عمران کم از کم پارٹی آئین پرتو عمل کریں

17 جون 2015

تحریک انصاف کے الیکشن ٹربیونل نے جہانگیر ترین، پرویز خٹک اور نادر لغاری کی پارٹی رکنیت ختم کر دی۔ چاروں کی پارٹی میں دوبارہ شمولیت پر پابندی عائد کر دی۔ کسی کو پارٹی کے سینئر رہنمائوں کی توہین کا اختیار نہیں۔ عمران خان، دوبارہ تنظیمی الیکشن کے فیصلے کے بعد ٹربیونل تحلیل ہو چکا ہے : چیئرمین تحریک انصاف
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انٹرا الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے پارٹی کے سربراہ عمران خان کی طرف سے پارٹی میں عبوری عہدیداروں کی تقرریوں کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے کر چار رہنمائوں کی بنیادی رکنیت ختم کر دی۔ گزشتہ ماہ تنظیمی تنازعات کے باعث انٹرا الیکشن ٹربیونل کے فیصلہ کی روشنی میں عمران خان نے پارٹی کی تمام تنظیمیں توڑ دی تھیں اور نئے پارٹی الیکشن کا اعلان کیا مگر چند روز بعد ہی پرانے عہدیداروں کو دوبارہ نئی پوزیشنوں پر عبوری دور کے لئے نامزد کر دیا۔ جس سے پیدا ہونے والے اختلافات اب عروج پر ہیں۔ عمران خان ایک طرف تو آئین اور قانون کی دہائی دیتے پھرتے ہیں اور غیر قانونی غیر آئینی اقدامات کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنے کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف وہ خود اپنی جماعت میںپارٹی کے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ پہلی تنظیمیں توڑ کر انہی افراد کو دوبارہ عہدوں پر نامزد کر رہے ہیں۔ جنکی وجہ سے یہ تنظیمیں توڑنا پڑیں اور عہدے ختم کرنا پڑے۔ اس پر پارٹی الیکشن ٹربیونل کے سربراہ کیطرف سے ایکشن لیاگیا تو عمران صاحب فرما رہے ہیں کہ ٹربیونل تحلیل ہو چکا ہیجبکہ اس سے پہلے وہ ٹربیونل کی بحالی کا بھی خود ہی اعلان کر چکے ہیں۔ کیا آئین اور قانون کی بات کرنے والے رہنما کو یہ باتیں زیب دیتی ہیں۔ ان باتوں کا عوام میں کیا تاثر جائے گا۔ اسی لئے تو اے این پی کے زاہد خان نے پھبتی کسی ہے کہ عمران خان کو اپنی پارٹی کے الیکشن ٹربیونل پر اعتماد نہیں وہ قومی اداروں پر کیا اعتماد کریں گے۔ جگ ہنسائی سے بہتر ہے کہ عمران خان پہلے اپنی پارٹی میں آئین اور قانون کی عملداری کریںتاکہ اسکا عوام پر اچھا اثر پڑے۔ ذاتی پسند و ناپسند اور مفادات کے لیے کیے جانے والے فیصلے کبھی دیر پا نہیں ہوتے۔