روہنگیا مسلمانوں کو میانمار کی شہریت دلائی جائے: او آئی سی وفد بان کی مون سے ملاقات کریگا

17 جون 2015

نیویارک، جدہ (نمائندہ خصوصی+صباح نیوز) اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اسلامی تعاون کونسل کا ایک اجلاس ہوا جس میں ایک وفد تشکیل دیا گیا جو یو این سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کرکے انہیں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر او آئی سی کے سخت تحفظات سے آگاہ کرے گا اور وہاں انسانی حقوق کی بحالی کی ضرورت پر زور دے گا۔ روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی دادرسی کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے وفد بھیجنے کی تجویز پاکستان نے دی تھی۔ عہدیداروں کے مطابق وفد جلد تشکیل دیدیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کی درخواست پر سفارتی سطح کے اجلاس میں روہنگیا مسلمانوں کی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس سانحے پر اجتماعی ردعمل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ میں او آئی سی گروپ کے چیئرمین کویت کے سفیر منصور العتیبی نے اجلاس کی صدارت کی۔ او آئی سی نے پہلے قدم کے طور پر ملیحہ لودھی کی تجویز کو قبول کیا۔ اجلاس میں پاکستانی تجویز پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس ماہ کے آغاز میں روہنگیا مسلمانوں پر کویت میں او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کو بھی سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجا جائے گا۔ اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے صرف انسانی حقوق کی بحالی کافی نہیں بلکہ میانمار حکومت سے مسلمانوں کو شہریت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ ملیحہ لودھی نے اپنے اجلاس میں کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کی بنیادی وجہ ان کی شہریت سمیت بنیادی انسانی حقوق سے انکار ہے۔ ملیحہ لودھی نے 7000 مسلمانوں کو عبوری پناہ گاہ فراہم کرنے کے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے یو این سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں میانمار حکومت پر روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے کیلئے اخلاقی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے پھر کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ یمن کی صورتحال کے بارے میں جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی سلامتی اور امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادی افواج کے مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کو درپیش خطرات پر تشویش ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جی سی سی سے قریبی تعاون کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ یمن کے بحران کا پرامن حل خطے میں امن اور سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کریگا۔ منگل کے روز یہاں اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) کے یمن کی صورتحال پر وزراء خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گرد گروپوں سے اس خطے کو مزید غیر مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے 23 اپریل کو ریاض کے دورہ کے دوران صدر عبدالرب منصور ہادی سے ملاقات میں یمن کی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ’’آپریشن ڈیسائیسو سٹارم ‘‘ کے خاتمہ اور بحران کے سیاسی حل کی کوششوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کا خیرمقدم کیا۔