پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بیورو کریسی کے سامنے بے بس، 80فیصد احکامات کا جواب نہیں ملا

17 جولائی 2017

لاہور ( معین اظہر سے ) پارلیمانی سسٹم میں احتساب کی سب سے اہم شاخ پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے کرپشن پر بیورو کریسی سے پوچھے 80 فیصد احکامات کے جوابات ہی نہیں دئیے گئے ۔ صوبے کے 20 اہم محکموں سے جو ریکارڈ چیک کیا گیا اس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 4991 کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال ، سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے کیسوں پر بیورو کریسی کو ڈائریکٹو جاری کئے کہ وہ جوابات دیں جس پر بیور و کریسی نے صرف 982 جوابات فراہم کئے جبکہ 4009 ڈائریکٹو کے جواب ہی فراہم نہیں کئے ان سوالات کے جوابات کے لئے متعدد بار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکموں کو یاد دہانی کے لیٹر لکھے جبکہ درجن سے زیادہ ایسے محکمے ہیں کہ جنہوں نے ایک بھی جواب فراہم نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بیورو کریسی کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو 277 ڈائریکٹو جاری ہوئے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ سی اینڈ ڈبلیو کو 546 ڈائریکٹو جاری ہوئے صرف 28 کے جوابات دئیے۔ محکمہ ہاوسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ سے 1769 کیسوں میں جوابات مانگے گئے 893 کے جوابات فراہم نہیں کئے گئے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ سے 110 جوابات مانگے گئے 50 بڑے کیسوں کے جوابات فراہم نہیں کئے گئے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ایک ڈائریکٹو جاری ہوا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو 6 ڈائریکٹو جاری ہوئے لائیو سٹاک کو 71لیبر کو 10کوآپریٹو کو 14ویمن ڈویلپمنٹ کو 2 بورڈ آف ریونیو کو 28، محکمہ ایکسائز کو 498، محکمہ زراعت کو 825، محکمہ لوکل گورمنٹ کو 428 ڈائریکٹو جاری ہوئے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پی اینڈ ڈی کو 25 ڈائریکٹو جاری ہوئے 24 کا جواب ہی نہیں دیا گیا۔ مائز اینڈ منرئل کو 21 ڈائریکٹو جاری ہوئے 24 کا جواب ہی نہیں دیا گیا۔ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ کو 36 ڈائریکٹو جاری ہوئے 35 کے جواب ہی فراہم نہیں کئے گئے۔ محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن جس کے سربراہ چیف سیکرٹری ہیں اس کو 22 ڈائریکٹو جاری ہوئے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا ہے۔ یوتھ افیرز ، ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کو 14 ڈائریکٹو جاری ہوئے کسی کا جواب نہیں دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہر سال بیورو کریسی اربوں روپے کے آڈٹ پیر ے پینڈنگ کروا لیتی ہے پھر اگلے سال کا کام شروع ہو جاتا ہے بعد ازاں یہ سارا کچھ ختم ہو جاتا ہے۔