آئین نے آزادی صحافت کی ضمانت دے رکھی ہے، ہم اسے یقینی بنائیں گے: جسٹس عظمت سعید

17 جون 2015

اسلام آباد (نمائند نوائے وقت)سپریم کورٹ نے میڈیا کمشن کی رپورٹ کے تحت میڈیا کے لئے ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران پی بی اے، وزارت اطلاعات و نشریات اور دیگر فریقین کو کسی متفقہ ضابطہ اخلاق کے بارے میں اتفاق کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے سماعت 18 جون تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر فریقین کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو عدالت اپنا حکم جاری کرے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت کے سابق حکم کی روشنی میں فریقین کے مابین میٹنگ ہوئی تھی جس میں فریقین کی جانب سے مرتب کئے گئے ضابطہ ہائے اخلاق پر غور کیا گیا اور ان میں سے 40نکات پر اتفاق بھی ہو گیا ہے، تاہم اب بھی کچھ نکات پر اتفاق نہیں ہے، جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے چینلز کی نشریات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں، اس لئے ہمیں کوئی معیار مقرر کرنا ہونگے، میڈیا کوئی مادر پدر آزاد ادارہ نہیں ہے، کچھ حساس معاملات بھی ہوتے ہیں، میرے اور میرے خاندان کے حوالہ سے میڈیا میں بہت کچھ آیا ہے، جو کہ سراسر جھوٹ ہے، لیکن میں نے کوئی پروا نہیں کی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کی مرضی کے بغیر اس کا انٹرویو نہیں دکھانا چاہیے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آئین نے آزادی صحافت کی ضمانت دے رکھی ہے ہم اسے یقینی بنائیں گے۔