اسلام آباد ہائیکورٹ:ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل قابل سماعت قرار، نیب کو نوٹس جاری

Jul 17, 2018 | 13:50

ویب ڈیسک

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف، مریم اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا جب کہ سابق وزیراعظم کی دیگر دو ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی، نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ نیب لندن فلیٹس کی قیمت بتانے میں ناکام رہا,واجد ضیا نے تسلیم کیا کہ بچے نوازشریف کے زیرکفالت ہونے کے ثبوت نہیں ملے، نواز شریف کو یہ نوٹس ہی نہیں دیا گیا کہ کیا بچے اس کے زیر کفالت تھے یا نہیں،کسی گواہ نے نہیں کہا کہ بچے نواز شریف کے بے نامی دار ہیں،دستاویزات میں نوازشریف کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا،جرح کے دوران واجد ضیا نے منی فلوچارٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا،مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے بتا کہ مریم نواز پر بینیفشل آنر کا الزام ہے، انہیں 2012 میں موزیک فونسیکا کو لکھے گئے دو خطوط کی بنیاد پر سزا دی گئی، موزیک فونسیکا کے ان خطوط کا متن استغاثہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، کیلیبری فونٹ سے متعلق صرف رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ ہے، ماہر کی رائے ایک کمزور ثبوت ہوتا ہے، 174 صفحات کے فیصلے میں کیپٹن (ر) صفدر کیلئے صرف ایک لائن لکھی گئی ، جس میں کہا گیا کہ کیپٹن (ر) صفدر نے جو دستخط کیئے اس بنیاد پر انہیں دو اکاﺅنٹس پر سزا دی گئی ، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نوازشریف، مریم اور محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی ، عدالت نے تینوں درخواستوں کی علیحدہ علیحدہ سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن)کے رہنما راجہ ظفر الحق، پرویز رشید اور بیرسٹرظفراللہ عدالت میں موجود تھے ۔ عدالت نے پہلے نوازشریف کی جانب سے فلیگ شپ اور العزیزیہ کے ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کی اپیل مسترد ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا اور احتساب عدالت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ ریفرنسز کی کیا اسٹیج ہے؟ بار ثبوت آپ پر شفٹ کردیا گیا؟ یہ جج کا تعصب تھا؟خواجہ حارث نے کہا کہ جج کے تعصب یا پرسنل گرج کی بات نہیں، جج ایک ریفرنس میں اپنی رائے قائم کرکے فائنڈنگ دے چکے ہیں، فیئرٹرائل کے لیے مناسب یہی ہے کہ دیگر دو ریفرنسز وہ نہ سنیں، دیگردو ریفرنسز میں واجد ضیا پر جرح کررہا ہوں، وہ دونوں ریفرنسز میں مشترکہ گواہ ہیں۔جسٹس گل حسن اورنگزیب نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ باقی دو ریفرنسز پر کیا رائے دی گئی ہے؟ کیا فیصلے میں دیگر ریفرنسز پر کوئی فائنڈنگ دی گئی ہے؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ یہ کیس نہیں ہے، وہ ایک کیس میں اپنی مکمل رائے دے چکے ہیں، جج محمد بشیر دیگر دو ریفرنسز کو نہیں سن سکتے۔ عدالت نے نوازشریف کی ریفرنسز منتقلی کی درخواست سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل قابل سماعت قرار دے دی۔تاہم عدالت نے نوازشریف کی جانب سے فیصلے تک حکم امتناع دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نیب کونوٹس جاری کردیئے اور درخواست کی مزید سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔اس کے بعد عدالت نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت شروع کی اور خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کیا۔ سماعت کے آغازپر جسٹس گل حسن نے خواجہ حارث سے سوال کیا کہ نیب لندن فلیٹس کی قیمت بتانے میں ناکام رہا؟ اس پر انہوں نے جواب دیا جی ہاں ایسا ہی ہے۔نوازشریف کے وکیل نے استدعا کی کہ اپیل کے فیصلے تک سزائیں معطل کی جائیں جس پر جسٹس محسن کیانی نے ریمارکس دیئے کہ سزا معطلی پر بھی نوٹس جاری کردیتے ہیں۔خواجہ حارث نے بتایا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ عام طور پر بچے والدین کے زیر کفالت ہوتے ہیں، دوران جرح واجد ضیا نے تسلیم کیا کہ بچے نوازشریف کے زیرکفالت ہونے کے ثبوت نہیں ملے، نواز شریف کو یہ نوٹس ہی نہیں دیا گیا کہ کیا بچے اس کے زیر کفالت تھے یا نہیں۔نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ بے نامی دار کی تعریف نیب آرڈیننس میں کردی گئی ہے، ان کے مکل پر فرد جرم عائد کی گئی کہ اثاثے بے نامی دارکے نام تھے، کسی گواہ نے نہیں کہا کہ بچے نواز شریف کے بے نامی دار ہیں۔جسٹس محسن نے سوال کیا کہ ٹائٹل دستاویزات ریکارڈ پر آئیں؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ جی ان دستاویزات میں نوازشریف کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا، واجد ضیا سے پوچھا انہوں نے کہا نوازشریف کاکوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، کمپنیزکے کنٹرول سے متعلق بھی انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔جسٹس محسن نے سوال کیا کہ شواہد کی کڑی مسنگ ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جی سربالکل۔جسٹس محسن نے مزید سوال کیا کہ بچوں کے میڈیا پر انٹرویوز سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ بچوں کے انٹرویوزکے علاوہ نواز شریف نے بھی خطاب کیا، انہوں نے کبھی ان اثاثوں کی ملکیت تسلیم نہیں کی۔جسٹس گل حسن نے سوال کیا کہ کس نے ٹیکس ادا کیا؟ مورگیج کا اصول کیا تھا؟ جسٹس محسن نے پوچھا کہ آپ یہ تسلیم نہیں کرتے؟ خواجہ حارث نے جسٹس محسن کے سوال پر جواب دیا کہ جی ہاں بالکل۔جسٹس محسن نے کہا کہ سارے معلوم ذرائع ریکارڈ پر آگئے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سارے معلوم ذرائع ریکارڈ پر نہیں آئے، یہ ایک الگ دلچسپ کہانی ہے، جرح کے دوران واجد ضیا نے منی فلوچارٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن نے سوال کیا کہ مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ کا معاملہ کیا ہے؟ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اس بارے میں امجد پرویز بتائیں گے۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل شروع کیے تو جسٹس گل حسن نے سوال کیا کہ کیا مریم نواز پر بینیفشل آنر کا الزام ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی مریم نواز پر بینیفشل آنر ہونےکا ہی الزام ہے، انہیں 2012 میں موزیک فونسیکا کو لکھے گئے دو خطوط کی بنیاد پر سزا دی گئی، موزیک فونسیکا کے ان خطوط کا متن استغاثہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، کیلیبری فونٹ سے متعلق صرف رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ ہے، ماہر کی رائے ایک کمزور ثبوت ہوتا ہے۔ عدالت نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی اپیلوں پرنیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کر تے ہوئے درخواست کی مزید سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزیدخبریں