آرمی ترمیمی آرڈیننس میں توسیع

17 جون 2015

قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس 2015ء کی میعاد میں مزید 120 دن کی توسیع کی منظوری دیدی ہے۔ ایوان میں ایم کیو ایم کے ارکان نے آرڈیننس کی میعاد میں توسیع کی شدید مخالف کی ہے۔ پشاور آرمی سکول پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد سیاسی اور عسکری حکام نے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ دہشت گردوں کو انکے جرائم کی سزائیں دیکر ملک میں امن قائم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں 6 جنوری 2015ء کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں فوجی عدالتوں کے قیام کا بل منظور ہوا۔ اس بل کے تحت مذہب اور فرقہ کے نام پر جنگ چھیڑنے والوں، فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی اور اس جیسی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی معاونت کرنے والوں کیخلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے ہیں۔ جب فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس وقت بھی متعدد سیاسی قائدین‘ وکلاء تنظیموں اور شہریوں نے خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ اب ترمیمی آرڈیننس میں توسیع سے وہ سارے خدشات درست ثابت ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ مدت ختم ہونے پر اس میں مزید توسیع کی جائے گی اور یوں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ فوجی عدالتوں کو مروجہ عدالتی نظام کے متوازی لانے کی کوشش ہے جس کی کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ جبکہ ہمارے ہاں جمہوریت کی گردان کرنیوالی سیاسی پارٹیاں ہی اسکی سب سے بڑی حامی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک مضبوط عدالتی نظام موجود ہے، اس کی موجودگی میں ان فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کوئی بھی ترمیم منظور کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ میں کسی جماعت کی عددی اکثریت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ جو مرضی کرے بلکہ اس کو ملکی قوانین کے دائرے میں ہی رہ کر نظام چلانا ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم نے اس آرڈیننس کا پہلے ساتھ دیا تھا لیکن اب اس کی توسیع میں وہ احتجاج کر رہی ہے لہٰذا حکومت سنجیدگی کے ساتھ ایم کیو ایم کے اس احتجاج کا بھی جائزہ لے کہ آیا انکا موقف درست ہے یا نہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہ کرے بلکہ عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرے تاکہ فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی نہ رہے۔