پانامہ کیس کا فیصلہ ایک ہفتے میں ہوگا، سب کو ماننا پڑیگا: خورشید شاہ

17 جولائی 2017

سکھر (نوائے وقت رپورٹ/ آن لائن) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پانامہکیس کا فیصلہ ایک ہفتے میں ہوگا، آج حکومت جے آئی ٹی رپورٹ پر عدالت سے وقت لینے کی کوشش کرےگی۔ کیس عدالت میں ہے، فیصلہ جوبھی ہوگا سب کو ماننا پڑے گا جو فیصلہ نہیں مانے گا وہ توہین عدالت کا مرتکب ہوگا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 60روز محنت سے کام کیا میں اس کیس کو ایک ہفتے میں ختم ہوتا دیکھ رہا ہوں اس کیس پر حتمی فیصلے کیلئے زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ یا دس دن چاہئیں کسی ہنگامے کی ضرورت نہیں میں نہیں سمجھتا کہ فیصلے کا اثر سی پیک پر پڑیگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کا معاہدہ چین اور پاکستان حکومت کے درمیان ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ قبل از وقت الیکشن نہیں چاہتے نوازشریف کے پاس ایک دو دن ہیں استعفی دیدیں، مسلم لیگ (ن) اپنے کیس کو کمزور سمجھ کر الزام تراشی کر رہی ہے۔ جے آئی ٹی کا کیس قانونی ہے کسی کو جھگڑے کی ضرورت نہیں جے آئی ٹی نے ایمانداری سے تحقیقات کی ہیں پہلے ہی کہا تھا ۔ مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی رپورٹ کو متنازعہ بنائیگی، پہلے بھی جمہوریت، پارلیمنٹ کو بچانے کی کوشش کی۔ آج بھی یہی کوشش ہے بھٹو نے وزیراعظم بننے کے بعد وزیر خارجہ کا عہدہ عزیز احمد کو دے دیا تھا ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ مدت پوری کرے۔ آن لائن کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف الزام تراشیوں کے بجائے فوری طور پر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہوں اور نیا وزیراعظم لیکر آئیں۔ گزشتہ روز ان سے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے جیلانی ہاﺅس میں ملاقات کی جس میں پانامہ کیس سمیت ملک اور سندھ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خورشید شاہ نے کہا نوازشریف سمیت مسلم لیگ (ن) دوسروں پر سازش کا الزام لگا رہی ہے لیکن انکے پاس ثبوت موجود نہیں لیکن پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے نوازشریف فوری طور پر استعفی دیں اور وزارت عظمیٰ کیلئے نیا امیدوار لائیں۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) نے ماضی کی طرح سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو پی پی پی عدالت عظمیٰ کا دفاع کریگی۔