عدالتیں PREDICTIONS پر فیصلے نہیں کرتیں…

17 جولائی 2017

جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ سے پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آ گیا ہے۔ اس سیاسی بحران کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ حکمرانوں سمیت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے تحقیقاتی رپورٹ سے متعلقہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی اپنی اپنی PREDICTIONS کا سلسلہ شروع کر دیا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو پانامہ رپورٹ مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ حکومت کو یہ توقع ضرور تھی کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے اداروں میں فرائض سرانجام دینے والے گریڈ 18 اور گریڈ 19 کے افسران وزیراعظم اور ان کی فیملی کے خلاف پانامہ کے حوالے سے اٹھائے گئے بعض سوالات کے دوران کہیں نہ کہیں نرم گوشے کا سہارا لینے پر ضرور مجبور ہوں گے کیونکہ سرکاری ملازمت اور سرکاری مراعات سے لطف اندوز ہونے والے ان افسران کو بھی تو 21 گریڈ تک پہنچنے کا اپنا مخصوص سفر طے کرنا ابھی باقی ہے مگر افسوس! حکومت کی یہ توقعات تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے ساتھ ہی دم توڑ گئی ہیں۔
سیاسی بھونچال کا سماں پیش کرنے والے ان حالات میں مجھے اپنے شعیب بن عزیز اس لئے بھی شدت سے یاد آنے لگ گئے ہیں کہ ان کی ’’سرد راتوں‘‘ پر کسی مشہور زمانہ غزل کے ایک مصرعے ع
اس طرح تو ہوتا ہے پھر اس طرح کے کاموں میں
نے راتوں رات انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ایسے ہی قومی اور سیاسی حالات کے پس منظر میں انہوں نے شاید یہ غزل لکھی ہو گی جبکہ دوسری طرف صوفی شاعر میاں محمد بخشؒ کے اس عارفانہ کلام میں کہ ع
دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی مر جانا
میں ایک ایسا واضح پیغام ہے جو انہوں نے اسی طرح کے معاشرتی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے دیا مگر افسوس! معاشرے میں ہم ایسے پیغامات اور اقوال کا اب ادراک ہی نہیں کر پا رہے جس کی سب سے بڑی وجہ کتاب اور فلسفہ سے ہماری مکمل لاتعلقی ہے۔ قومی ترجیحات کو جب شخصی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو قومیں اسی طرح ہی بحرانوں کا شکار ہوتی ہیں۔
آج پھر پیر 17 جولائی کا دن ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی مرتب کردہ رپورٹ پر عدالت عظمیٰ نے پھر سے حکومتی وکلاء سے سوال و جوابات کے سلسلے کا آغاز کرنا ہے سیاسی مبصرین کے مطابق سیاسی طور پر یہ وقت بھی حکومت کے لئے بھاری ہو گا کہ مرحلہ اب حتمی فیصلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں کیا فیصلہ کرتی ہے اس بارے میں کچھ کہنا یا پیشن گوئی کرنا اسلئے بھی قبل از وقت ہے کہ ہماری سیاست اور جمہوریت میں بعض اوقات وہ کچھ ہو جاتا ہے جو دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں نہیں ہوتا… اور کئی بار ہمارے ہاں وہ کچھ ہو جاتا ہے جس کے بارے میں قوم نے کبھی سوچا تک نہیں ہوتا؟ اس سلسلہ میں امریکی ریمنڈ ڈیوس کی حال ہی میں منظرعام پر آنے والی کتاب THE CONTRACTOR کا مطالعہ ضروری ہے۔
اب یہ سوال کہ جے آئی ٹی کی تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ واقعی وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف لئے بیانات کے لئے کافی ہو گی؟ اس جواب کے لئے بھی قسطیں درکار ہوں گی۔ رپورٹ کے مندرجات میں جب یہ وضاحت کر دی گئی کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کی طرز زندگی کے مقابلے میں ان کی بتائی گئی آمدن میں فرق پایا گیا ہے؟ تو میری دانست میں عدالت عظمیٰ کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دیئے گئے سوالات کا پہلا جواب مل گیا… اس طرح ان سولات پرکہ ’’نیلسن‘‘ اور ’’نسیکول کمپنیوں‘‘ کے اصلی مالکان کون ہیں؟
سٹیل مل کس طرح قائم کی گئی‘ مل کو فروخت کی وجوہات اور فروحت سے حاصل شدہ رقوم کہاں استعمال ہوئی‘ رقوم جدہ، قطر اور لندن کیسے منتقل ہوئیں‘ 90 کی دہائی میں حسن اور حسین کی عمریں کیا اتنی تھیں کہ فلیٹس خرید کر وہ OWNER بن گئے۔
عدالت عظمیٰ کو اب فیصلہ دینا ہے۔ فیصلہ دینے کی مدت دن، ہفتے اور مہینوں میں بھی ہو سکتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی وزیراعظم اور ان کے خاندان پر پانامہ کے حوالہ سے لگائے گئے الزامات پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ ہو گا۔
برطانیہ سمیت یورپی ممالک کی نظریں بھی اب سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔ برطانوی سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی پیش گوئیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ THE ECONOMIC TIME نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ فوج اور وزیراعظم کا معاملہ اپنی جگہ قائم ہے تاہم وزیراعظم کو ہٹانے سے فوج مزید طاقتور ہو سکتی ہے اور اس طرح کی صورت حال بھارت کو پسند نہیں۔ فوج اگر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے تو کشمیر ایشو پر اس کی گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ اکنامک ٹائم نے لکھا کہ اصل معاملہ جمہوری نظام کے قائم رہنے کا ہے جو نوازشریف کے اقتدار میں نہ رہنے کے باوجود بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس لئے استحکام جمہوریت کے لئے نوازشریف کو درست سمت کا انتحاب کرنا ہو گا۔
ادھر جرمنی کے نشریاتی ادارے نے بھی پاکستان میں جاری بحران کو سنگین قرار دیا ہے۔ جبکہ پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے بعض حلقے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو شریف خاندان کے لئے مشکل ہی نہیں چیلنج بھی قرار دے رہے ہیں ان کے خیال کے مطابق وزیراعظم کو عدالتی فیصلے سے قبل ہی مستعفی ہو جانا چاہئے؟
معروف کاروباری شخصیت ملک انوار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کے مستعفی ہونے کی صورت میں مسلم لیگ ن بدستور اقتدار میں رہے گی۔ نئے وزیراعظم سے جمہوریت کو استحکام ملے گا۔ معاملہ چونکہ سیاست اور وہ بھی ’’پاکستانی سیاست‘‘ کا ہے اس لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے برطانوی پاکستانی ملک میں آئندہ دو ہفتوں میں سیاست کا رخ تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
جہاں تک سیاست میں احترام اور اخلاقیات کا تعلق ہے تو مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اپنے آپ کو ارسطو اور برٹنڈرسل تصور کرنے والے بعض بڑے بڑے سیاستدان اور وزراء بھی تاہنوز ذاتی مفادات اور LICKING DISEASE کا بری طرح شکار ہیں۔ اب یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی کہ سپریم کورٹ مسلم لیگ (ن) کے خلاف نہیں بلکہ پانامہ لیکس کے حوالہ سے وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف عائد الزامات کا فیصلہ کرنے جا رہی ہے یہ کہہ دینا کہ تحقیقاتی رپورٹ بددیانتی پہ مبنی ہے یا رپورٹ محض ردی کا ایک ٹکڑا ہے یا پھر یہ پکوڑوںکے لئے کاغذ ہے‘ کسی طرح بھی درست نہیں جب حکومت خود اپنے ہی اداروں کو حِس مزاح کا نشانہ بنائے گی تو سوشل میڈیا پر تو قوم پھر حکمرانوں کی ’’لا پا‘‘ کے رکھے گی ہی۔