مفاہمتی اپوزیشن کا سوال پیدا نہیں ہوتا جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں: منظور وٹو

17 جون 2015
مفاہمتی اپوزیشن کا سوال پیدا نہیں ہوتا جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں: منظور وٹو

لاہور (خبر نگار) پنجاب کا بجٹ 2015-16 اشرافیہ نے اشرافیہ کے لیے بنایا، اس لیے یہ کسانق انسان مزدور‘ سرکاری ملازمین اور غریب دشمن ہے کیونکہ انکے لیے اس بجٹ میں ریلیف کی بجائے تکلیف ہی تکلیف ہے۔ مفاہمتی اپوزیشن کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا،ہم جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں، قومی مفاد میں جمہوریت کیلئے عدم استحکام پیدا نہیں ہونے دیا ایسا کرتے تو جمہوریت نہ رہتی۔ یہ بات میاں منظور احمد وٹو، صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے پنجاب ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب سیکریٹریٹ میںمیڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈویژنل کوآرڈینیٹرز، ضلعی صدور اور الائیڈ ونگز کے سربراہان نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی آبادی میں خطرناک تقسیم بھی انہی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت میں آکر موجودہ سنگین ترقیاتی تفاوت کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کرے گی اور صوبے میں متوازن ترقی کے نظریے کو عملی جامہ پہنائے گی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت حلقہ بندیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات اسکے تحت کروانے کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بھرپور شرکت کے لئے پوری تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پیپلز پارٹی کے معاملات بہتری کی طرف جارہے ہیں جسکا واضح ثبوت منڈی بہائوالدین اور اور ننکانہ صاحب کے ضمنی انتخابات ہیں جس میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے پچھلے عام انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ووٹ لئے۔ چیئرمین بلاول بھٹو کی لاہور آمد کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب ان کا لاہور میں خوش آمدید کہنے کے لئے بے تابی سے انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی آمد اور پروگرام کے ضمن میں سی ای سی کی 17 جون کو ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ ہو گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب چیئرمین بلاول بھٹو کے قومی اسمبلی کے ممبر بننے کے حق میں ہے تا کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر ایک بڑے لیڈر کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوا سکیں نجکاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو نقصان میں جانے والے قومی اداروں کی نجکاری کر رہی ہے اور دوسری طرف میٹروبس اور میٹروٹرین جیسے ایسے ادارے کھڑے کر رہی ہے جنکو آپریشنل رکھنے کے لیے اربوں روپے کی سبسڈی حکومت کو دینا پڑے گی اور یہ قومی خزانے پر مستقل بوجھ ہونگے۔ ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں تنویر اشرف کائرہ، سہیل ملک، چوہدری منظور، اعجاز سمائ، منظور مانیکا، فائزہ ملک، ایم پی اے، جہاں آراء وٹو، تسنیم قریشی، غلام فرید کاٹھیا، دیوان شمیم، آصف خان، مولانا یوسف اعوان، میاں ایوب، افنان صادق بٹ، ذوالفقار خان، دیوان محی الدین، آصف ناگرہ اور عمران اٹھوال،پیپلز پارٹی اقلیتی ونگ کے صدر اور لبنی چوہدری ایڈووکیٹ، نے شرکت کی۔