تبدیلی قربانیوں سے آئے گی، مظلوموں کی ڈھال بنیں گے:ڈاکٹر خالد محمود

17 جولائی 2017

اسلام آباد( نوائے وقت رپورٹ) جماعت اسلامی آزاد جموںوکشمیر کے زیر اہتمام نو منتخب امیر ڈاکٹر خالد محمود کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر ریاست آزاد ریاست جموںوکشمیر جنرل انور نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرح دیگر سیاسی جماعتیں بھی یہی کلچر اپنائیں جماعت اسلامی نے آج پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کی امین ہے سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی کی خدمات قابل تحسین ہیں جب میں صدر تھا ان کے ساتھ بھرپور رابطہ رہتا تھامیری ڈاکٹر خالد محمود کے لیے دعا ہے کہ وہ اس تحریک کو آگے لے کر چلیں، تقریب سے سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی،سابق امیر جماعت اسلامی سردار اعجاز افضل خان، نورالباری، بریگیڈیر زرین، شیخ عقیل الرحمان، مشتاق ایڈووکیٹ، اظہر اقبال حسن، ارشد ندیم ایڈووکیٹ سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا، حلف اٹھانے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ میں قائد کشمیر عبدالرشید ترابی سمیت اپنے قائدین سے مشاورت کے بعد جماعت کو آگے لے کر چلوں گا ،مجھے امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی نے فون کر کے اطلاع دی اس وقت تک میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ارکان مجھ نا تواں پر یہ بوجھ ڈالیں گے ،خاص طور پر جنرل انور صاحب کا شکریہ ادا کرتاہوں وہ تشریف لائے میں جنرل انور اور بریگیڈیر زرین کو جماعت اسلامی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں ،کشمیر کی آزادی اور فریضہ اقامت دین کے لیے یہ جماعت معروض وجود میں آئی ہے اور ہم سب مل کر اس مشن کی تکمیل کریں گے کشمیر میں بچیاں اور نوجوان ایک طرف بستے اور دوسری طرف پتھر اٹھائے بھارتی استعمار کے سامنے سینہ سپر ہیں ایسی قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ،نریندر مودی نے سہارا حاصل کرنے کے لیے کشمیریوں کے ہیرو سید صلاح الدین کو دہشت گرد کا لیبل لگانے کی سازش کی ہے لیکن جماعت اسلامی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ہمارے اسلاف نے آزادی اوردین کی خاطر بے پنا قربانیاں پیش کی ہیں زندہ کھالیں کھنچوائی ہیں میں اس عزم کا اظہار کرتا ہوں کہ جماعت اسلامی اپنے دستوری ہدف کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھے گی ،انہوں نے کہاکہ 70سالوں سے آزاد خطہ جن مسائل کا شکار ہے اس کی ذمہ دار ہماری یہ قیادت ہے ہم آزاد خطے کو ایک ماڈل ریاست بنائیں گے اس کے لیے مجھے آپ کا تعاون چاہےے انہوں نے کہا کہ مصر میں سید قطب شہید اما حسن البنا شہید اور برصغیر میں سید مودودی کی فکر کو نکال دیا جائے تو راکھ کا ڈھیر باقی رہے گا ہم سید قطب،اما حسن النبا اور سید مودودی کی فکر کو لے کر میدان میں اترے ہیں اللہ کے دین کو غالب کریں گے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں غریب ادویات سے محروم ہیں ڈگریاں تھامے نوجوان در بدر کے دھکے کھا رہے ہیں 50لاکھ آبادی میں سے 13لاکھ بیرون ملک نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں ہمارے پاس روبی جیسا قیمتی پتھر اور نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں ہم ان کی صلاحیتوں اور اپنے وسائل کو براﺅ کار لا کر اس خطے کو ماڈل خطہ بنا سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مظلوم اور بے سہارا لوگوں کے لیے ڈھال بنے گی اس کی داد رسی کرے گی ،انہوں نے کہا کہ ہمارے صحافی بھی یہاں موجود ہیں اخبارات کے لیے ضرور وقت نکالیں مگر قرآن کی تعلیم اور سیرت کے مطالعے کے لیے بھی اپنا وقت نکالیں اپنے روزانہ کے معمولات میں سے ایک گھنٹہ دین کی تعلیم کے لیے ضرورنکالیں انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان ہو یا آزادکشمیر یہاں پر مسائل ہم ہی حل کر سکتے ہیں آج ہمارے پاس اسمبلی میں دو نشستیں ہیں 2021ءمیں 15سیٹوں کے ساتھ اسمبلی میں ہوں گے اس کا م کو کرنے کے لیے آپ کو دن رات ایک کرنا ہو گا ہر سطح پر تنظیم مضبوط کرنا ہو گی اپنی رفتار میں اضافہ کرنا ہوگا تبدیلی اور انقلاب قربانیوں کے نتیجے میں آتے ہیں ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہا کہ جماعت اسلامی اس خطے کا قیمتی اثاثہ ہے جماعت اسلامی نے تحریک آزادی کشمیر کے خلاف ہونے والے ہر سازش کو ناکام بنایا ہے جماعت اسلامی کا یوم تاسیس 13جولائی کے دن کا انتخاب بھی اسی لیے کیا گیا کہ اس دن مقبوضہ کشمیر کے اندر اذان مکمل کرتے ہوئے 22کشمیریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے میں نے تجویز دی تھی کہ ڈاکٹر خالد محمود کا حلف بھی اسی دن کرایا جائے مظفر آباد یا راولاکوٹ میں تا کہ اس دن کی اہمیت تازہ رہے جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا عبدالباری نے گران قدر خدمات سرا نجام دیں اسی طرح کرنل رشید عباسی مرحوم نے اس قافلے کی آبیاری کی ان کی اچانک رخلت کے بعد یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر آن پڑی اس وقت ہمارے پاس اتنی بڑی ٹیم بھی نہیں تھی تحریک آزادی کشمیر کا محاذ پر گرم ہو گیا ہزاروں لوگ آزاد کشمیر میں داخل ہوے تو میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا کہ کیسے اس مقام پر کام شروع کیا میری اپیل پر سردار اعجاز افضل ،ڈاکٹر خالد محمود ،انجینئر خالد ،صغیر قمر،قاضی شاہد حمید ،عبدلعلیم خان،گلزار اختر کاشمیری سمیت دیگر دوستوں نے اچھی نوکریاں چھوڑیں اور اس تحریک کا ہر اول دستہ بنے اس سے قبل آزادکشمیر کے 3بڑے نام تھے جو تشخص کی بات کررہے ہیں جن میں غازی ملت سردار ابراہیم خان،سردار عبدالقیوم خان اورکے ایچ خورشید جب بھٹو نے صوبہ بنانے کی کوشش کی تو دونوں بڑے قائدین نے ہتھیار ڈال دئےے جمعیت اس وقت اس کے خلاف کھڑی ہوئی میرپور میں ہم نے مظاہرہ کیا تو بھٹو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹا 89سے 2002تک اور 2008سے 2017تک میں نے کوشش کی کہ تحریک کو آگے لے کر جائیں ادارے قائم کیے ،مساجد مدارس فاﺅنڈیشن قائم کی جس کے تحت 150سے زائد دینی ادارے قائم کےے ریڈ فاﺅنڈیشن کے 400سے زائد سکولز ہیں جن میں 1لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں 15ہزار اساتذہ کام کررہے ہیں کشمیر پریس انٹرنیشنل اورثنانیوز جیسے ادارے قائم ہوئے اسی طرح کشمیریوںکی آواز کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچایا سردار اعجاز افضل جب امیر تھے تو جنرل مشرف نے یوٹرن لیا تو ساری قیادت ان کی ٹرین پر چڑ گئی لیکن سردار اعجاز افضل کی قیادت میں جماعت اسلامی اپنے موقف پر قائم رہی ،آج الحمد اللہ جماعت اسلامی ایک تناور درخت ہے ہماری طاقت ہے افراد ہیں میں ڈاکٹر خالد محمود کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کروں گا۔