ایف بی آر کے3 سابق چیئرمینوں کے خلاف تحقیقات کا حکم

17 جون 2015

اسلام آباد (آئی این پی) نیب کے انتظامی بورڈنے اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے پر ایف بی آر کے تین چیئرمینوں سمیت 5 کیسز کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ چیئرمین نیب قمرزمان چودھری کی زیر صدارت اجلاس میں سابق چیئرمین ایف بی آر سلمان صدیق‘ عبداللہ یوسف اور علی ارشدحکیم کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی گئی۔ ان کے ساتھ ساتھ تحقیقات میں سابق کنٹرولر کسٹمز اقبال منیب ، ممبر پی اے سی سی ٹیم اور عاشر عظیم گل، ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز عاشر عظیم کیخلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی، ملزموں نے غیر ملکی کمپنی کو ایف بی آر کا ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا ٹھیکہ غیر قانونی طو رپر دیا تھا جس سے قومی خزانے کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری انکوائری تاندلیانوالہ شوگر ملز کے حکام کے خلاف ہے ، اس پر ملزموں پر 6922736 ڈالر کی مشتبہ منتقلی کا الزام ہے ، تیسری انکوائری عابد سلک ملز کے مالکان کے خلاف ہے جو کہ 479.893 ملین روپے کے قرض نادہندگان ہیں، چوتھی انکوائری اے سی ای سکیورٹیز کے سربراہان کے خلاف ہے جن پر فراڈ، بدعنوانی اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو دھوکہ دہی کے الزامات شامل ہیں، ملزمان ہارون اقبال، چیف ایگزیکٹو افسر ملز اور ڈائریکٹر شامل ہیں، پانچویں انکوائری نجم الثاقب کنٹریکٹر ہاشمی ٹریڈرز کے خلاف ہے جنہوں نے محکمہ تعلیم میں لاکھوں روپے کی خرردبرد کی، نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سابق چیئرمین ڈی پی سی ارشد فاروق فہیم کے خلاف بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے ، دیگر ملزمان میں محمدعلی اور وزارت نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز کے افسر شامل ہیں، ان پر ادویات کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافے کا الزام ہے۔ انتظامی بورڈ نے سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سندھ جامشورو نذیرمغل، سابق رجسٹرار نوازناریجو اور محمدحسین شیخ پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے اس حوالے سے نیب کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ 6 ہفتوں میں اس سلسلے میں رپورٹ جمع کروائیں، نیب کے انتظامی بورڈ نے تین سابق افسران عبدالقیوم، نعمت اللہ خان، طارق اور کنٹریکٹر سعیداحمد کی رقوم کی رضاکارانہ واپسی کی درخواست منظور کرلی ہے۔ پی ٹی وی کی سابق انتظامیہ کے خلاف غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کے حوالے سے تحقیقات کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ مرزا اور دیگر افراد پر مختلف لوگوں کی مختلف پوسٹوں پر غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں اور آئی ٹی سے متعلقہ آلات کے پیپرا رولز کے خلاف ٹھیکہ دینے کے الزامات تھے اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر اس حوالے سے مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائیگی۔ چیئرمین نیب قمر زمان چودھری نے کہا کہ نیب ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔