بجٹ کی تیاری، محکموں کو رقم کا اجرا قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے کرایا جائے: پنجاب اسمبلی میں مطالبہ

17 جون 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خبرنگار+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر+ سپیشل رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کیلئے پیش کئے جانیوالے بجٹ پر عام بحث کے دوران ارکان نے بجٹ کی تیاری اور محکموں کو مختص رقم کا اجراء ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی لوگوں سے مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل بیورو کریسی کی آنکھوں سے اوجھل رہ جاتے ہیں، وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے پنجاب ترقی کی راہ پر گامز ن ہو گیا ہے پاکستان کو اس طرف لانے کے لئے مزید دو، تین ’’شہبازشریف‘‘چاہئیں، امپائر کی انگلی کھڑی کراکے وفاقی حکومت کو گرانے کی سازش کرنے والوں کو خیبر پی کے کے لئے اسی وفاق سے ملنے فنڈز سے کل بجٹ کا78فیصد میسر آیا ، اگر صوبے اور ملک کو ترقی دینی ہے تو کسان کو خوشحال اور زراعت کو ترقی دینا ہو گی، جبکہ ڈاکٹر وسیم اختر نے بجٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں سودی نظام چل رہا ہے، ہم آزاد ملک ہیں حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ڈرنے کی بجائے اپنی آزاد پالیسی بنائے۔ پنجاب اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے جانیوالے بجٹ پر عام بحث کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ 15منٹ کی تاخیرسے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کی صدارت میں شروع ہوا۔ ق لیگ کے احمدشاہ کگھہ نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا دیہاتوں میں والدین لڑکیوں اور لڑکوں کی اکٹھی تعلیم کو درست نہیں سمجھتے اس لئے اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ ایسا میکنزم بنایا جائے جس کے تحت حکومت کسانوں سے ان کی اجناس خریدے۔ شہباز شریف ہمارے بھی وزیر اعلیٰ ہیں، بلکہ ہم انکے مقابلے میں جیت کر آئے ہیں ہماری اہمیت زیادہ ہونی چاہیے ۔ حکومتی رکن اسمبلی عبد الرزاق ڈھلوں نے کہا کہ اگر آج لاکھوں افراد ائرکنڈیشنڈ میٹرو میں سفر کر رہے ہیں، غریبوں کو روزگار کی غرض سے 50 ہزار گاڑیاں مل رہی ہیں تو اپوزیشن کو کیوں برا لگ رہا ہے۔ امجد جاوید نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب کے کام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دہشت گردی کا شکار ہونے، دھرنوں اور ہڑتالوں میں آئیڈیل بجٹ پیش کرکے تاریخ رقم کی گئی۔ ڈاکٹر افضل نے کہا بہاولپور میں100میگا وات کا سولر پلانٹ لگایا گیا لیکن وہاں سے صرف تیس میگا واٹ بجلی حاصل ہوتی ہے۔ حکومتی رکن اسمبلی چودھری اسداللہ نے کہا میں پیشگی بتانا چاہتا ہوں کہ آنے والی فصلوں میں کسانوںکو اس سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہمیں فی ایکٹر پیداواری اخراجات میں کمی اور پیداواربڑھانا ہو گی۔ رانا افضل نے کہا بجٹ میں پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی گئی ہے جو خوش آئند ہے۔ عظمیٰ زاہدبخاری نے کہا کہ عمران خان نے پتہ نہیں آخری مرتبہ کب زمین پر سفر کیا تھا لیکن انہیں میٹرو میں سفر کرتے ہوئے لاکھوں افراد سے چڑ ہے ۔ میٹرو کی مخالفت بھی کی جاتی ہے او رپشاور میں اس کی فزیبلٹی بھی تیار کی جاتی ہے۔ شاویز خان نے کہا بجٹ سے دیہات بھی ترقی کر کے شہروں کی سطح پر آ ئیں گے۔ اپوزیشن رکن اعجاز مہاروی نے کہا کہ بجٹ بناتے وقت چند سیاسی لوگ مشاورت کرتے ہیں اور باقی کام ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے والی بیورو کریسی کا ہوتا ہے۔ بجٹ کی تیاری میں سیاسی لوگوں کی مشاورت کو شامل کیا جائے ۔ حکومتی رکن اسمبلی خالد غنی چودھری نے کہا ایوان کی قائمہ کمیٹیاں بنی ہیں لیکن انکے اجلاس ہی نہیں ہوتے۔ میرا مطالبہ ہے کہ بجٹ کی تیاری کا کام قائمہ کمیٹیوں کو دیا جائے۔ نبیلہ حاکم علی نے کہا بجٹ بڑھانے سے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کا استعمال او رچیک اینڈ بیلنس سے ہی ہم اپنے فرائض سے سبکدوش ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ساہیوال میں زرعی یونیورسٹی او رہوم اکنامکس کالج دیا جائے۔ آصف محمود نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے کیلئے انٹرنیشنل سٹینڈردڈ کو اپنایا جائے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر وسیم اختر کی طرف سے پہلا ’’زنانہ بجٹ‘‘ موصول ہونے کے الفاظ استعمال کرنے پر حکومتی بنچوںسے تعلق رکھنے والی خواتین نے شدید احتجاج کیا جس پر سپیکر نے الفاظ کارروائی سے حذ ف کرادئیے۔ وسیم اختر نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلا زنانہ بجٹ موصول ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ جس پر عظمیٰ زاہد بخاری سمیت دیگر خواتین نے شدید احتجاج کیا ۔ساتھ بیٹھے میاں اسلم اقبال نے کہا کہ کیا زنانہ غیر پارلیمانی الفاظ ہیں اگر ایسا ہے تو زنانہ کے ساتھ مردانہ بھی کر لیں جس پر ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ چلیں زنانہ، مردانہ بجٹ پر بحث کر لیتے ہیں۔ وسیم اختر نے کہا خواتین ارکان نے تو احتجاج شروع کر دیا حالانکہ میں خاتو ن وزیر خزانہ کو تحسین پیش کرتا ہوں۔ بجٹ پر عام بحث کے دوران عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کی تقریر کے اختتام پر پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے کہا کہ جتنی مرضی تقریریں کر لیں وزارت پھر بھی نہیں ملے گی جس کے بعد وہ اٹھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔ تاہم عظمیٰ بخاری نے ان کے ریمارکس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خود بوٹ پالش کرکے وزارت لی اور اسمبلی میں ناچ ناچ کر پرویز مشرف کو وردی میں دس سال صدر منتخب کرانے کی باتیں کرتے رہے۔ علاوہ ازیں وسیم اختر نے صوبائی بجٹ 2015-16ء کو غیر آئینی اور وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ کے فیصلہ کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب حکومت صوبہ کو غیر سودی طور پر چلانے کے لئے اقدامات کرے اور پنجاب بنک کے معاملات کو بھی سود سے پاک کیا جائے۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں تسلیم کیا یہ بجٹ بیوروکریسی نے بنایا ہے۔ قاضی عدنان فرید نے کہادو ملینافراد کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ان کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس سال امید ہے کہ قطر میں ایک لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ انیس قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا تحصیل احمدپورشرقیہ کو ڈسٹرکٹ بنایا جائے۔ بعدازاں اجلاس آج بدھ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔علاوہ ازیں وزیر خزانہ پنجاب ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک عوام دوست، متوازن اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں وسائل کے اندر رہتے ہوئے اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کو ملازمین خواہ وہ نجی شعبہ میں ہوں یا سرکاری ان کی مشکلات کا احساس ہے۔