بہت ہو چکا، قومی اسمبلی میں مہاجروں کا مذاق اڑایا گیا اور پورا ایوان خاموش رہا، یہ ناقابل برداشت ہے: قائد متحدہ

17 جون 2015

آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت نہیں کی، بتایا جائے مہاجروں کا کیا مقام ہے، فاروق ستار: احتجاج کا اعلان، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع
لندن (آئی این پی+ آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ منگل کی صبح نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں الطاف حسین کا کہنا تھا قومی اسمبلی میں مہاجروں کا مذاق اڑایا گیا۔ بہت ہوچکا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی قربانیوں پر خطِ تنسیخ کھینچ دیا ہے، مہاجروں کا مذاق اڑایا گیا جو ناقابل برداشت ہے۔ قومی اسمبلی میں متحدہ کے خلاف خواجہ آصف کے بیان پر انہوں نے احتجاجاًَ پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا۔ الطاف حسین کا کہنا تھا پوری قومی اسمبلی خواجہ آصف کے بیان پر خاموش بیٹھی رہی۔ خواجہ آصف نے ایوان میں کہا صرف لدھیانہ اور جالندھر سے ہجرت کرنیوالے مہاجر ہیں جبکہ مشرقی پنجاب کے علاوہ یو پی، سی پی، بہار، حیدر آباد دکن، علی گڑھ، لکھنو، آگرہ سے بھی 20 لاکھ افراد نے ہجرت کی تھی۔ الطاف نے کہا اب محسوس ہوگیا ہے لوگ مجھے سننا نہیں چاہتے تھے، پارٹی کا بانی تو میں ہوں مگر قیادت سے خود کو الگ کرتا ہوں۔ انکا کہنا تھا وہ 37 سال سے مسلم اقلیتوں کے مسلمانوں کو متحد کرنے کی جدوجہد کررہے تھے لیکن اب مایوس ہو کر قیادت چھوڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارا مذاق اڑایا گیا جس پر پوری قوم خاموش رہی۔ خیال رہے الطاف حسین کی جانب سے کئی بار پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا گیا مگر پھر وہ دوبارہ پارٹی قیادت سنبھال لیتے ہیں۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے خواجہ آصف اپنے بیان پر پانچ کروڑ مہاجروں سے معافی مانگیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا خواجہ آصف نے جو زبان استعمال کی وہ انتہائی نازیبا اور شرانگیز ہے اور انکے اس بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بتایا جائے پاکستان میں مہاجروں کا کیا مقام ہے اور انکی کیا حیثیت ہے۔ خواجہ آصف کے بیان پر نوازشریف اپنی پارٹی پوزیشن واضح کریں۔ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا پاکستانی سیاست میں کبھی مہاجروں کو بھوکا کہا گیا، کبھی زندہ لاشیں کہا گیا تو کبھی کالا کلوٹا کہا گیا۔ انکا کہنا تھا ہجرت کرکے آنیوالے وہاں سے اپنے حصے کا پاکستان لیکر آئے تھے اور قیام پاکستان سے 80ء کی دہائی تک بنک، انشورنس کمپنیاں کس کی تھی۔ آن لائن کے مطابق ایم کیو ایم نے مہاجروں کیخلاف نازیبا اور شرانگیز الفاظ استعمال کرنے پر کہا ہے کہ معافی نہ مانگنے تک قومی اسمبلی اور سینٹ اجلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔ فاروق ستار اور حیدر عباس نے کہا وزیر دفاع نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ’’جعلی مہاجر ‘‘کا لفظ استعمال کر کے تحریک پاکستان کی نفی کی ہے اور مہاجر قوم کی دلآزاری ہوئی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مخالفت نہیں کی، ہمارا اختلاف صرف یہ تھا بجٹ سیشن کے دوران کوئی اور ایجنڈا زیر بحث نہیں آسکتا، بتایا جائے پاکستان میں مہاجروں کا کیا مقام ہے اور انکی کیا حیثیت ہے۔ خواجہ آصف کے بیان پر وزیر اعظم اپنی پارٹی پوزیشن واضح کریں اور خواجہ آصف اپنے بیان پر پانچ کروڑ مہاجروں سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا مہاجروں کو کہہ دیا جاتا پاکستان انکا نہیں، یہاں آنے کی زحمت نہ کریں تو زیادہ بہتر ہوتا، پاکستان بچانے کیلئے مشرقی پاکستان میں دی گئی قربانیوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ پاکستان بچائیں گے، کے نعرے کا یہ صلہ دیا گیا، 5 کروڑ مہاجروں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ آج ہماری قربانیاں رد کی جا رہی ہیں تو کل مشرقی پاکستان سے آنیوالے بھی اسی سازش کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا یہ دو قومی نظریے اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی توہین ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے خواجہ آصف کے بیان پر احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں ایک مذمتی قرارداد بھی جمع کرائی گئی ہے۔