پاکستان کا ایٹمی ڈیٹرنس

17 جون 2015

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کی زبان بولی ہے بلکہ ملک کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان کی طرح بھارت کو للکارا ہے، لیاقت علی نے مکہ لہرایا تھا، خواجہ آصف ایسے پاکستان کے وزیر دفاع ہیں جو ایٹمی اسلحے اور میزائلوں سے لیس ہے، آج پاکستان کے کسی حکومتی عہدیدار کے مکے میں ایٹمی طاقت بھی مخفی ہے اور دشمن ملک و قوم کو اس کا بخوبی احساس ہے ، اور اگر نہیں ہے تو وزیر دفاع نے واضح کر دیا کہ ایٹم بم شب برات پر پٹاخے چلانے کے لئے نہیں ہیں۔ یہ بات پاکستان کے ہر دشمن کو سمجھ لینی چاہئے، بھارت بار بار پاکستان کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، بیانات کی گولہ باری سے دل پشوری کرتا ہے یا نہتے کشمیریوں اور کنٹرول لائن پر واقع دیہاتیوں کو نشانہ بناتا ہے اور بزدلوں کی طرح دم دبا کر بھاگ جاتا ہے، وہ میدان میں جم کے لڑنے کے قابل ہے نہیں، صرف اپنی قوم کے لالو پرشادوں کی آنکھ میں دھول جھونکتا ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
بھارت کی گیدڑ بھبکیاں روز سنتے جائیں مگر اس میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ پنجہ آزمائی کر سکے۔کشمیر پر اس نے دھوکے سے قبضہ جمایا مگر ہمارے مجاہدین کے لشکر نے جونہی اسے چیلنج کیا تو پنڈت نہرو بھاگم بھاگ سلامتی کونسل میں جا پہنچا اور سیز فائر کی بھیک مانگنے لگا۔
مشرقی پاکستان میں فتح بھارت کی خام خیالی ہے، یہ تو قومی انتشار کا نتیجہ تھا جو ہمیں بھگتنا پڑا ورنہ بھارت نہ ہمیں پینسٹھ کی جنگ میں زیر کر سکا، نہ اکہتر میں سلیمانکی اور قیصر ہند کے محاذ پر۔ یہاں تو اسے رسوا کن پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، سلیمانکی میں جنرل راحیل شریف کے بھائی نشان حیدر شبیر شریف نے بھارتی افواج کو پچھاڑ کر رکھ دیا اور قیصر ہند کا غرور ہمارے نمبر گیارہ ڈویژن کی اکتالیس بلوچ نے خاک میں ملا دیا، بھارت کو لاہور اور سیالکوٹ پر چھیڑ چھاڑ کی جرات بھی نہ ہو سکی کیونکہ وہ پینسٹھ میں ان دونوں میدانوں میں ناکامی سے دوچار ہو چکا تھا، لاہور میں اس کے جارح جنرل نرنجن پرشاد کو اپنی کمانڈ جیپ چھوڑ کر فرار ہونا پڑا، کھیم کرن میں بھارت فرار ہو گیا اور چونڈہ میں بھارتی بکتر بند ڈویژن کے عزائم خاکستر ہو گئے۔پینسٹھ میں پاکستانی قوم کے جذبے دیکھنے کے لائق تھے، ہم نے اپنے غازیوں اور شہیدوں کے لازوال ترانے لکھے اور گائے۔سیاچین پر بھارت نے چوروں کی طرح قبضہ کیا اور و ہ دن اور آج کا دن، دنیا کے اس بلند تریں محاذ پر اسے ایک انچ آگے پیش قدمی نصیب نہیں ہوئی۔کارگل پر ہمارا جو بھی موقف ہے، بھارت میں اسے ہزیمت خیال کیا گیا اور اس شکست کا جائزہ لینے کے لئے کئی ایک انکوائری کمیشن بنے، بھارتی افواج کے جانی نقصان کا اندازہ اس امر سے لگایئے کہ اسے لاشوں کے لئے تابوت نہیں ملے اور اسلحے کی خالی پیٹیوں کی لکڑی سے تابوت تیار کرنے پڑے۔
آج اگر ہمارا وزیر دفاع بھارت کو للکار رہا ہے تو اسے معلوم ہے کہ مئی اٹھانوے میں اسی کی پارٹی کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دنیا بھر کے دبائو کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا تھا اور ڈنکے کی چوٹ پر دیا تھا۔
پاکستان کو ڈرانے دھمکانے میں بھارت نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔مگر مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار بھارت اسی طرح غرا رہا تھا تو نوائے وقت میں ڈاکٹڑ عبدالقدیر کا تہلکہ خیز انٹرویو چھپا کہ پاکستان نے ایٹم بم بنانے کے لئے یورینیم افزودہ کر لیا ہے، اس خبر نے بھارت کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا تھا۔بھارت نے اپنی جنگی مشقوں کی آڑ میں ایک بار پھر شیطنت کا مظاہرہ کیا تو جنرل ضیاالحق نے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کواس کے ملک کے کرکٹ اسٹیڈیئم میں کہا تھا کہ فوج پیچھے نہیں ہٹاتے تو واپس جا کر ایٹمی بٹن دبادوں گا۔ راجیو گاندھی اور اس کی افواج کو اس دھمکی سے شفا مل گئی۔ بھارت بڑا ڈھیٹ واقع ہوا ہے، اس نے ایک بار اپنی پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ رچایا اور اس کا بدلہ لینے کے لئے فوجیں پاک بارڈر پر لگا دیں۔دنیا نے بھارت کو سمجھایا کہ اس کا پالا ایک ایٹمی پاکستان سے ہے، وہ کسی دھوکے میں نہ رہے اور مستی نہ دکھائے۔بھارت کو جلد ہی اس کی سمجھ آ گئی۔
اصل میں ایٹمی اسلحہ استعمال کے لئے نہیں صرف ڈیٹرنس کے لئے ہے، یہ ایک بار ہی استعمال ہوا ہے ا ور امریکہ نے جاپان کے خلاف استعمال کیا اور ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے لاکھوں شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا، صرف ا س لئے کہ اس وقت جاپان کی طرف سے ایٹمی حملے کا جواب دینے کی طاقت نہ تھی، وہ نہتا تھا۔ اس ایک سانحے کے بعد عالمی سطح پر کئی بار ٹھک ٹھک ہوئی مگر کوئی بڑی جنگ صرف اس لئے نہیں چھڑی کہ اب دنیا میں کئی ایٹمی طاقتیں ہیں۔ابھی پچھلے برس آپ نے دیکھا کہ امریکہ شام پر جارحانہ حملے پر تلا ہوا تھا کہ روسی صدر پیوٹن نے صرف ایک کالم نیو یارک ٹائمز میں لکھا اور امریکہ کی سٹی گم ہو گئی۔
پاکستان کے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسے فرنٹل اٹیک سے زیر نہیں کیا جا سکتا، سو ایک چومکھی جنگ شروع ہے، کہیں بلوچوں کو اکسا کر کھڑا کر دیا گیا ہے، کہیں کراچی جیسے میگا شہر میں لسانی تفرقات کو ہوا دی گئی ہے اور کہیں فرقہ ورانہ بنیادوں پر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خون کا پیاسا بنا دیا گیا ہے۔مگر پاکستانی قوم کی ایک خوبی ہے کہ جب اسے دشمن کا پتہ چل جاتا ہے تو یہ متحد ہو جاتی ہے اور آپ نے دیکھا کہ کس طرح زرداری صاحب بھی ضرب عضب کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال رہے ہیں،دشمن سمجھتا تھا کہ ہم ا س مسئلے پر تقسیم ہیں اور ہماری رگوں سے اس قدر خون نچڑ چکا ہے کہ ہم کسی کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتے،مگر وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان اور پوری قومی قیادت نے جس اتحادکا ثبوت دیا ہے ،اس کے بعد شاید ہی دشمن ہمیں زبانی کلامی بھی ڈرا دھمکا سکے، اب تو یہ کام بھی ہم کر رہے ہیں اور ایسے بیانات دے رہے ہیں کہ بھارت میں ذرا غیرت ہوتی تو وہ بپھر جاتا مگر اسے ہمارے وزیر دفاع نے سمجھا دیا ہے کہ مہاراج!ایہہ کھیڈ ایٹماں دی اے
جنگ کھیڈ نئیں ہو ندی زنانیاں دی!