گرمی میں طویل لوڈشیڈنگ سے کاروبار ٹھپ، پیر محل اور نارنگ منڈی میں مظاہرے

17 جون 2015

لاہور + نارنگ منڈی+پیر محل (نامہ نگاران) شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا جس کے باعث کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے اور لوگ سراپا احتجاج بنے رہے جبکہ پیر محل اور نارنگ منڈی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور لوڈشیڈنگ کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی، کئی علاقوں میں پانی کی قلت بھی برقرار رہی۔ بہاولپور میں بجلی کے تار ٹوٹنے سے پانی میں کرنٹ آ گیا اور پانی میں کھیلتا ہوا 7 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔ پیر محل سے نامہ نگار کے مطابق نواحی قصبہ سندھیلیانوالی میں مسلسل 36گھنٹے غیر اعلانیہ بجلی بندش پر مذکورہ قصبہ کے شہریوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے ملتان روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے ٹائروں کو آگ لگا کر مسلسل دو گھنٹے تک بدترین بجلی لوڈشیدنگ کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت اور واپڈا کے خلاف سینہ کوبی کرتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی۔ سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنے سے بیشتر مسافر بسوں اور ویگنوں میں گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے متعلقہ تھانہ کی پولیس اور واپڈا کے افسران موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے مظاہرین کو غیر اعلانیہ بجلی لوڈشیڈنگ پر تمام تحفظات کو ختم کروانے کی یقین دہانی کروائی۔ مظاہرین کا کہنا تھا گذشتہ کئی دنوں سے سندھیلیانوالی اور ملحقہ دیہات میں طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کا عمل جاری ہے جس کی وجہ سے محنت کشوں کے بیروزگار ہو جانے کی وجہ سے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے اگر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ہم گریڈ سٹیشن پیر محل کا گھیرائو کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق نارنگ منڈی کے سرحدی گائوں لونگ والا میں بجلی کا ٹرانسفارمر جل جانے کے باعث بجلی کی بندش اور شدید گرمی میں دو عورتوں سمیت چار افراد بیہوش ہونے پر پورا گائوں سراپا احتجاج بن گیا۔ دیہاتیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ 20 روز سے ٹرانسفارمر جل جانے سے پورا گائوں قیامت خیز گرمی کے باعث بجلی سے محروم ہے۔ مشتعل مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے واپڈا حکام سے نئے ٹرانسفارمر کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ وہاڑی سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ جس سے مریض، بچے، بوڑھے، خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔ شدید گرمی اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے صارفین کا جینا دشوار کردیا۔ شہریوں نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ بہاولپور سے نامہ نگار کے مطابق بہاولپور میں شدید بارش کے باعث مختلف علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ یونیورسٹی چوک بگھی خانہ کے سامنے اور پریس کلب کے عقب میں موجود مسجد میں زیرتعلیم سات سالہ فہیم مسجد کے سامنے جمع بارش کے پانی میں کھیل رہا تھا کہ ایک ٹرک کے گزرنے سے بجلی کے تار ٹوٹنے سے پانی میں بجلی آ گئی جس سے فہیم اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔عارف والا سے نامہ نگار کے مطابق بجلی کی 12 گھنٹے کی طویل ترین لوڈشیڈنگ کے باعث شہری گرمی سے نڈھال ہوگئے جبکہ پانی کی قلت رہی اور لوگ پانی کی تلاش میں سارا دن مارے مارے پھرتے رہے۔ بجلی صبح 6 بجے گئی اور شام چار بجے آئی۔