قومی اسمبلی: حکومت مودی کے بیانات کا نوٹس لے، اپوزیشن: فل ٹائم دفاع، خارجہ کے وزیر مقرر کئے جائیں: جمالی

17 جون 2015

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ حکومت بھارتی وزیر اعظم کے پاکستان کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لے‘ وزیراعظم اہل کراچی کے لئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر معافی مانگیں۔ پی ٹی آئی کے جنید اکبر نے کہا حکمران اپنا رویہ تبدیل کریں ترجیحات میں تبدیلی لائیں ورنہ ترقیاتی بجٹ فضول خرچیوں پر ضائع ہو تا رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی آسیہ ناز تنولی نے کہا وزیر اعظم ہائوس کے کتوں کا بڑا ذکر سنا مگر وہاں کوئی کتا دکھائی دیا نہ وزیراعظم ہائوس میں کوئی فضول خرچی دکھائی دی۔ وزیراعظم سادگی سے رہتے ہیں پی پی پی کے رمیش لال نے کہا میرظفراللہ جمالی نے ہندوئوں کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کئے جس سے اقلیتی ارکان کی دل آزاری ہوئی ان کے الفاظ کو کارروائی سے حذف کرایا جائے۔ جے یو آئی کے مولانا محمد گوہر نے کہا بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔ حکومت سودی نظام معیشت کا خاتمہ کرے۔ بجٹ میں دینی جامعات اور مدارس کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ ایم کیو ایم کے اقبال محمدعلی نے کہا حکمران کراچی آپریشن پر خوش ہو رہے ہیں وہ دن قریب ہیں جب وہ بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اوران کیلئے رونے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا ملکی حالات کی نزاکت کے پیش نظر فل ٹائم وزیر دفاع اور وزیر خارجہ مقرر کئے جائیں،بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے، بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات پر فوج اور سول حکومت کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، سندھ اور بلوچستان میں رینجرز کو فری ہینڈ دیا جانا چاہیے، سندھ حکومت امن وامان کیلئے رینجرز بلاتی ہے تو پھر صوبائی اسمبلی میں تنازع کا کوئی جواز نہیں، سٹیبلشمنٹ کی عزت کی جانی چاہیے، دھاندلی کا شور کرنے والے پورے ملک کوعذاب میں نہ ڈالیں، اگلے انتخابات کا انتظار کریں، دھاندلی کے ثبوت ہیں تو کمشن میں سامنے لائیں۔ جس نے صرف ٹھٹھہ کا نام سنا ہے اور پورا ملک نہیں دیکھا، اس کو وزیر منصوبہ بندی وترقی بنا دیا گیا ہے۔ اب ملک باریوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، آج ہماری کل تمہاری باری والی بات اب نہیں چلے گی۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن میاں عبدالمنان نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا جہانگیر ترین ان کے پاس شوگر مافیا ہیں اورکہتے ہمیں ہیں، پھر اسی کے جہاز پر گھومتے ہیں کچھ شرم آنی چاہیے۔ تحریک انصاف والے سٹیٹ بنک کی رپورٹ کو بھی مکمل طور پر غلط کہتے ہیں تو پھر ہمیں بتائیں کیا درست رپورٹیں صرف بنی گالہ میں چھپتی ہیں۔ تحریک انصاف کے ایم این اے عاقب اﷲ نے کہا کہ لیگی رکن نے غیر پارلیمانی الفاظ ادا کئے جس سے پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوا‘ پیپلز پارٹی کے عبدالستار بچانی نے ایک سال کیلئے اسحاق ڈار کو ہٹا کر مسلم لیگ (ن) کے رانا حیات کو وزیر خزانہ بنانے کا مطالبہ کیا جبکہ مخدوم خسرو بختیار نے کہا حکومت بنک آف سائوتھ پنجاب اور بنک آف نارتھ سندھ کا قیام عمل میں لائے‘ ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے کہا ترقیاتی بجٹ میں کراچی کے لئے ایک فیصد فنڈ بھی نہیں رکھے گئے۔ ارکان کی عدم دلچسپی برقرار رہی زیادہ تر حکومتی و اپوزیشن نشستیں خالی پڑی تھیں اور ارکان اسمبلی خالی کرسیوں کو تقریریں سناتے رہے البتہ وزیراعظم نواز شریف کی قومی اسمبلی آمد پر ایوان میں ارکان کی تعداد بڑھ گئی اور قومی اسمبلی کے اجلاس کا کسی حد تک سماں پیدا ہوا۔ حکومتی رکن اسمبلی مخدوم خسرو بختیار نے کہا اگر موجودہ حکومت طویل المعیاد منصوبہ بندی کے تحت چلے تو 2025ء تک پاکستان کی فی کس آمدن چار ہزار ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔ پی پی پی کے عبدالستار بچانی نے کہا وزیر خزانہ نے آئی ا یم ایف سے قرضہ لیکر خزانے کو بھرا ہے۔