باغ تیرے دی راکھی کرکر، میں ساری عمر گذاری!

17 جون 2015

میری لخت جگر کو مجھ سے بچھڑے چار سال ہو گئے ہیں۔ جون کا مہینہ ہماری زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس مہینے میں مومنہ جدا ہوئی، اس مہینے میں میری ماں چلی گئی لیکن اسی مہینے میں اللہ نے بیٹوں کی شادی کی خوشیاں دیکھنا نصیب کیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ غم کے بعد خوشی اور رات کے بعد اجالا ہے مگر انسان ایک غم کو لئے زندگی کی بے شمار خوشیاں اور نعمتیں نظرانداز کر دیتا ہے۔ زندگی کے خوبصورت لمحات ایک غم کی نذر کر دیتا ہے۔ معروف رائٹر اور شاعرہ رخسانہ نور آجکل نیویارک آئی ہوئی ہیں۔ مومنہ کے کمرے میں ٹھہری ہوئی ہیں۔ اس کمرے کا ماحول انہیں بھی احساس دلا رہا ہے کہ مومنہ ہمارے اطراف یہیں کہیں موجود ہے۔ رخسانہ نور نے نوائے وقت میں لکھنا شروع کیا ہے، نوائے وقت خاندان انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔ دو لکھنے اور سوچنے والے جب اداسی کے موسم میں ملیں تو دل کا بوجھ ہلکا ہوجا تا ہے۔ مومنہ کے سٹڈی روم میں علم کا دیا جلتے ہوئے چار سال ہو رہے ہیں ۔ یہ دیا مومنہ چیمہ فاﺅنڈیشن کی علامت ہے جو علم کی صورت امریکہ تا پاکستان روشنی پھیلا رہا ہے۔ فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام گزشتہ ہفتے لاہور میں بھی ایک سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ مومنہ پچیس برس کی عمر میں باکمال مقررہ، رائٹر اور سکالر بن چکی تھی۔ خوبصورت، خوب سیرت، باکمال خوبیوں کی مالک مومنہ حیاءکا پیکر تھی۔ انتہائی معصوم اور انتہائی ذہین۔ میں نے اپنی لخت جگر کی شخصیت کو اس سانچے میں تراشنا چاہا جیسا میں خود کو دیکھنا چاہتی تھی۔ طیبہ کی روح بچپن سے مزاروں کی گلیوں میں بھٹک رہی ہے۔ مومنہ کی صورت میں طیبہ کی ذات کی تکمیل ہوئی تو طیبہ کی زندگی میں کچھ ٹھہراﺅ آیا۔ لوگ اپنے تخیل کے بت تراشتے ہیں اور طیبہ نے اپنے وجود سے ایک وجود کو جنم دیا اور پھراس کو تراشنے میں جوانی لگا دی۔ امریکی پروفیسر کہتے تھے کہ مومنہ ایک روز امریکہ کی سپریم کورٹ کی جج بنے گی۔ پانچ سال قبل مومنہ اپنی سہیلی کیتھی کے ہمراہ لاہور گئی تو بادشاہی مسجد میں نماز مغرب ادا کی۔ لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کی۔ داتا دربار لنگر تقسیم کیا۔ کیتھی نے کہا ’امریکہ میں بھی داتا دربار ہوتا تو اس ملک میں بھی کوئی بھوکا نہ سوتا‘۔ دونوں سہیلیاں بابا بلھے شاہ کی درگاہ پربھی گئیں ۔ مومنہ بلھے شاہ کے مزار پر حالت جذب میں بیٹھی رہی۔ وہ بھی جون کا ہی مہینہ تھا۔ شدید گرمی تھی مگر مومنہ گرمی، دھوپ، تپش سے بے نیاز آنکھیں بند کیئے بابا بلھے شاہ کا کلام سننے میں محو تھی۔ 

وے بلھیا کی جاناں میں کون
رب رب کر دے بڈھے ہو گئے، ملاں پنڈت سارے
رب دا کھوج کھرا نہ لبھا، سجدے کر کر ہارے
رب تے تیرے اندر وسدا، وچ قرآن اشارے
بلھے شاہ، رب اونہوں ملسی جیڑا اپنے نفس نوں مارے
علم و معرفت جب یکجا ہو جائیں تو تکمیل ذات کو راستہ مل جاتا ہے۔ دنیاوی سفر کٹھن اور روحانی سفر آسان ہو جاتا ہے۔
جس مقام پر بے بسی دم توڑ جاتی ہے، رضاکا سفر وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ بھری جوانی میں روح کا یہ سفر....
لوئے لوئے بھر لے کڑیے جے تُدھ بھانڈا بھرنا
شام پئی بن شام محمد، گھر جاندی نے ڈرنا
اور مومنہ نے لوئے لوئے اپنے ایمان کا بھانڈا بھر لیا اور مجھے خدا ملا بھی تو کچھ اس ادا سے
کیتی جان حوالے رب دے ایسا عشق کمایا ہو
مرن تھیں اگے مر گئے باہو تاں مطلب نوں پایا ہو
مومنہ ایک متوازن شخصیت کا نام ہے۔ وہ اپنے گھر رخصت ہو چکی ہے مگر ماں کی حالت یہ ہے کہ
باغ تیرے دی راکھی کرکر، میں ساری عمر گذاری
جدوں پھل پکن تے آیا، تے لے گئے بیوپاری