3400 میگاواٹ کے کوئلے گیس بجلی منصوبوں کی منظوری

17 جون 2015

اسلام آباد(آئی این پی + صباح نیوز) پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے تھر کوئلے کے 1400 میگا واٹ کے بجلی کے منصوبوں کی منظوری دیدی جو تھر کے علاقے میں قائم کئے جائیں گے‘ یہ 660 میگا واٹ کے پہلے تھر کے کوئلے سے قائم ہونے والے مجوزہ منصوبے کے بعد دوسرا بڑا منصوبہ ہے جو نجی شعبے میں قائم کیا جا رہا ہے جس سے سستی بجلی کا حصول ممکن ہو گا اور یہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت ترجیحی منصوبہ ہے جو 2017-18ء میں اپنی پیداوار شروع کرے گا۔ منگل کو وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی زیرصدارت بورڈ کا 101 واں اجلاس ہوا جس میں پی پی آئی بی‘ چائنہ تھری گورجز اور سلک روڈ فنڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت سہ فریقی لیٹر آف سپورٹ کی منظوری بھی دی گئی جو صوبوں ‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں میں معاونت فراہم کرے گا۔ اجلاس میں 150 میگا واٹ کے عارف والا میں کوئلے کے منصوبے کے لیٹر آف سپورٹ کی منظوری بھی دی جبکہ 1200 میگا واٹ کے کوئلے کے ساہیوال میں منصوبے ‘1320 میگا وٹ کے درآمدی کوئلے کے منصوبے ‘ پورٹ قاسم کراچی اور 1320 میگا واٹ کے حب میں درآمدی کوئلے کے منصوبوں کیلئے لیٹر آف سپورٹ جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ ان منصوبوں سے بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا اصل ہدف سستی بجلی کا حصول ہے جس کے لئے مقامی وسائل سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور منصوبے وقت پر مکمل کئے جائیں۔ دریں اثناء وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے امریکی کمپنی کو گیس کے 3 پاور پلانٹس لگانے کی منظوری دیدی، منصوبے سے 2 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔ منگل کو خواجہ محمد آصف سے امریکی کمپنی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفاقی و زیر پانی و بجلی نے امریکی کمپنی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ راہداری منصوبے میں بجلی کے متعدد پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔ واضح رہے کہ امریکی کمپنی امریکن ایتھون نے پاکستان میں گیس سے چلنے والے چھ ہزار میگا واٹ کے پاور پلانٹس لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حکومت نے ملک میں توانائی پالیسی کے حوالے سے انقلابی اصلاحات کی ہیں۔اب پرائیویٹ شعبہ پیدا شدہ بجلی کو منتقل کرنے کے لیے اپنی ٹرانسمیشن لائن بھی بجھا سکتا ہے اور حکومت اس بجلی کو خریدے گی۔نئی توانائی پالیسی اور بجلی پیدا کرنے کی پالیسی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بہتر بنائی گئی ہے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی وزارت کی طرف سے امریکی کمپنی کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائیگی۔اس حوالے سے وزارت پانی و بجلی نے پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کو ہدایات جاری کر دیں۔