بدھ‘ 29؍ شعبان المعظم 1436ھ ‘ 17؍ جون 2015ء

17 جون 2015

پاکستانی پائلٹ نے پیرس ائیر شو میں فلم ’’ٹاپ گن‘‘ کی یاد دلا دی
پیرس کے عالمی ائیر شو میں پاکستان ساختہ 2 جے ایف 17 تھنڈر طیارے بھی شریک ہیں جنہوں نے گزشتہ روز ہوا بازی کے مقابلے میں جس فضائی کرتب اور مہارت کا مظاہرہ کیا اس کی ساری دنیا کا سوشل میڈیا تعریف کر رہا ہے اور داد کے ڈونگرے برسا رہا ہے۔
خاص طور پر پائلٹ یاسر مدثر کی تو ہر طرف جے جے ہو رہی ہے۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے ہوابازی کا مقابلے دیکھنے والے شائقین کو فضائی کمالات دکھا کر مبہوت کیا‘ اس پر ہمارے ازلی دشمن بھارت اور اب اس میں کچھ اضافے کے ساتھ شامل بنگلہ دیش کے حکمرانوں اور ناقدین کے دل تو جل بھن کر کباب ہی نہیں کوئلہ بن چکے ہیں اور زبانیں گنگ ہیں جبکہ دوسرے سب ان کی تعریف کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر ایک ہمارے پائلٹوں کی مہارت کی داد دے رہا ہے اور چشم بددور۔ تعریف کرنے والوں کے بقول یاسر مدثر نے تو عالمی شہرت یافتہ ہیرو ٹام کروز کی شہرہ آفاق فلم ’’ٹاپ گن‘‘ کی یاد تازہ کر دی اور حقیقت میں طیارہ اس مہارت سے اڑایا جیسے فلم میں ٹام کروز اڑاتا پھرتا تھا۔ یہ ہمارے جے ایف تھنڈر 17 کی آمد کا ڈنکا ہے جو چار عالم میں بج رہا ہے۔ یہ ہماری محنت اور چینی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس پر کہا جا سکتا ہے…؎
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے
ہمارے یہ شاہین صفت ہوا باز اور شاہین نما یہ طیارے اسی طرح دنیا بھر میں ہمارے پاکستان کی شان بڑھاتے رہیں گے اور ان کے خوف سے دشمنوں کے پتے پانی ہوتے رہیں گے۔
…٭…٭…٭…٭…٭…
افغان صدر کی آمد کے موقع پر بھارہ کہو سے 3 لاکھ کالیں افغانستان کی گئیں
اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں مقیم غیرقانونی مہاجرین کی آباد کاری کس درجہ کمال پر ہے، کوئی پاکستانی خواہ وہ خیبر پی کے کا ہو یا بلوچستان کا ان کی افغانستان میں کیا اتنی رشتہ داریاں یا تجارتی تعلقات ہیںکہ وہ چند روز میں لاکھوں کالیں کرتے پھریں۔ نہ ہی یہاں کوئی عشق و محبت کا نصاب پڑھا جا رہا ہے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی والی حالت ہے اور دن رات فون پہ کھڑک رہے ہیں اور طویل ملاقاتیں اور باتیں ہو رہی ہیں نہ ہی یہ گھریلو خواتین کے لئے کوئی پی ٹی سی ایل کا رعایتی پیکج ہے جس پر وہ محلہ بھر برائیاں کرتی یا کھانا پکانے کی ترکیبیں ایک دوسرے کو بے تکلفی سے سناتی پھرتی ہیں۔
یہ علاقہ بھارہ کہو لندی کوتل یا قلعہ سیف اللہ میں نہیں ہمارے اسلام آباد سے چند منٹوں کی مسافت پر پررونق علاقہ ہے جہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان و دیگر مہاجرین جن میں ازبک، تاجک بھی شامل ہیں اور ان کو بھاری کرایوں پر ہمارے ہم وطنوں نے مکانات پلازے اور دکانیں کرائے پر دے رکھے ہیں اور اسی اخوت اور بھائی چارے کے صلے میں اکثر دہشت گردی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا کھرا یہاں ہی سے جاملتا ہے۔ اب یہ 3 لاکھ کالوں والی مکھی نہ تو اگلی جا سکتی ہے نہ نگلی اس لئے خفیہ اداروں اور سکیورٹی والوں کو کان اور آنکھیں کھول کر یہاں سے ان مسلح غیر قانونی تارکین کو نکالنا ہو گا جو ہماری گردنوں پر پیرتسمہ پا کی طرح سوار ہیں مگر لگتا ہے کھا لے پی لے موج اڑانے والے محاورہ پر عمل کرنے والے کرپٹ عناصر جن کو لاکھوں کی آمدنی یہاں سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے!
…٭…٭…٭…٭…٭…
رمضان کی آمد پر یمن میں 15 دن کے لئے جنگ بندی کی جائے: بانکی مون
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بہت اچھا مشورہ دیا ہے۔ اگر دونوں ممالک اس پر عمل کریں تو بہت سے بے گناہ مسلمانوں کی جان ضائع ہونے سے بچ سکتی ہے۔ مگر کیا یہ دونوں مسلمان ممالک اس ماہ مقدس کے احترام میں ایک غیر مسلم کی اپیل پر کان دھریں گے، یہ تو اپنے مسلمان بھائیوں کی اپیل نہیں سن رہے تو اس غیرمسلم کی بات کون مانے۔ یہ دو مسلم بھائیوں کا مسئلہ ہے جن میں بڑا بھائی اگر کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے تو شاید چھوٹے بھائی کی مشکلات کم ہوں اور وہ بھی اس فراخدلی کا جواب فراغ دل سے دے۔ مگر یہ سب…؎
’’ہنوز دلی دور است‘‘
والا معاملہ لگتا ہے۔ رمضان المبارک میں شیطان قید کیا جاتا ہے مگر انسانوں کو قید نہیں کیا جا سکتا بے شک یہ جنگ شیطان نے ہی شروع کرائی ہے۔ مگر لڑ تو انسان ہی رہے ہیں۔ مر تو انسان رہے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک غیر مسلم شخص دو متحارب مسلمان ممالک کو رمضان المبارک کے احترام میں جنگ بندی کا درس دے رہا ہے۔ کم از کم دونوں اسلامی ملکوں کو اسلام اور رمضان المبارک کے نام کی ہی لاج رکھتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ہماری مزید سبکی نہ ہو اور مسلم دنیا بھی تماشہ دیکھنے اور آگ لگانے کی بجائے امن کیلئے آگے بڑھے۔
سعودی عرب ویسے بھی فلاحی کاموں کے لئے بڑی شہرت رکھتا ہے۔ اب اگر وہ اپنے مخالف بھائی کے زخموں پر مرہم رکھے یمن کے تباہ حال عوام کی دلجوئی کرے تو بہت سے گلے شکوے ختم ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت یمن کو تباہ حال شہروں اور دیہات کی تعمیرنو اور متاثرین جنگ کی بحالی کے لئے مدد کی اشد ضرورت ہے اور سعودی عرب کو بھی حج سیزن میں سرحدوں پر امن و سکون کی۔
…٭…٭…٭…٭…٭…