو انجام بھی بھٹو والا یاد رکھا جائے ڈالر نہ بنائے جائیں۔ شرکاء نے کہاکہ نریندر مودی اپنے طرز بیان سے شرمندہ ہوا اس لئے اس نے وزیر اعظم نواز شریف کو فون کیا‘خطے میں ا من و استحکام ضروری ہے۔ تقریب میں بختاور، آصفہ بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید‘ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ‘ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ‘ وفاقی وزراء خواجہ آصف ‘ اسحاق ڈار‘ریاض پیرزادہ ‘ مشاہد اللہ خان‘ کامران مائیکل ‘وزرائے مملکت عابد شیر علی ‘ بیرسٹر عثمان ابراہیم ‘ جام کمال اور دیگر تمام پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اس دوران مختلف رہنمائوں کا کہنا تھا کہ آصف زرداری مفاہمت کی سوچ رکھنے والے ہیں تاہم ایسے موقع پر ان کا جذباتی انداز حیران کن ہے۔ تقریب میں خواتین پارلیمنٹرینز کے بیٹھنے کیلئے علیحدہ جگہ مختص کی گئی تھی ہال اس موقع پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔