وفاقی دارلحکومت میں 1311سرکاری رہائش گاہوں پر غیر متعلقہ افراد قابض

17 جولائی 2017

اسلام آباد (وقار عباسی سے) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد مےں 1311سرکاری رہائش گاہوں پر غےر قانونی طور پر قبضہ کرلےا گےا ہے وزارت ہاوسنگ کے زےر انتظام سٹےٹ آفس کی 731گھر ، سی ڈی اے کے 300 پی ٹی سی اےل کے 80، پولےس کے 129اور دےگر پر گزشتہ کئی سالوں سے قبضہ ہو چکا ہے حکام غےر قانونی قبضے خلاف تاحال کوئی بھی سنجےدہ اقدام نہےں اٹھاسکے ہےں ۔ نوائے وقت کو دستےاب دستاوےزات کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد مےں سرکاری رہائشگاہوں پر قبضوں کا معاملہ کافی سنگےن ہو تا جارہاہے رپورٹ کے مطابق اےک ہزار تےن سو سے زےادہ سرکاری رہائش گاہوں پر اس وقت ٹرےس پاسر نے قبضہ جمار کھا ہے درجنوں گھر اےسے بھی جن پر پرائےوٹ افراد نے قبضہ کررکھا ہے تاہم ان کے خلاف کئی سال گزرنے کے باوجود تاحال کوئی کاروائی عمل مےں نہےں لائی جاسکی ہے دستاوےزات کے مطابق وفاقی دارلحکومت مےں وزارت ہاوسنگ کی 17ہزار 497 سرکاری رہائش گاہےں ہےں جن کی الاٹمنٹ کی ذمہ داری وزارت کے ذےلی ادارے سٹےٹ آفس کے ذمے ہے وزارت کے زےر انتظام 731گھر اےسے ہےں جن کی الاٹمنٹ نہ ہونے کے باوجود ان پر سرکاری ملازمےن نہ صرف قبضہ جما رکھا ہے بلکہ کئی سالوں سے ان گھروں مےں وہ رہائش اختےار کےے ہوئے ہےں غےر قانونی قابضےن مےں اسلام آباد کی پولےس اور وزارت داخلہ کے ملازمےن نے بھی اپنا بھر پور حصہ ڈالا ہے اور 129سرکاری رہائش گا ہےں جو آبپارہ مےں واقع ہےں ان پر انہوں نے غےر قانونی طوپر قبضہ کررکھا ہے آبپارہ مےں سی ڈی اے کے ملازمےن نے 31دےگر اداروں کے ملازمےن نے 34جبکہ 6سرکاری گھروں پر پرائےوٹ افراد نے گزشتہ 12سالوں سے قبضہ کررکھا ہے ان پر بجلی اور گےس کے مےٹرز بھی نصب کرلےے گئے ہےں اور پانی کے غےر قانونی کنکشن بھی دے دئےے گئے ہےں تاہم پولےس کی کثےر تعداد نے چونکہ قبضہ کررکھا ہے جس کے باعث وزےر داخلہ ان کے خلاف کاروائی نہےں کررہے ہےں رپورٹ مےں قرار دےا گےا ہے کہ وفاقی ترقےاتی ادارے ( سی ڈی اے ) مےں بھی لاقانونےت اپنے عروج پر ہے جہاں 300سرکاری گھروں پر ٹرےس پاسرز نے قبضہ کرلےا ہے اور ادارہ ےونےن کے دباو کے باعث اےسے غےر قانونی قابضےن کے خلاف کاروائی سے گرےزاں ہے علاوہ ازےں پی ٹی سی اےل کی 80رہائش گاہےں بھی غےر قانونی قبضے مےں ہےں واضح رہے کہ وزےر اعظم مےاں نواز شرےف کی ہداےت پر سےکرٹری کےبنٹ ندےم حسن آصف کی نگرانی مےں ان سرکاری گھروں پر غےر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے تاہم کمےٹی بھی گزشتہ اےک سال سے کسی سرکاری رہائش گاہ تاحا ل خالی نہےں کروا سکی ہے۔