برطانیہ : 6ماہ کے دوران چار سو سے زیادہ تیزاب پھینکنے کے واقعات

17 جولائی 2017

لندن( بی بی سی) انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافے کے بعد ان واقعات میں ملوث افراد کی سزاو¿ں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جمعرات کو مشرقی لندن میں پانچ افراد پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کے بعد وزراءپر تیزاب سے متعلق سخت قانون کے مطالبات میں شدت آئی ہے جس میں تیزاب کی فروخت کو سخت کرنے کے لیے آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں 2012 سے دو گنا اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات زیادہ تر لندن ہی میں ہوئے ہیں۔
تیزاب حملوں کے بعد ان کی روک تھام کے جائزے کے متعلق وزیر داخلہ امبر روڈ نے سنڈے ٹائمز کو بتایا ہے کہ ان حملوں میں ملوث افراد' قانون کی پوری شدت' کو محسوس کر سکیں گے۔ سیاست دانوں اور تیزاب کے حملوں میں متاثرہ افراد نے ان حملوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کے مطالبات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان بھی اس معاملے پر پیر کو ایوان میں بحث کریں گے۔ تیزاب کے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے جائزے میں موجودہ قانون کو دیکھا جائے گا اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پولیس کے اقدامات، سزائیں، لوگوں کی نقصان دہ تیزابی منصوعات تک رسائی اور تیزاب حملوں کے متاثرین کو کس طرح مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ گذشتہ دنوں مشرقی لندن میں شہریوں پر تیزاب پھینکنے کے پانچ واقعات پیش آئے ہیں دفتر داخلہ کے مطابق پہلے سے موجود قانون کے تحت نقصان دہ تیزابی مواد سے حملے میں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ تیزاب برآمد ہونے کی صورت میں، اس کی مدد سے حملے کرنے کی نیت ثابت ہونے کی صورت میں چار برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ نیشنل پولیس چیفس کونسل این پی سی سی کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب یا نقصان دے مواد کی مدد سے چار سو زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔
برطانیہ