سپین کشمیریوں کی نسل کشی، انسانیت کیخلاف جرائم رکوانے کیلئے کردار ادا کرے:صدر مسعود

17 جولائی 2017

بارسلونا (آئی این پی) صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان کی بار سلونا میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں اور ارکان صوبائی و مرکزی اسمبلی سے ملاقاتیں ۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں تعاون اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اورانسانیت کے خلاف جرائم رکوانے کی اپیل کر دی ۔ صدر سردارمسعود خان نے کہا کہ سپین ترقی یافتہ یورپ کا اہم حصہ ہے ۔ برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد سپین کا شمار یورپی یونین کے بڑے ممالک میں ہو گا ۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں پاکستا ن اور سپین نے ہمیشہ یکساں موقف اختیار کیا ۔ سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں اضافے کا معاملہ ہو یا انسانی حقوق کا تحفظ ہمارا موقف ایک ہی رہا ہے ۔ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر کی حیثیت سے بھی سپین نے دو سال تک انتہائی مثبت اور جاندار کردار ادا کیا ۔ بطور سفیر میرا ہسپانوی سفارتکاروں سے قریبی تعلق رہا ہے ۔ اس وقت میں آزاد کشمیر کا صدر ہوں لیکن کشمیر کے کنٹرول لائن سے پار دوسرے حصے میں ایک ظالم و جابر فوج نے قیامت برپا کر رکھی ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے سپین کی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور ممبران پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اپنی جماعتی اور پارلیمانی سطح پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائیں ۔ اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کے لیے بھارت پر سفارتی دباﺅ ڈالا جائے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ میں نے بیلجیئم ، جرمنی اور برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ سے بھی کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے لیے ہماری مدد کریں ۔ ایک سوال پر صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ر ائے شمار جموں و کشمیر کے تمام حصوں میں ہو گی ۔ پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رائے شماری کرانے سے کبھی انکار نہیں کیا ۔ لیکن بھارت نے اس سلسلے میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ بعض یورپی ممالک کے ہندوستان کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں جس کی وجہ سے و ہ مقبوضہ کشمیر میںبدنام زمانہ پیلٹ گن کے استعمال اور کشمیریوں کی نسل کشی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہوں نے سپین پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے مظلوم کا ساتھ دے اور ظالم کا ہاتھ روکیں ۔ صدر آزاد کشمیر نے کتلونیا کی پاپولر پارٹی (حکمران جماعت) کے سیکرٹری جنرل سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں مکمل استحکام امن اور ہم آہنگی کی فضا موجود ہے ۔ کشمیر دنیا کے حسین ترین خطوں میں سے ایک ہے ۔ سپین کے سیاستدان اور ممبران پارلیمنٹ آزاد کشمیر کا دورہ کر کے حالات کا اپنی آنکھوں سے جائزہ لیں ۔ ہمیں آپ کی توجہ درکار ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی جائے ۔ اس موقع پر حکمران پاپولر پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سپین میں بھی علیحدگی کا تنازعہ چل رہا ہے ۔ ہم جنوبی ایشیاءمیں غیر جانبدا ر رہ کر مسئلہ کشمیر کو عوامی اُمنگوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے معاملے کو کتلونیا اور سپین کی پارلیمنٹ اور یورپی یونین کی سطح پر بھی اٹھائیں گے ۔ اور جماعت کے اندر بھی اس مسئلے پر بات ہو گی ۔ اس موقع پر برسلونا میں پاکستان کے کونسل جنرل مراد اشرف جنجوعہ بھی موجود تھے۔ بعد ازاں صدر آزاد کشمیر سے کتلونیا کی اپوزیشن سوشلسٹ پارٹی کی رہنماءمیرسی پریا نے بھی ملاقات کی ۔ صدر سردار مسعود خان کی بریفنگ سننے کے بعد میرسی پریا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا سن کر دل کو چوٹ لگی ہے ۔ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کاتحفظ یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کی تحریک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو علیحدہ رکھ کر دیکھا جائے ۔ انسانی حقوق کے حوالے سے سپین کا موقف بہت واضح ہے ۔ ہم نے عالمی اداروں میں انسانی حقوق کے بارے میں تمام قوانین کی حمایت کر رکھی ہے ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی حکومت اور پارلیمنٹ کے ذریعے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے رابطے کریں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ مسئلہ کشمیر اور کتلونیا کے درمیان کسی قسم کی مماثلت نہیں ہے ۔ مسئلہ کشمیر 70 سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ اور یہ قانونی اور جغرافیائی لحاظ سے بھارت کا کبھی حصہ نہیں بن سکتا۔