پاکستان کا قدیم ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

17 جولائی 2017

لاہور (ندیم بسرا) صوبائی دارالحکومت میں قائم ایشیا کا بڑا اور پاکستان کا قدیم ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اساتذہ کی شدید کمی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ پبلک ہیلتھ کے متعلقہ 13 اہم شعبوں کے سٹوڈنٹس کو پڑھانے کے لیے صرف 2 پروفیسر رہ گئے۔ محکمہ صحت پنجاب نے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کی بجائے مائیکرو بیالوجی کی پروفیسر ڈاکٹرز افشاں طاہر کو حال ہی میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کی ہیڈ لگا دیا جس کے بعد فیکلٹی مزید کم ہو گئی۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پنجاب ریسرچ اور پبلک ہیلتھ میں خدمات انجام دینے والا ادارہ ہے مگر اساتذہ کم ہونے سے سٹوڈنٹس ڈیمونسٹریٹر (ایم بی بی ایس) کے سہارے رہ گئے ہیں۔ پروفیسرز کی بجائے ایم بی بی ایس ڈاکٹر سٹوڈنٹس کو پڑھا رہے ہیں۔ مائیکرو بیالوجی، ایپاڈمالوجی، بائیو سٹیٹ، نیوٹریشن، انفیکشن ڈیزیز اور پبلک ہیلتھ جیسے شعبے قائم ہیں مگر ان شعبوں کو پڑھانے کے لیے صرف 2 پروفیسر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی ایچ میں اساتذہ کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی اختیار کی ہے۔ سیکرٹری صحت پنجاب سپیشلائزڈ اینڈ ہیلتھ کیئر نجم شاہ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کی بجائے آئی پی ایچ سے پروفیسرز کو دیگر شعبوں میں لگا رہے ہیں۔ آئی پی ایچ میں بیک وقت پانچ سو کے قریب سٹوڈنٹس زیرتعلیم رہتے ہیں اور ماسٹر آف پبلک ہیلتھ ماسٹر آف ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن، ماسٹر آف مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سمیت پیرا میڈیکل سٹاف کے بی ایس سی کے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ لیب ٹیکنالوجی کے بے شمار کورسز کروائے جاتے ہیں۔ جو بی ایس پی سمیت دیگر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ قائم میں جن شعبوں میں سٹوڈنٹس داخلہ لے کر پڑھائی کرتے رہے آج کل ان کورسز کو پڑھایا ہی نہیں جا رہا اور نہ ہی ان کے داخلے کیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اساتذہ کی کمی ہے۔ ان کورسز میں میڈیکل لیب ٹیکنالوجسٹ ڈینٹل ہائی جینٹ، نیوٹرالوجسٹ، پبلک ہیلتھ ٹیکنالوجی، ایف ایس پی میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی شامل ہیں جن کے داخلے نہیں ہو رہے۔ سینٹری انسپکٹر کے کورسز بھی آئی پی ایچ میں پہلے کروائے جاتے تھے۔ واضح رہے کہ آئی پی ایچ کے ڈین کی آسامی خالی ہے۔ اس وقت پروفیسر روبینہ کے پاس ڈین آئی پی ایچ کا عارضی چارج ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے ذرائع کا کہناہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی ایچ (IPH) کی تنظیم نو کی جائے گی۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی (PPHA) کے عنقریب حوالے کر دیا جائے گا جس میں اکیڈمک شعبے کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز چلائے گی جبکہ بیماریوں کی روک تھام سمیت دیگر فرائض کی ادائیگی پنجاب ہیلتھ ایجنسی ہی دیکھے گی۔