جیل توڑنے کے الزام پر مرسی کی سزائے موت برقرار: 2 مقدمات میں معزول مصری صدر اخوان المسلمون کے 17 کارکنوں کو عمر قید

17 جون 2015

قاہرہ، استنبول (آئی این پی + اے ایف پی )مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر محمد مْرسی کو 25 برس قید کی سزا سنادی، یہ سزا انہیں غیر ملکیوں کے ساتھ ساز باز ، جاسوسی سے متعلق ایک مقدمے میں سنائی گئی ۔عالمی میڈیا کے مطابق اخوان المسلمون کے رہنما محمد بدیع اور 17 دیگر افراد کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے اخوان المسلمون کے ایک اور رہنما خیرات الشاطر 13 مزید افراد کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سزا پانے والے افراد اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ محمد مرسی پر الزام تھا کہ انھوں نے فلسطینی تنظیم حماس، لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ اور ایران کے لیے جاسوسی کی۔عدالت نے سابق صدر کو 2011 میں بڑے پیمانے پر جیل سے فرار ہونے والوں مجرموں کی مدد کرنے کے حوالے سے دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ، انہیں گزشتہ ماہ 100ساتھیوں سمیت یہ سزا سنائی گئی تھی، جیل توڑنے کے الزام پر بااثر مذہبی رہنما شیخ یوسف القرضاوی کو عدم موجودگی میں سزائے موت سنا دی گئی۔ محمد مرسی پہلے ہی مظاہرین کو نظر بند کرنے اور ان پر تشدد کروانے کے المام میں بیس سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔کرک وزیر خارجہ مولیت کاسوگلو نے ردعمل میں کہا مرسی اور اخوان المسلمون کے دیگر رہنمائوں کو سزا ناانصافی ہے، یہ سیاسی فیصلہ ہے جس پر ہمیں حیرانی ہوئی انہوں نے یہ بات پریس کانفرنس میں کہی، ادھر اخوان المسلمون کے سینئر رہنما حامد نے کہا یہ فیصلہ مصر میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔امریکہ نے دکھ کا اظہار کیا ہے، ترجمان وائٹ ہائوس نے کہا فیصلہ سیاسی انتقام ہے۔ بان کی مون نے اظہار تشویش کیا ہے۔