سب چور چور؟

17 جون 2015
سب چور چور؟

’’اس دنیا میں سب چور، چور، کوئی چھوٹا چور، کوئی بڑا چور‘‘ یہ لڑکپن میں دیکھی گئی کسی فلم کے گانے کے بول ہیں۔ اس کا فلمی پس منظر تو یاد نہیں ہے مگر اپنے اِردگرد، اپنے معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے یہ دراصل پاکستان کا منظر نامہ ہے۔ نائب قاصد اور کلرک سے 22 گریڈ کے اعلیٰ افسر‘ تک ریڑھی والے سے بڑے تاجر کون ہے جو ’’چور‘‘ نہیں ہے ۔
استنبول کے عجائب گھر میں شیشے کی الماری میں کچھ زیورات محفوظ ہیں جنہیں دیکھ کر ترک عوام کے دلوں میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے عقیدت و محبت کے چراغ جل اُٹھتے ہیں۔ ایک عام تاثر ہے یہ سارے مسلمان اب پاکستانی ہیں۔ اس الماری کے اوپر آویزاں تختی پر تحریر ہے ’’ترک خلافت کی تحریک کیلئے ہندوستانی مسلمان خواتین کے عطیات‘‘ ان زیورات کو یوں سنبھالے رکھنا اخلاص پر مبنی محبت کا مظہر ہے اسکے مقابلے میں ہم اپنے کردار پر نظر ڈالیں ترکی کی خاتونِ اوّل محترمہ آمنہ طیب اردوان، دادو میں سیلاب زدگان کی حالت دیکھ کر اتنی متاثر ہوئیں کہ اپنا قیمتی ہار گلے سے اُتار کر پاکستانی حکام کے حوالے کردیا کہ اسے فروخت کر کے متاثرین کے امدادی فنڈز کا حصہ بنا دیا جائے۔ اُس وقت کے نادرا کے چیئرمین نے پندرہ لاکھ روپے میں خرید لیا۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کچھ دنوں قبل انکشاف کیا کہ و ہ ہار نادرا آفس سے چوری ہو گیا ہے جبکہ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ نادرا کے چیئرمین ارشد حکیم نے یہ ہار اُس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو تحفتاً پیش کردیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ ایک خاتونِ اوّل کا ہار دوسری ’خاتونِ اوّل‘ ہی کے گلے کی زینت بننا چاہئے تھا۔
عام کہاوت ہے بعض افراد دولت کے معاملے میں قسمت کے دھنی ہوتے ہیں۔ جناب نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری کے بعد جناب الطاف حسین بھی قسمت کے دھنی ثابت ہوئے ہیں بعض رپورٹوں کے مطابق انکے لندن سمیت برطانوی شہروں میں دو کروڑ برطانوی پاؤنڈ یعنی 3 ارب 20 کروڑ روپے کے اثاثوں کا سراغ لگایا گیا ہے ان کا کاروبار یورپ، امریکہ اور ایشیا میں پھیلا ہوا ہے ان کی جائیدادیں اور کاروبار انکے قابلِ اعتماد ساتھیوں کے نام پر ہے۔ متحدہ کے حلقوں میں یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ جناب الطاف حسین اس دنیا سے رخصت ہوئے تو یہ لوگ قابض ہو جائیں گے اور صرف و ہی جائیداد باقی رہ جائے گی جو ان کی بیٹی فضہ الطاف کے نام ہے۔
اچھے کاموں کی تقلید لائقِ تحسین ہے طیب اردوان نے استنبول میں میٹرو بس سروس چلا کر شہریوں کو اضافی سہولت فراہم کی تھی لیکن اس سے قبل جو کام کیا گیا اور استنبول شہر کی مکمل صفائی مخصوص پوش علاقوں کے ساتھ ساتھ ہر گلی کوچے کو صفائی ستھرائی کا حُسن بخش دیا گیا۔ گلیوں اور سڑکوں کے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مثالی صفائی کے حامل ٹوائلٹس بنائے گئے۔ کوکب خواجہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ’’استنبول کی سڑکوں پر ٹوائلٹس فائیو سٹار ہوٹلوں کے ٹوائلٹس سے بھی زیادہ خوبصورت اور صاف ستھرے ہیں۔‘‘ پھر ان میں ’’داخلہ‘‘ بھی مفت ہے۔ ذہن میں یہ سوال کلبلانا فطری ہے کیا وزیراعلیٰ شہبازشریف نے بھی میٹرو بس سروس چلانے سے قبل ایسے اقدامات کئے ہیں۔‘‘ بلا تامل جواب نفی میں ہے شہر کی دوسری گلیوں کا تو کیا ذکر جن علاقوں سے میٹرو بس گزرتی ہے گجومتہ، نشاط کالونی، چونگی امرسدھو، قینچی، نصیر آباد، رحمان آباد، اچھرہ، سعدی پارک، لٹن روڈ وغیرہ کی اندرونی سڑکوں اور گلیوں کا حال دیکھ لیا جائے تو شہبازشریف کی ترجیحات پر ماتم کرنے کو جی چاہے گا۔ شہر میں جو چند مقامات پر پبلک ٹوائلٹس بنائے گئے ہیں ان میں ’’داخلہ فیس‘‘ دس روپے ہے اور تعفن کا عالم یہ ہے کہ اگر شہبازشریف صاحب ایک مرتبہ ان میں داخل ہو جائیں تو شاید ایک ہفتہ بے ہوش رہیں گے۔ سرکاری ہسپتالوں میں نہ مطلوبہ ڈاکٹرز ہیں نہ ادویات، مہلک امراض میں مبتلا لوگ برآمدوں میں پڑے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ دل کے مریضوں تک لئے بیڈز خالی نہیں ہوتے۔ ایک بیڈ پر دو سے تین مریض معمول کی بات ہے۔ سرکاری میڈیکل کالجوں میں تین سے چار لاکھ روپے میں ایک ڈاکٹر تیار ہو جاتا ہے جبکہ پرائیویٹ کالج میں فیس ہی چالیس سے پنتالیس لاکھ روپے ہے دیگر اخراجات الگ ہیں اس صورتحال میں سرکاری میڈیکل کالجوں کا قیام بند کر کے پرائیویٹ کالجوں کو عام اجازت دی جائے تو اس گمان کی نفی کیسے کی جا سکتی ہے کہ اس کا مقصد پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے تاجر مالکان کو فائدہ پہنچانا ہے اور کس کس نے میڈیکل کالج بنا رکھے ہیں‘ یہ کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔
نوشیرواں ایران کا مشہور بادشاہ گزرا ہے جس کا ’’عدل‘‘ بھی بہت مشہور تھا۔ ایک مرتبہ اس نے رعایا پر نیا ٹیکس عائد کیا اور درباریوں سے اس حوالے سے رائے طلب کی۔ ایک میرمنشی کی بدقسمتی کہ بادشاہ کے اس فیصلے کو عوام کیلئے تکلیف دہ قرار دے بیٹھا۔ نوشیرواں نے تمام میر منشیوں کو دربار میں جمع کیا اور کہا کہ اپنے لکڑی کے قلمدان اس کے سر پر ماریں‘ یہ عمل اس کی روح پرواز کرنے تک جاری رہا۔ پھر بادشاہ نے دوسرے درباریوں سے اس عمل کے حوالے سے سوال کیا سب نے کہا حضورحکم شاہی کی مخالفت بغاوت ہے باغی سزا کا مستحق ہے باغی کی سزا کا فیصلہ عدل و انصاف کا مظہر ہے پھر رعایا پر نیا ٹیکس انکی بھلائی کا ہی سامان ہے۔ جدید دور کے درباری زیادہ سمجھدار ہیں اور ان میں کوئی ایک بھی ’’میر منشی‘‘ نہیں جو سچ کہہ سکے اس لئے جدید دور کے ’’بادشاہوں‘‘ کے تمام فیصلے عوام کی بھلائی کیلئے ہی ہوتے ہیں۔ دو فریقوں یا دو طبقوں کے مابین مساوات قائم کرنا بھی عین عدل و انصاف ہے۔ اُڑتی اُڑتی خبر یہ ہے کہ ایک ادارے کے دو شعبوں میں ’’تقریباً‘‘ ایک جیسا ملتا جلتا کام کرنے والوں کے معاوضہ میں خاصا فرق ہے۔ مثلاً اگر ایک شعبے کے کارکن کا معاوضہ سو روپے تو دوسرے شعبے کے کارکن کا معاوضہ 500 روپے ہے۔ اس ناانصافی کے خاتمے کیلئے 500 روپے معاوضے کو 100 روپے معاوضے کے برابر لانے کی تجویز زیرغور ہے۔ اس سے نہ صرف مساوات قائم ہو جائیگی بلکہ 100 روپے معاوضہ پانے والے احساس کمتری سے بھی نجات پا جائینگے۔ اگر کسی کو اس میں نوشیرواں کے ’’عدل‘‘ کی جھلک نظر آئے تو اسکی مرضی‘ مساوات سے بہرحال انکار نہیں کیا جا سکتا۔ رہی اس ادارے کی شناخت تو جب چاند چڑھے گا دنیا دیکھ لے گی۔