مہنگائی کو 4 فیصد تک محدود کردیا، فی کس آمدن 22 فیصد بڑھی: اسحاق ڈار

17 جولائی 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے 2008ء سے لے کر 2013ء کے دوران مہنگائی میں اضافہ کی شرح اوسطاً آٹھ فیصد رہی جسے اب تقریباً چار فیصد کی شرح تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سٹیٹ بنک کا پالیسی ریٹ 45 سال کی کم ترین 5.75 کی شرح پر آ گیا ہے۔ ملک کے معاشی عشاریے مثبت تصویر پیش کر رہے ہیں، زرعی اور مالیاتی پالیسیز میں رابطہ کے بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا نومبر 2016ء میں پہلی بار سٹیٹ بینک کے ذریعے کلیمز کرنے والوں کے اکاؤنٹس میں براہ راست ادائیگی کی گئی۔ اب بھی آئندہ دو روز میں اسی طرح ادائیگی کر دی جائے گی۔ گذشتہ 10سال میں پہلی بار اقتصادی شرح نمو 5.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ چار سال میں ٹیکس محصولات میں 74 فیصد اضافہ ہوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی اطمینان بخش سطح پر ہیں۔ نجی شعبہ میں قرضوں کی حد میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔ صنعتی شعبہ کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی جاری ہے جبکہ گیس کی فراہمی میں بھی بہتری آئی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 300 ارب ڈالرز کی حد پار کر گیا ہے۔ 2012-13ء کے مقابلہ میں پاکستانیوں کی فی کس آمدن میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارے آئندہ 10 سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو چھ فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں سیلز ری فنڈ کی ادائیگیوں کے حوالے سے تقریب کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا حکومت ٹیکس دہندگان کی مشکلات سے آگاہ ہے اور انہیں حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔