سیکٹر جی سکس میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ واگزار‘ 3افراد گرفتار

17 جولائی 2017

اسلام آباد ( وقائع نگار) کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی انسدادِ تجاوزات مہم شہر کی خوبصورتی ، قدرتی حسن اور سر سبز ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ماہِ جون کے دوران 94 انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت کاروائیاں عمل میں لائی گئی اور 42,200/- روپے جرمانہ کی مد میں سرکاری خزانہ میں جمع کروائے گئے۔ انسدادِ تجاوزات مہم کے ذریعے شہر بھر سے غیر قانونی تعمیرات اورتجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے۔انسدادِ تجاوزات کی مہم شہر بھر سے ہر قسم کی تجاوزات اور غیر قانونی تجاوزات کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر نے سی ڈی اے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ کی ماہ جون کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹین کارپوریشن اسلام آباد(ایم سی آئی) کے متعلقہ سینئر افسران بھی موجود تھے۔ میئر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز نے ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ کی کارکردگی پر تسلی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولیات کے لیے انسدادِ تجاوزات مہم کو مزیدتیز کیا جائے اور انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ انسدادِ تجاوزات مہم کوموئثر رابطہ کے ذریعے بہتر سے بہتر بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے موثر نتائج کے لیے خصوصاً تاجر برادری اور تاجر تنظیموں کی سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی انسدادِ تجاوزات مہم میں معاونت کو یقینی بنایا جائے۔ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر انفورسمنٹ نے اجلاس کو بتایا کہ ماہِ جون کے دوران شہر بھر میں 94انسدادِ تجاوزات مہم کی کاروائیاں بلا امتیاز و خوف عمل میں لائی گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انسدادِ تجاوزات مہم کو تیز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کاروائی کی گئی جس کے تحت متذکرہ بالا دورانیہ میں کی جانے والی انسداد تجاوزات کی94کاروائیوں کے دوران غیر قانونی تعمیراتی گرائی گئیں جن میں10 غیر قانونی کمرے،11 غیر قانونی دیواریں،04 غیر قانونی دکانیں ،07 کھوکے ،ٹی سٹال اور چھپر ہوٹل،52 جھگیاں،10فروٹ اور سبزی کے سٹال،29 بلڈنگ میٹریل اور سکریپ کے ڈپو کے علاوہ 01 غیر قانونی طور پر اشیاءفروخت کرنے والی گاڑیاں۔ انسدادِ تجاوزات کی کاروائیوں کے دوران 1563 باعث تجاوزات اشیاءکو قبضہ میں لے لیا گیا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ متذکرہ بالا دورانیہ میںسیکٹرE-11 میں ایک بند سڑک کو ایک بڑی انسدادِ تجاوزات کی کاروائی کر کے تجاوزات کو ختم کرتے ہوئے بندراستہ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔اسی طرح سرکاری اراضی کو غیر قانونی قبضہ سے واگزار کروانے کی کاروائی کے دوران تین افراد کو تھانہ سیکرٹریٹ کے حوالے کر دیا گیا۔ سیکٹر G-6 میں ایک سرکاری رہائش گاہ پر غیر قانونی قبضہ بھی واگزار کروایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیکٹر G-7/1 میں ایک پبلک ٹائیلٹ سے غیر قانونی قبضہ کو ختم کروانے کے ساتھ ساتھ 03 مقامات پر غیر قانونی پانی کے بور کرنے کے کام کو روک دیا گیا جبکہ 15 غیر قانونی پانی کے کنکشن بھی ختم کیے گئے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ان کاروائیوں میں مختلف مقامات اور پلازوں میں غیر قانونی تعمیرات اور شیٹرنگ کو بھی ختم کروایا گیا۔مزید برآں سیکٹر F-12 میںمین شاہراہ کے ساتھ تجاوزات کو ختم کرنے کی ایک بڑی کاروائی عمل میں لائی گئی۔