مسجد اقصیٰ کی بندش اسرائیل کی مذہبی جارحیت ہے: او آئی سی

17 جولائی 2017

جدہ+استنبول+دوحہ (اے این این)اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسجد اقصی میں نماز اور اذان پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبلہ اول میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے پر اسرائیلی پابندی فلسطینیوں کے مذہبی شعائر پرحملہ، مقدس مقامات کےخلاف ننگی جارحیت اور فلسطینی قوم کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی مجرمانہ اور ناقابل قبول سازش ہے۔ جدہ میں قائم او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف بن حمد العثیمین نے جاری بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کی بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں جسے نظرانداز کردیا جائے۔ اسرائیلی ریاست منصوبے کے تحت حرم قدسی پر اپنے پنجے مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ عالم اسلام اور عالمی برادری فلسطین میں تمام اسلامی اور مسیحی مقدسات بالخصوص مسجد اقصی کے دفاع کے لیے موثر لائحہ عمل اختیار کریں۔ عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینی قوم کے خلاف جاری نسل پرستانہ اقدامات سے سختی سے روکے۔ بین الاقوامی علما کونسل نے مسجد اقصی پر صہیونی فوج کی یلغار اور اس میں اذان اور نماز پرپابندی کو سنگین جرم اور انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحہ میں قائم بین الاقوامی علما کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں دفاع قبلہ اول کے حوالے عالم اسلام کے غیر موثر کردار اور مجرمانہ غفلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے نصرت اقصیٰ کیلئے عالم گیر انقلابی تحریک چلانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول میں نماز اور اذان پر پابندی سنگین جرم سے کم نہیں۔ قابض اور ناپاک صہیونیوں نے مسلمانوں کے کسی عام مقام کو بند نہیں کیا بلکہ پہلے قبلہ کو جو دنیا میں مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے کو بند کیا ہے۔ اسرائیل مسجد اقصی کو مسلمانوں سے چھیننے کی سازش کررہا ہے۔ عالمی علما کونسل کے سیکرٹری جنرل علی محی الدین القرہ داغی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پابندیاں انتہائی خطرناک اقدام ہے پورے فلسطین میں حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ ادھر ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے مسجد اقصی(قبلہ اول)میں اذان اور نماز کی ادائیگی پر پابندی کو عالم اسلام کی توہین کے مترادف قرار دیا ۔ انہوںنے کہا کہ 1967 کے بعد جب سے اسرائیل نے القدس پرقبضہ کیا ہے یہ پہلا موقع ہے جب قبلہ اول میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ترک وزیراعظم نے قبلہ اول کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کئے جانے کو ناقابل قبول، عالمی قوانین اور مذہبی آزادیوں کے منافی اور انتہائی خطرناک اقدام قرار دیا۔ فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر مزید پابندی سے حالات زیادہ بگڑ سکتے ہیں۔ توقع ہے اسرائیل حالات کو زیادہ خراب کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔