زراعت پرٹیکس کیخلاف کسانوں کا پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے انوکھا مظاہرہ، منوں دودھ بہا دیا

17 جون 2015

بھارت سے چیزیں درآمد کرنے کی بجائے ان جیسی مراعات کا مطالبہ، وزرا سے مذاکرات ناکام
خورشید شاہ کے مطالبے پر وفاقی وزرا کسانوں سے ملنے گئے، وزیر خزانہ نے ملاقات کا وقت دیدیا
لاہور (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) پاکستان کسان اتحاد نے زراعت پر ٹیکس اور بھارت سے زرعی اجناس منگوانے کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے انوکھے انداز میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کسانوں نے اس موقع پر کئی من دودھ سڑک پر بہا دیا۔ احتجاجی کسان مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ مذاکرات کے لیے کسانوں کے پاس پہنچے تاہم انہوں نے مطالبات منظور ہونے تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ کسانوں کا کہنا تھا بھارت سے سبزیاں اور دوسری زرعی اجناس منگوا کر ان کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت سے چیزیں درآمد کرنے کی بجائے اپنے کسانوں کو ان جیسی مراعات دی جائیں ، انہوں نے زراعت پر لگائے گئے ٹیکسز ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔بجٹ پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا پارلیمنٹ کے باہر ملک بھر سے آئے کسان مظاہرہ کررہے ہیں ، ان کا مطالبہ ہے ٹریکٹر و زرعی آلات پر جی ایس ٹی مکمل طور پر معاف کیا جائے، خورشید شاہ نے کہا میری گزارش ہے وزیر خزانہ حکومت و اپوزیشن کے نمائندے کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے کیلئے تجاویز کو بجٹ 2015-16ء میں شامل کریں جس پر سپیکر نے وفاقی وزیر تحفظ خوراک سکندر حیات بوسن اور وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ کو ہدایت کی کسان نمائندوں سے مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ آدھے گھنٹے بعد وفاقی وزراء نے ایوان میں آکر کہا کسان اب سڑک بلاک نہیں کریں گے اور ایک طرف بیٹھ کر احتجاج جاری رکھیں گے۔ جبکہ وزیر خزانہ نے کسانوں کو وقت دیدیا ہے، وہ ملاقات کے بعد وزیراعظم کو زرعی شعبے پر خصوصی اجلاس میں بریفنگ دیں گے۔