الیکشن ٹربیونل بلدیاتی انتخابات سے متعلق 15سو انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ نہ کرسکا

17 جولائی 2017

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) الیکشن ٹربیونل دو سال گزرنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات سے متعلق پندرہ سو سے زائد انتخابی عذرداریوں کا فیصلہ نہ کر سکا ۔ ذرائع کے مطابق چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو کئی سالوں کا عرصہ گزر جانے کے باوجود الیکشن ٹریبونلز میں زیر التو ا مقدماتختم نہ ہوسکے چار مہینوں میں تمام انتخابی عذرداریوں کو نمٹانے کا ٹاسک دیا گیا تھا جو پورا نہیں ہو سکا ہے دوسری جانب انتخابی اصلاحات بھی تاحال اپنی حتمی شکل میں نہ پہنچ سکی ۔ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے بعد الیکشن تنازعات کے خاتمے کےلئے قائم کئے جانے والے انتخابی ٹریبونلز میں مجموعی طو پر 4238انتخابی عذرداریاں دائر کی گئی جن میں سے اب تک 2698عذرداریوں کو نمٹایا جا سکا جبکہ 1540انتخابی عذرداریاں ابھی تک زیر سماعت ہیں ۔ بلوچستان میں 7 دسمبر 2013کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد32انتخابی ٹریبونل قائم کئے گئے جہاں پر 134انتخابی عذرداریاں دائر کی گئی اور اس میں 122عذرداریوں پر فیصلہ دیا گیا جبکہ 21عذرداریاں ابھی تک التوا کا شکار ہیں سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والے 27الیکشن ٹریبونلز میں 524انتخابی عذرداریاں دائر کی گئی جس میں 331انتخابی عذداریوں کو نمٹا دیا گیا ہے جبکہ 193کیسز تاحال التوا کا شکار ہیں خیبر پختونخوا میں30 مئی 2015کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد93الیکشن ٹریبونلز قائم کئے گئے جہاں پر مجموعی طورپر 1780انتخابی عذرداریاں دائر کی گئی جن میں 1192عذرداریاں نمٹا دی گئی ہیں جبکہ 588انتخابی عذرداریاں التوا کا شکار ہیں پنجاب میں دسمبر 2015کے آوائل میں بلدیاتی انتخابات کا تیسرا مرحلہ اختتام پذیر ہونے کے بعدالیکشن ٹریبونل نے اپنا کام شروع کر دیا اورپورے پنجاب میں 9 انتخابی ٹریبونل قائم کر دئیے گئے جس میں مجموعی طور پر 1584عذرداریاں جمع کرائی گئی اور گذشتہ 17مہینوں کے دوران 846انتخابی عذرداریوں کو نمٹایا جا سکا ہے جبکہ اس وقت738کیسز التوا کا شکار ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی براہ راست بلدیاتی انتخابات کی انتخابی عذرداریاں واپس ٹربیونلز کو بھیج دی ہیں۔