بلوچستان، شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، 2سگے بھائیوں سمیت 5جاں بحق

17 جولائی 2017

کراچی/ خضدار (این این آئی) بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی جس کے باعث بخالو کے مقام پر پل پانی میں بہہ گیا اور کراچی اور کوئٹہ کے درمیان زمینی رابطہ منقطعہو گیا اطلاعات کے مطابق شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور حب اور خضدار کے درمیان بخالو کے مقام پر پل پانی میں بہہ گیا ¾ پل ٹوٹنے کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور کوئٹہ سے کراچی کا زمینی رابطہ منقطع ہو کر رہ گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری نے پل ٹوٹنے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر متبادل راستہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ ڈپٹی کمشنر خضدار سہیل الرحمان بلوچ نے متبادل راستے کے لئے ہیوی مشینری کو موقع پر بھیج دیا ہے اور لیویز نے خصدار اور وڈھ کے مقام پر ٹریفک کو روک لیا ہے اس کے علاوہ موسیٰ خیل، قلات، زیارت اور ژوب میں بھی شدید بارشوں کے باعث کئی ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ خضدار میں بارشوں نے تباہی مچادی ، ندی نالوں میں بہہ جانے سے دو سگے بھائیوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ، قومی شاہراہ پر پل ٹوٹ گیا ، آمد ورفت معطل ، متعدد علاقوں میں دیواریں ڈھ گئیں ، فصلات تباہ ، ڈپٹی کمشنر خضدار سہیل الرحمان بلوچ لیویز اور ایف سی کے ہمراہ از خود ریسکیو آپریشن میں حصہ لیتے رہے ،تفصیلات کے مطابق ضلع خضدار کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث پانچ ہلاکتیں ہوگئیں ، خضدار کے تحصیل وڈھ اور اورناچ کے درمیان گاسلیٹی چڑھائی پر کوئٹہ کراچی ایم 25کا پل ٹوٹ جانے کے باعث ایک گاڑی اپنی سواریوں کے ہمراہ ریلے میں بہہ گئی ، جس کی اطلاع پاتے ہی وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری نے فوری احکامات جاری کردئے اور ڈپٹی کمشنر خضدار سہیل الرحمن بلوچ لیویز فورس و تحصیلدار اور دیگر عملہ کے ہمراہ موقع پرپہنچ گئے ، اس دوران ایف سی کے جوان بھی پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن شروع کیاگیا رات گئے ایک 9سالہ بچے کی نعش قریبی ندی سے برآمد کرلی گئی ، جو پانی میں بہہ گیا تھا ،اتوار کی اعلیٰ الصبح لیویز فورس نے اورناچ کے قریب سے دوسری نعش اور تیسری نعش بھی برآمد کرلی ، پانی کے ریلے میں بہہ جانے والوں کا تعلق ژوب کے علاقے سے بتایا جاتا ہے، اس دور مشینری منگوا کر روڈ بحال کرنے کی کوشش کی گئی اور اتوار کی اعلیٰ الصبح کوئٹہ کراچی شاہراہ کو لنک کرتے ہوئے رابطہ سڑک کو بحال کردیا گیا ،جس کی وجہ سے ٹریفک بحال ہوگیا ، اس سے قبل کوئٹہ کراچی جانے والی گاڑیوں کو وڈھ اور بیلہ کے مقام لیویز فورس نے روک کر روڈ کی بحالی تک آگے جانے نہیں دیا ا دوسری جانب خضدار کے علاقہ فیروز آباد کے رہائشی دو بھائی لکڑی جمع کرنے پہاڑوں کی جانب نکل گئے تھے اور پانی کا ریلا آنے کی وجہ سے وہ دونوں خیسن جھل میںبہہ کر جاں بحق ہوگئے یکے بعد دیگردونوں بھائیوں محمد عثمان اور بلال احمد مردوئی کی نعش نکال کر ورثاءکے حوالے کردیا ، ڈپٹی کمشنر خضدار سہیل الرحمن بلوچ اپنے دیگر عملہ کے ہمراہ پوری رات گاسلیٹی کے علاقے میں ریسکیو آپریشن اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ندی سے نکالی جانے والی نعشوں کو ایدھی ایمبولینس اور الغنی ایمبولینس کے ذریعے خضدا ر ہیڈ کوارٹر ہسپتال روانہ کردیا گیا۔بارشوں کی وجہ سے متعددعلاقوں میںکچی آبادی زیر آب آگئی اور متعدد دیواریں ڈھ گئیں جب کہ فصلات کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار حاجی سہیل الرحمن بلوچ نے ضلع کے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالیہ سیلابی ریلوں سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور برسات و ندی نالوں کے بہہ نے کے موقع پر ندیوں کا رخ نہ کریں۔