کوتاہی انتظامیہ کی تھی الزام عدلیہ پر لگا دیا، جسٹس آصف، آئین بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، نظام درست نہیں کرتے، موجودہ عدالتوں کے ہوتے متوازی سسٹم قائم نہیں کیا جا سکتا: عدالت

17 جون 2015

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام، 18 ویں اور 21 ویں آئینی ترامیم کیخلاف دائر آئینی درخواستوں سے متعلق مقدمہ کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہمارا کریمنل جسٹس کا نظام غیر فعال ہو چا ہے، ہم آئین کو تو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں لیکن اپنا نظام درست نہیں کر رہے، موجودہ عدالتوں کے ہوتے ہوئے متوازی عدالتی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا، ہمارے قوانین اور یو این کی قراردادوں اور دیگر ممالک کے قوانین میں فرق ہے، آئین کے بنیادی ڈھانچہ میںتبدیلی سے مستقبل میں سنگین مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ وکلاء تنظیموں کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل جاری رکھے، جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان سے استفسار کیا کہ جن قبائلی علاقوں میں آپریشن کیا جا رہا ہے اگر وہاں سے دہشت گرد پکڑے جائیں تو ان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو گا یا سول عدالتوں میں ان کا ٹرائل کیا جائے گا جس پر وکیل نے جواب دیا کہ فوجی آپریشن کے دوران پکڑے گئے دہشت گردوں کا آرمی قوانین کے تحت ہی ٹرائل کیا جائے گا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کل یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ پکڑے گئے ان دہشت گردوں کو مارنا چاہئے یا نہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہمارا کریمنل جسٹس کا نظام غیر فعال ہو چکا ہے، جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا کریمنل جسٹس کا نظام کیوں غیر فعال ہوا ہے کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تفتیشی ادارے جدید آلات اور نظام سے لیس نہیں یا دوسری جانب جب کوئی ملزم ناقص تفتیش یا گواہی کے باعث بری ہو جاتا ہے تو کیا اس نظام کوبند کر دینا درست ہوگا؟ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ فوجی عدالتوں کا نظام آرمی ایکٹ کے تحت چلتا ہے اور کیا یہ ایکٹ ملزم کو دفاع کا مکمل اختیار دیتا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ فوجی عدالتوں نے پانچ افراد کو سزائے موت دی تھی، لیکن معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کیسوں میں گواہ کون تھا اور جج کون تھا۔ حامد خان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدے کے تحت عدالتی کارروائی کو خفیہ نہیں رکھ سکتا ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آرمی پبلک سکول واقعے کو بنیاد بنا کر ایک متوازی عدالتی نظام کھڑا کردیا گیا ہے۔ واقعہ کے حوالے سے کوتاہی کی مرتکب انتظامیہ تھی لیکن الزام عدلیہ پر لگا دیا گیا ہے۔ آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کو ہدایت کی ہے کہ فوجی عدالتوں کی طرف سے جن پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ مقدمے کی سماعت شفاف ہوئی ہے یا نہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آئی سی جے کا کردار یہ نہیں کہ وہ ہماری عدالتی نظام پر رپورٹ مرتب کر سکیں۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے سوال کیا کہ کیا اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے یہ کام کسی اور ادارے کودے دیئے جائیں۔