سی ڈی اے کے ایک ہزار افسران و ملازمین کی ترقی غیر قانونی قرار،شوکاز نوٹس

17 جولائی 2017

اسلام آباد( وقائع نگار) وفاقی ترقےاتی ادارے ( سی ڈی اے ) کی انتظامےہ نے سی ڈی اے مےں گزشتہ 10سالوں مےں پرسنل اپگرےڈےشن حاصل کرنے والے اےک ہزار افسران و ملازمےن کی ترقی کو انکوائر ی کمےٹی کی جانب سے غےر قانونی قرار دےنے کی سفارش پرکاروائی شروع کرتے ہوئے فوائد حاصل کرنے والے 45گزٹےڈ افسران کو شوکاز نوٹس جار ی کردئےے ہےں ۔ شوکاز نوٹس سی ڈی اے کی پانچ رکنی کمےٹی کی سفارشات کی روشنی مےں جاری کےے گئے ہےں ۔ وفاقی ترقےاتی ادارے ( سی ڈی اے ) مےں اےڈمنسٹرےشن نے اےک بہت اہم نوعےت کے کےس مےں بڑی پےشرفت کی ہے ممبر اےڈمنسٹرےشن ےاسر پےرزادہ کی خصوصی دلچسپی کے باعث سی ڈی اے کی تارےخ کا اہم کےس جس مےں ہزاروں افسران و ملازمےن کو سی ڈی اے رےگولےشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شولڈر پروموشن دی گئی ہےں اس کی انکوائری رپورٹ مکمل کی گئی ہے اور تمام فوائد حاصل کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ کاروائی کا آغاز کردےا ہے رواں سال مارچ مےں ممبر اےڈمنسٹرےشن کی ہداےت پر ڈائرےکٹر کےو اےس اعجاز صدےقی کی نگرانی مےں پانچ رکنی انکوائری کمےٹی تشکےل دی تھی جس مےں ڈائرےکٹر پبلک رےلےشن مظہر محمود ، آفتاب سلےم اور ارشد آفرےدی شامل تھے ۔ کمےٹی نے اپنی سفارشات مےں اےچ آر ڈی کے عدم تعاون کی شکاےت کرتے ہوئے قرار دےا ہے کہ سی ڈی اے مےں حال ہی مےں کی جانےو الے اےک ہزار اڑسٹھ پرسنل اپ گرےڈےشن ، چےنج آف کےڈر کے تحت دی جانے والی ترقےوں مےں سروس رولز کی صرحےحاًخلاف ورزی کی گئی ہے جس سے ادارے کے بجٹ مےں 20کروڑ روپے سے زائد ماہانہ اضافہ ہوا ہے کمےٹی نے اپنی سفارشات مےں قرار دےا ہے کہ افسران و ملازمےن کو ان کی پرسنل درخواستوںپر اےسی اسامےاں کے خلاف ترقی دی گئی ہے جن کا کوئی وجود ہی نہےں تھا اور اس شولڈرپروموشن مےں انہےں بےک ڈےٹ مےں کرڑوں روپے کے بقاےا جات بھی دئےے گئے ہےں کمےٹی نے سفارش کی ہے کہ اتھارٹی سپرےم کورٹ آف پاکستان کے 2013کے فےصلے کی روشنی مےں مذکورہ تمام اپگرےڈےشنز کو خلاف ضابطہ قرار دے کر اس وقت کے چےئرمےن ، ممبر اےڈمن ، ڈائرےکٹرجنرل اےچ آر ڈی ، ڈپٹی ڈائرےکٹر ، اسسٹنٹ ڈائرےکٹر اور تمام اےچ آر اوز پر ذمہ داری عائد کرکے ان سے رےکوری کی جائے انکوائری کمےٹی کی سفارشات پر گزشتہ روز سی ڈی اے کے ممبر اےڈمنسٹرےشن نے ابتدائی طورپر 45گزٹےڈ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کرلی ہے۔