جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود شواہد پہلے دن سے ہی ردی کی ٹوکری قرار دیے جارہے تھے:دانیال عزیز

17 جولائی 2017 (13:48)

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ ابہام پر مبنی ہے جس میں کوئی حتمی رائے شامل نہیں اورابہام پر مشتمل ہے جس میں حقائق نظرانداز کئے گئے،کتنی باریکی سے جے آئی ٹی نے کام کیا ہے.تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے یہ نہیں پوچھا کہ نیسکول کمپنی کے مالک کون ہیں ؟پیرکوسپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے دانیال عزیز کاکہناتھاکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود شواہد پہلے دن سے ہی ردی کی ٹوکری قرار دیے جارہے تھے اور اب ججز نے بھی بار بار دستاویزات کی تصدیق کے سوالات اٹھائے ہیں۔دانیال عزیز نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی حتمی رائے نہیں بلکہ یہ رپورٹ ابہام پر مشتمل ہے جس میں حقائق نظرانداز کئے گئے ہیں جب کہ رپورٹ میں زیادہ تر موسٹ لائیکلی کا لفظ استعمال کیا گیا۔دانیال عزیز نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ دستاویزات قانونی شہادت کے لئے کارآمد ہیں اور قانون شہادت آرڈر کے تحت کیا کہ دستاویزات استعمال بھی کی جاسکتی ہیں یا نہیں۔رہنما نون لیگ نے کہا کہ کتنی باریکی سے جے آئی ٹی نے کام کیا ہے، تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے یہ نہیں پوچھا کہ نیسکول کمپنی کے مالک کون ہیں اور 2004 کی دستاویزات ثابت نہیں ہوئی لیکن 2006 کی تصدیق ہوگئی۔