آئی ٹی یونیورسٹی کےلئے مناسب جگہ کے انتخاب کا مسئلہ !

17 جولائی 2017

احمد کمال نظامی

آنکھوں کی پیوند کاری کےلئے نیپال اور سری لنکا پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز تھے۔ ملک بھر سمیت فیصل آباد سے بھی ہزاروں نابینا افراد نیپال اور سری لنکا میں آنکھوں کی پیوند کاری کرا چکے ہیں۔لیکن الائیڈ ہسپتال شعبہ امراض چشم میں ڈپٹی کمشنر کی ذاتی دلچسپی کی بدولت آئی ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ آنکھوں کے عطیات میں اپنا کردار ادا کریں، اس کی ایک مثال حال ہی میں سامنے آئی جب ڈپٹی کمشنر کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے چک نواباں والا کی ایک 45سالہ خاتون اصغری بی بی جو گردوں کے امراض میں ایک عرصہ سے مبتلا تھی اورجنہوںنے اپنے وسائل سے بڑھ کر کڈنی کا علاج کرانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن صورت حال اس کے برعکس نتائج دیتی رہی کیونکہ جوں جوں علاج ہوتا رہا مرض میں اضافہ ہوتا گیا اور بالا آخر ان کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ فیصل آباد میں امراض گردہ کے چند ہی معروف ڈاکٹرز ہیں جبکہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق جو کہ عالمی ادارہ صحت کی مرتب کردہ ہے ‘ فیصل آباد کا شمار پاکستان کے ان شہروں میں ہوتا ہے جس کا ہر دسواں شہری ہیپا ٹائٹس میں مبتلا ہے ‘ ہیپا ٹائٹس کے بعد جو مرض پوری تیزی کے ساتھ انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وہ گردوں کے مختلف امراض ہیں جن میں گردوں میں پتھری پیدا ہونا جانا اور ایک گردہ کا اپنے سائز سے چھوٹا ہونا بھی شامل ہے ۔ اصغری بی بی جو کہ گردوں کے امراض میں مبتلا تھیں اور انہیں ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ تمہارے گردے کسی وقت بھی فیل ہو سکتے ہیں ‘ تو اس بہادر خاتون نے زندگی کے فلسفہ کو سمجھ لیا کہ زندگی اسی کا نام ہے جو اوروں کے کام آئے لہٰذا انہوں نے لائلپو ر آئی ٹرسٹ سے رابطہ قائم کیا اور جذبہ کا رنیا کے بعد از مرگ اپنی آنکھیں عطیہ کے طور پر دینے کی وصیت کر دی ‘ اﷲ تعالیٰ اصغری بی بی کے درجات بلند کرے ۔انہوں نے آنکھوں سے محروم انسانیت کو اپنی آنکھوں کا عطیہ دے کر جو مثال قائم کی ہے وہ قابل تقلید بھی ہے اور بینائی سے محروم افراد کےلئے پیغام بھی کہ ایک اصغری بی بی نہیں ہزاروں اصغری بی بی اپنے چراغوں سے دوسروں کے بجھے چراغ روشن کرتی رہیں گی۔ لائل پور آئی ٹرسٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر محمد سلطان کا کہنا ہے کہ الائیڈ ہسپتال میں قائم آئی ٹرسٹ پنجاب کا واحد آئی ٹرسٹ ہے جس نے مقامی سطح پر مختلف افراد سے آنکھوں کے کارنیا کے عطیات وصول کئے اور آٹھ افراد کو جو بینائی سے محروم ہو چکے تھے آنکھوں کی پیوند کاری کرکے انہیں اندھیروں کی دنیا سے روشنی کی دنیا میں داخل کر دیا ہے اور اس کے سو فیصد نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں ‘ گو پاکستان کے سابق صدر اور فوجی حکمران جنرل ضیاءالحق نے جب سر ی لنکا کا دورہ کیا اور اپنے دورہ کے دوران وہ ایک ایسے ہسپتال بھی گئے جہاںکارنیا کے عطیات وصول کئے جاتے تھے تو جنرل ضیاءالحق نے اپنی آنکھوں کا عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ ایک ایسے ہوائی حادثہ کا شکار ہوئے کہ جل کر خاکستر ہو گئے ‘ جبکہ اصغری بی بی کے انتقال کے بعد اس کے شوہر کی موجودگی میں اس کی وصیت پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان کی آنکھیں محفوظ کر لیں گئیں ‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلطان کا یہ کہنا ہے کہ آنکھوں کا عطیہ دینے کی تحریک عوام میں زور پکڑ رہی ہے لیکن جو افراد ہیپا ٹائٹس بی اور سی کے علاوہ ایڈز کینسر اور جلدی امراض میں مبتلا ہوں وہ آنکھوں کا عطیہ نہ کریں یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ نیپال اور سری لنکا کی طرح فیصل آباد میں بھی لائل پور آئی ٹرسٹ قائم ہو چکا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آئی ٹرسٹ کو آنکھوں کے امراض اور آنکھوں کی پیوند کاری کےلئے ایک مکمل ہسپتال کی شکل دی جائے لیکن اس کے ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ جس میں امراض گردہ کے مریضوں کی فیصل آباد ڈویژن میں بڑھتی ہوئی تعداد پر اظہار تشویش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے تدراک کےلئے انسدادی اقدامات اٹھائے‘ آپ یقین کریں کہ جو لوگ بد قسمتی سے امراض گردہ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں خصوصی طور پر غریب آدمی اور درمیانہ طبقہ کا آدمی تو ڈاکٹر کی فیس اور مختلف ٹیسٹ کے اخراجات اس کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں اور پھر ادویات اس قدر مہنگی ہیں کہ غریب آدمی اگر ادویات خریدناچا ہے تو اس پر آنے والے اخراجات کے نتیجہ میں اس کے گھر کا چولہا ہی سرد ہو جاتا ہے ‘ فیصل آباد میں ضلعی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے فیصل آباد میں آئی ٹی یونیورسٹی کے قیام کےلئے جھنگ روڈ کے کنارے واقع محلہ پرتاب نگر کی پرانی سبزی منڈی والی جگہ پر ناجائز قابض افراد سے ایک آپریشن کے ذریعے قبضہ واگزار کرایا تھا ‘ اور یہ جگہ خالی کروالی گئی ‘ پروگرام یہی ہے کہ اس اراضی پر آئی ٹی یونیورسٹی کی 5‘6 منزلہ عمارت تعمیر کر دی جائے ‘ کیونکہ یونیورسٹیاں کھلے ماحول میں تعمیر کی جاتی ہیں اور اس طرح 5‘6منزلہ عمارت تعمیر ہونے سے یونیورسٹی کمپلیکس مناسب نہیں بنایا جا سکتا ‘ چنانچے جی سی یونیورسٹی جو کہ محلہ پرتاب نگر کے قریب ہی واقع ہے اس کی انتظامیہ چاہتی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ آئی ٹی یونیورسٹی کسی اور جگہ تعمیر کر لی جائے اور یہ اراضی جی سی یونیورسٹی انتظامیہ کو منتقل کر دی جائے تاکہ ہم جی سی یونیورسٹی کے ہاسٹل یا کچھ حصہ یہاں بھی تعمیر کر لیں ‘ اس پر فیصل آباد شہر کے حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مناسب ہو گا کہ فیصل آباد میں کڈنی ہسپتال پرانی سبزی منڈی محلہ پرتاب نگر کی جگہ کےلئے انتہائی موضوع ہو گا ‘ لہذا اگر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سلمان غنی اور کمشنر مومن آغا شہریوں کا یہ مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے روبرو پیش کر کے کڈنی ہسپتال کی تعمیر کےلئے اس جگہ پر منظوری حاصل کر لیں تو شہر ‘ ضلع اور ڈویژن کے کروڑوں عوام کےلئے طبی سہولتوں کے اعتبار سے انتہائی شاندار اور مناسب ہو گا اور اس سے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو بھی تقویت حاصل ہو گی اور آئی ٹی یونیورسٹی کو کینال ایکسپریس وے پر واقع کھرڑیانوالہ ‘ چک جھمرہ فلائی اوور کے قریب قبرستان کے نزدیک 4‘5مربعے اراضی جو سرکاری ہے وہاں آئی ٹی یونیورسٹی کی تعمیر کی جائے ‘ آپ کو یاد ہو گا کہ کینال ایکسپر یس وے کی تعمیر سے قبل نہر کے کنارے نیو جی سی یونیورسٹی کمپس کا منصوبہ تھا اور یہاں 32مربعے اراضی پر مشتمل جی سی یونیورسٹی کی تعمیر ہونی تھی ‘ مگر ایک سازش اور سیاست کی نذر کر دیا گیا اور اب وفاقی حکومت اسی 32مربعے اراضی کومزید سرکاری اراضی ساتھ ملا کر نیو انٹر نیشنل ائیر پورٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہی ہے ‘ کیا ہی مناسب ہو گا کہ ضلعی ‘ ڈویژنل انتظامیہ حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب 7ارب روپے کی لاگت سے بننے والی کینال ایکسپریس وے جس پر گارمنٹ سٹی ‘ انڈسٹریل سٹیٹ ‘ موٹروے ایم تھری‘گٹ والا پارک واقع ہے اور یہ شاہراہ لاہور ‘ اسلام آباد ‘ پشاور موٹروے ‘ لاہور شیخوپورہ روڈ ‘ سرگودھا ‘ جھنگ ‘سانگلہ ہل‘ چک جھمرہ اور درجنوں آبادیوں اور علاقوں کو جاتی اور ملاتی ہے ‘یہاں کینال ایکسپریس وے پر 4‘5مربعے اراضی جو واقع ہے اس پر آئی ٹی یونیورسٹی کا نیا کیمپس جو تعمیر ہونا ہے تعمیر کر دیا جائے تاکہ ایک کھلا اور سر سبز و شاداب ماحول ہو گا اور بلڈنگ کی تعمیر 6منزلہ کی بجائے ایک یا دو منزلہ تعمیر ہو گی اور پھر چار مربعے اراضی ہونے سے آئندہ کی کئی سو سال کی ضروریات پوری کرے گا ‘ گھٹن والا ماحول اور آلودہ ماحول نہیں ہو گا ‘ تعلیمی اعتبار سے خوشگوار ماحول ملے گا اور اس سے دیگر شہروں ‘اضلاع اور علاقہ کے طلباءو طالبات کےلئے داخلوں اور آنے جانے میں آسانیاں پیدا ہونگی ‘ اور ویسے بھی یہ پانچ مربعے اراضی جو ہے قبضہ مافیا اور قبضہ گروپوں سے محفوظ رہے ‘ ویسے بھی ہم سمجھتے ہیں کہ کڈنی ہسپتال کی فیصل آباد شہر میں انتہائی ضرورت ہے اور محلہ پرتاب نگر میں پرانی سبزی منڈی والی جگہ بھی اس کےلئے مناسب ہے ‘فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن کے اضلاع میں جس تیزی کے ساتھ امراض گردہ کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے اس کا اندازہ ان ڈاکٹر کے پرائیویٹ کلینک میں جانے والے مریضوں کی تعداد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ‘ جن میں مرد اور عورتوں کے ساتھ جوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جبکہ فیصل آباد کے ہسپتالوں میں گو امراض گردہ کے شعبہ جات قائم ہیں لیکن ان ہسپتالوںمیں امراض گردہ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں کو جدید طبی سہولتیں حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی جدید طبی مشینری دستیاب ہےں ہماری وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے اپیل ہے کہ جس انداز اور ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کی طرز پر فیصل آباد میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا حکم ہی نہیں بلکہ فنڈز بھی جاری کر چکے ہیں ایسے ہی پرانی سبزی منڈی کی اراضی جو قابضین سے خالی کرائی جا چکی ہے اس اراضی پر جدید طبی تقاضوں کے مطابق ایک کڈنی ہسپتال تعمیر کرنے کی ہدایات جاری کریں اور فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر سلمان غنی کو ہدایت کی جائے کہ وہ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کڈنی ہسپتال کے قیام کی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایات جاری کریں کیونکہ فیصل آباد میں کڈنی ہسپتال کا قیام ناگزیر ہے اس کڈنی ہسپتال سے پنجاب کے دو ڈویژنوں کے افراد بھر پور انداز میں فیض یاب ہو سکتے ہیں اور اگر فیصل آباد میں کڈنی ہسپتال کے قیام کےلئے ادارہ عالمی صحت کی وساطت سے یونیسکو سے مالی تعاون کی درخواست کی جائے تو یونیسکو بھی اس کڈنی ہسپتال کے قیام میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا ۔