پنجاب کا سیاسی و انتخابی بجٹ

17 جون 2015

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں وفاق نے قابل ذکر اضافہ کیا۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے مالی وسائل بھی بڑھ گئے۔ صوبوں کی اہمیت کے پیش نظر میڈیا کو بھی وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں کی کارکردگی پر بھی توجہ دینی چاہیئے مگر میڈیا کا ابھی تک وفاقی حکومت پر فوکس زیادہ ہے۔ شریف برادران نے اپنا ووٹ بنک بنانے اور اس میں اضافہ کرنے کیلئے جن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حقیقی با صلاحیت قیادت سے محروم پی پی پی اپنا ووٹ بنک محفوظ نہ رکھ سکی۔ جب تک آصف علی زرداری کی شریف برادران سے مفاہمت یعنی ’’مک مکا‘‘ کی سیاست چلتی رہے گی مسلم لیگ (ن) کو پی پی پی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’’مک مکا‘‘ کی سیاست بلاول بھٹو کی کامیابی کے امکانات کو بھی مخدوش بنادیگی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیدا ہونیوالے سیاسی خلاء کو تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے پُر کیا اور ووٹ بنک بنانے میں کامیاب ہوئے مگر اس ووٹ بنک کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت عوام کو نظر آنیوالے میگا پروجیکٹس پر زیادہ توجہ دیتی ہے جن سے ان کو سیاسی فائدہ بھی ہوتا ہے اور تجارت بھی آگے بڑھتی ہے۔ لاہور، اسلام آباد موٹر وے ، لاہور میٹرو پنڈی اسلام آباد میٹرو مسلم لیگ(ن) کی سیاست کے شاہکار ہیں۔ لیپ ٹاپ، پیلی ٹیکسی، سستی روٹی، بے نظیر انکم سپورٹ سکیم جیسے اربوں روپے کے منصوبے ووٹروں کو مطمئن کرنے کیلئے جاری کیے جاتے ہیں۔ پنجاب کی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا ٹیلینٹڈ خاتون ہیں۔ انہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ پنجاب کا 1447 بلین روپے کا ریکارڈ بجٹ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بتادیا کہ بجٹ بیوروکریسی بناتی ہے البتہ سیاسی قیادت کی سیاسی مصلحتوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ 2015-16ء کا صوبائی بجٹ ستمبر 2015ء میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور 2018ء میں عام انتخابات کے سیاسی و انتخابی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے۔ مقامی حکومتوں کیلئے قابل ذکر بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
پنجاب کے بجٹ میں حسب روایت ایسے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جو نظر آنیوالے ہیں اور اگر یہ منصوبے بروقت مکمل ہوگئے تو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو شکست دینا ممکن نہیں ہوگا۔ملتان میں میٹروبس، لاہور میں اورنج ٹرین، دیہات میں سڑکوں کی تعمیر، ساہیوال اور جھنگ میں یونیورسٹیوں کا قیام، لاہور اور ملتان میں مزدوروں کیلئے رہائشی منصوبے یقینی طور پر ووٹ بنک بڑھانے کے منصوبے ہیں۔ ووٹ بنک کی سیاست نے ان کروڑوں پاکستانی شہریوں کو غربت اور احساس محرومی کا شکار کیا ہے جو انتخابات میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے اور انتخابی عمل سے الگ رہتے ہیں۔ موجودہ جمہوری سیاسی نظام میں غیر متوازن اور غیر مساوی ترقی کا عمل جاری ہے اور کروڑوں عوام غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ پنجاب کے بجٹ خطاب میں شاید پہلی بار مختلف شعبوں کے منصوبوں کیلئے تین سال کی پروجیکشن شامل کی گئی ہے۔ وزیرخزانہ نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ پنجاب کے دیہاتوں میں سڑکوں کی تعمیر پر تین سال میں 150ارب روپے خرچ کیے جائینگے جبکہ اس سال 50ارب روپے خرچ ہوں گے۔ صاف پانی کیلئے تین سال میں 70ارب روپے جبکہ اس سال 11ارب روپے خرچ کیے جائینگے۔ ایک سال کے بجٹ میں تین سال کے اعدادوشمار شامل کرنا عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے جس کا مقصد شاید اربوں روپے کے میگا پروجیکٹس سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر تسلسل کے ساتھ یہ تنقید کی جارہی ہے کہ اربوں روپے کے میگا پروجیکٹس کو پہلی ترجیح بنا کر حکومت نے عوام کو بنیادی حقوق پانی، تعلیم، صحت، روزگار اور امن سے محروم کردیا ہے۔ پنجاب کے بجٹ میں اس تاثر کو دور کرنے کیلئے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔تعلیم کیلئے 310.20 ارب روپے (کل بجٹ کا 27فیصد) اور صحت کیلئے 160.13ارب روپے (کل بجٹ کا 14فیصد) مختص کیے گئے ہیں اس حوالے سے پنجاب کے بجٹ کو عوام دوست اور متوازن قراردیا جائیگا۔
بجٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی منصوبوں سے دس لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور بیس لاکھ نوجوانوں کو فنی تربیت دی جائیگی۔ خواتین کیلئے ملازمتوں میں 15فیصد کوٹہ انقلابی اقدام ہے۔ بلوچستان کی تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے 2ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کیلئے 119.88بلین روپے مختص کیے گئے جس سے قرضوں کے حجم کا اندازہ ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اس پس ماندہ علاقے کو مسلم لیگ (ن) کی سیاسی گرفت میں لایا جاسکے۔ پنجاب حکومت اگر ہر یونین کونسل میں ایک معیاری سکول، ایک معیاری ہسپتال اور سستے اور فوری انصاف کا نظام قائم کردے تو پنجاب میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ خادم اعلیٰ اپنے جنون کے مطابق سو بار میٹرو بنائیں مگر وہ خدا کیلئے پولیس کو غیر سیاسی اور عوام کی حقیقی خادم بنانے پر بھی توجہ دیں تاکہ صوبے میں جرائم کا خاتمہ ہوسکے اور امن و امان کا قیام ممکن بنایا جاسکے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حسب روایت بجٹ کو عوام دشمن قراردے کر مسترد کردیا ہے اور متبادل تجاویز نہیں دیں۔ پاکستان کسان اتحاد جو گزشتہ ایک سال سے اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر احتجاج کررہا ہے اسکے لیڈر خالد کھوکھر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بجٹ میں ٹریکٹروں پر جو سبسڈی دی گئی ہے اس سے صرف 25ہزار بڑے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ لاکھوں کسان غربت کی لکیر کے نیچے چلے جائینگے۔ شریف برادران چونکہ تاجر اور صنعتکار ہیں اس لیے ان کا جھکائو واضح طور پر تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب ہوتا ہے جبکہ کسان بری طرح نظر انداز ہوتے ہیں۔ وزیر خزانہ پنجاب ڈاکٹر عائشہ نے 2009ء میں ایک معاشی رپورٹ تیار کی تھی جس میں لکھا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے اضافی فنڈز کو غربت کے خاتمے اور خواتین کی ترقی کیلئے استعمال کیا جانا چاہیئے اور شہری و دیہاتی آبادی کی ترقی میں توازن قائم کیا جانا چاہیئے۔ موجودہ بجٹ میں شہروں میں خرچ کیا جانیوالا بجٹ تعلیم اور صحت کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے اور ڈاکٹر عائشہ خود اپنے ہی وژن پر عمل کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ نے موجودہ بجٹ میں شہروں اور دیہاتوں کی مساوی اور متوازن ترقی اور غربت کے خاتمے کا خواب پورا نہیں ہونے دیا۔ ریونیو جمع کرنے کا گزشتہ ٹارگٹ 31فیصد کم رہا ہے لہذا ٹیکس نیٹ میں اضافے کے دعوے پر کیسے اعتبار کیا جائے۔
پاکستان کے سنجیدہ نوجوان صحافی شہزاد تنویر نے ایک منفرد کتاب ’’صحت ہی زندگی ہے‘‘ بطور گفٹ بھجوائی ہے جو ڈاکٹر ایس اے خان کی تصنیف ہے۔ پاکستان میں ملاوٹ اور آلودگی کی بناء پر بیماریوں میں اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ڈاکٹر من مانی فیسیں وصول کرکے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ کتاب دکھی انسانیت کیلئے تحفہ ہے۔ خوراک، سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے بیماریوں کا اعلاج تجویز کیا گیا ہے۔ موٹاپے سے نجات پانے، بلڈ پریشر، شوگر، کینسر، فالج، معدے کے السر، دل کی بیماری اور دوسری امراض کے علاج کیلئے یہ کتاب بہترین رہنما ہے جس کے ذریعے آپ گھر بیٹھے خود اپنا علاج کرسکتے ہیں اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ کتاب جمہوری پبلی کیشنز نے فرخ سہیل گوئندی کی نگرانی میں دیدہ زیب انداز میں شائع کی ہے اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔ قیمت 450روپے ہے۔ آج 17جون تاریخ کا سیاہ دن ہے گزشتہ سال اسی روز پنجاب پولیس نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منہاج القرآن ماڈل ٹائون میں معصوم اور بے گناہ مردوں اور خواتین کا قتل عام کیا تھا۔ حکومت کے نامزد کردہ کمیشن جسٹس باقر نجفی نے اس خون نا حق کی ذمے داری پنجاب حکومت پر ڈالی۔ خادم اعلیٰ پنجاب نے آئین اور قانون کی روح کو پامال کرتے ہوئے نیک نام اور غیر جانبدار جسٹس کی رپورٹ کو مسترد کرکے من پسند سرکاری ملازمین پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دے کر کلین چٹ حاصل کرلی مگر خدا کی بستی میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا۔ آج نہیں تو کل قاتل اپنے انجام کو پہنچیں گے۔