جے آئی ٹی سے براہ راست تعلق نہیں‘فوج کے کسی سازش میں ملوث ہونے کا سوال بے معنی‘ جواب دینا بھی نہیں بنتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

17 جولائی 2017
جے آئی ٹی سے براہ راست تعلق نہیں‘فوج کے کسی سازش میں ملوث ہونے کا سوال بے معنی‘ جواب دینا بھی نہیں بنتا: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ارکان، سپریم کورٹ کی بنائی جے آئی ٹی کے ارکان تھے جنہوں نے محنت اور دیانتداری سے کام کیا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور وہی اس بارے میں فیصلہ کریگی۔ فوج کا جے آئی ٹی کے معاملات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ یہ کہنا کہ فوج کسی سازش کا حصہ ہے بے معنی ہے اس بات کا تو جواب دینا بھی نہیں بنتا۔ فوج ملک کے دفاع و سلامتی کیلئے کام کر رہی ہے۔ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ آئین اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی محب وطن پاکستانی فوج کے خلاف بات کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں، سرحد پار سے داعش کو روکنے کیلئے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں ”خیبر فور“ کے نام سے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پاک چین معاشی راہداری منصوبہ کو ناکام نہیں بنانے دیا جائیگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اتوار کے روز اپنی پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ یہ پریس کانفرنس آپریشن راجگال کے حوالہ سے منعقد کی گئی ہے لیکن اس موقع پر میجر جنرل آصف غفور نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت پانامہ کیس کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کے حوالہ سے سوالات، سیاسی حالات کے فوج کی جانب اشاروں، ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے ضمن میں آئی ایس آئی کے ذکر اور متعدد یگر امور کا بھی احاطہ کیا اور فوج کی پوزیشن واضح کی۔ انہوں نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ جے آئی ٹی وہ ایشو ہے جس سے فوج کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو افسران اس جے آئی ٹی کے رکن تھے لیکن جے آئی ٹی کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی اور وہی فیصلہ بھی کرے گی۔ ہم وہ کام کر رہے ہیں جو پاکستان کی سیکورٹی اور دفاع کیلئے ضروری ہے۔ سیاسی بات چیت سیاسی دائرہ کار میں ہوتی ہے۔ نئے فوجی آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں ”خیبر فور“ کے نام سے زمینی آپریشن شروع کردیا ہے۔ شمالی وزیرستان کی وادی شوال کو بھی جلد کلیئر کردیا جائے گا۔ راجگال فاٹا کا سب سے مشکل علاقہ ہے اس کی آٹھ گزر گاہیں ہیں، راجگال کے افغانستان سے منسلک علاقے میں داعش کی موجودگی بڑھتی جارہی تھی ایک ڈویژن فوج آپریشن میں حصہ لے گی۔ پاکستان میں داعش کا تنظیمی وجود نہیں ہے۔ دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو ختم کیا جائے گا۔ راجگال سے پانچ سو کے قریب خاندان حالات کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ریاست کی عملداری بحال ہورہی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، پورے ملک میں ردالفساد کے تحت 46 بڑے آپریشن کئے دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں 98 فیصد کمی آئی۔ بلوچستان میں تیرہ بڑے آپریشن شروع کئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 9ہزار سے زائد آپریشن کئے گئے۔ ردالفساد کے تحت سندھ میں 522 دہشٹ گردوں نے سرنڈر کیا۔ کراچی میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف موجود تھے۔ کراچی آپریشن پر نظر ثانی کی گئی۔ رد الفساد کے تحت کارروائیوں میں 22دہشت گرد مارے گئے۔ پارا چنار واقعے میں گرفتار افراد کے داعش سے رابطے کے شواہد ملے ہیں۔ افغانستان سے منسلک سرحد پر باڑ لگائی جائیگی جس کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر اور اپنی سرحد محفوظ بنانا ہے۔ پاک فوج ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کا موثر جواب دیتی ہے۔ ایل او سی پر صورتحال کچھ عرصے میں کافی گرم رہی ہے۔ 2017 میں بھارت نے ایل او سی کی 580 خلاف ورزیاں کی ہیں۔ جوابی فائرنگ میں بھارت کی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے جس کا فیصلہ میرٹ پر جلد کیا جائیگا۔ کشمیر میں جدوجہد کی وجہ سے بھارت کی جانب سے ایل او سی پر جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف کل جن دو افراد نے پاکستان کیخلاف بل پیش کیا وہ بھارت کے زیر اثر ہیں، بل پر فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ صرف آئی ایس آئی نہیں دیکھ رہی تھی، ساتھ بہت سارے ریاستی ادارے بھی اس صورتحال کے ساتھ منسلک تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کی طرف سے لکھی گئی کتاب کے بارے میں ڈی جی کا کہنا تھا کہ اس وقت کہا گیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا جبکہ کتاب انہوں نے ایک کنٹریکٹر کے طور پر لکھی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو کتاب میں کئی جگہ کنٹریکٹر قرار دیا ہے، کتاب کے مندرجات کے درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔