جے آئی ٹی رپورٹ بدنیتی پر مبنی‘ وزیراعظم کو کسی صورت مستعفیٰ نہیں ہونا چاہئے: میر حاصل بزنجو

17 جولائی 2017

کراچی(اسٹاف رپورٹر) نیشنل پارٹی بلوچستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر سنیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ بد نیتی پر مبنی ہے، نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ان کے خلاف سازش کی جارہی ہے،جان بوجھ کر بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان کی داخلی صورتحال کو خراب کیا جارہا ہے پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے اس میں کسی خراب داخلی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا، وزیر اعظم نواز شریف ایسے حالات میں اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوںبلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کوعدلیہ میں چیلنج کریں، ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں جے آئی ٹی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ آئے گا ہم اسے قبول کریں گے،آئین کی شق 62,63 پر صحیح معنوں میں عمل کرلیا جائے توجنرلز، ججزسیاستدانوں سمیت تمام لوگ فارغ ہوجائیں گے، میں نثار چوہدری کو 90ء سے جانتا ہوں وہ سخت مزاج ضرور ہیںلیکن نواز شریف کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مسلم لیگ ن سندھ کے سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ کی رہائشگاہ پر اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ان کے ہمراہ شاہ محمد شاہ، کھیل داس کوہستانی، مسلم لیگ کراچی کے صدر سید منور رضا، اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ سنیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملک تاریخ کے نتہائی بحران سے گزر رہا ہے ان حالات میں وزیر اعظم نواز شریف نے اور ان کے خاندان کے افراد نے نیک نیتی کے ساتھ عدلیہ کے سامنے پیش ہوئے اور اس کے فیصلوں کو مانا ہے، لیکن ہمیں جے آئی ٹی پر افسوس ہے کہ اس نے جسطرح سے معاملے کو چلایا ہے وہ مکمل طور پر بد نیتی پر مبنی ہے ، جبکہ نواز شریف ملک کی اکثریتی جماعت کے سربراہ ہیں انکے ساتھ تمام مذہبی ، قوم پر ست اور سیاسی جماعتیں ساتھ کھڑی ہیں جو کچھ اس وقت ملک میں ہورہا ہے وہ بین الاقوامی سازشوں اور نئی پالیسیوں کے تحت ہورہا ہے خود جان مکین کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ اپنی پالیسیاں اور رویئے کو تبدیل کر رہا ہے۔ موجود ہ حالات میں افغانستان اور ایران ،سعودی عرب کے اختلافات کے حوالے سے صورتحال سب کے سامنے ہے پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالگ کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں ایسے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان براہ راست متاثر ہوگا، انھوں نے کہا کہ ہمارا جے آئی ٹی سے سوال ہے کہ نواز شریف جو تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بن چکے ہیں کیا انھیں معلوم نہیں تھا کہ نوازشریف کے پاس ملک سے باہر فلیٹس ہیں اور اتنے دولت مند آدمی ہیں، ہم سجھتے ہیں کہ وزیر اعظم ایسے حالات میں ہرگز مستعفی نہ ہوں بلکہ جے آئی ٹی کو عدلیہ میں چیلنج کریںاس وقت قوم بھی یہ بات سمجھ رہی ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بد نیتی پر مبنی ہے، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کا معاملہ مختلف ہے ، نواز شریف نے تو عدلیہ کے تمام فیصلہ کو مانا ہے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے انھیں نا اہل قرار دے دیا گیا۔سنیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے افراد سے اسطرح سے تفتیش کی گئی ہے کہ جیسے وہ جرائم پیشہ ہوں، حسین نواز سے 24گھنٹے کی تفتیش کی گئی انھوں نے کہا کہ اس وقت ہائی ویز پر ڈیڑھ کھرب روپے کا ترقیاتی کام چل رہا ہے اور پاور سیکٹر پر 35بلین کا کام ہور ہا ہے جے آئی ٹی والے ان منصوبوں پر ایک پیسے کی بھی کرپشن دکھادیں میں انھیں چیلنج کرتا ہوں۔دراصل جے آئی ٹی کے اراکین کو ہر صورت میں نواز شریف کو مجرم قرار دینا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ جے آئی ٹی کے تمام اراکین بددیانت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر آئین کی شق 62، 63 پر صحیح معنوں میں عمل کرلیا جائے تو جرنیلز ، ججز ، سیاستدانوں سمیت تمام لوگ فارغ ہوجائیں گے۔ نواز شریف پر جو کیس چل رہا ہے اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کرپشن کا بس یہی کیس ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں پانچ بار مارشل لاء لگایا گیا اور ہمیشہ یہ کہا گیا کہ تمام سیاستدان کرپٹ ہیں، میں خدارا اپیل کرتا ہوں اس ملک سے کھیلنا بند کیا جائے،انھوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم اسے رول بیک نہیں کرنے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ عمران خان تو چار سال پہلے بھی دھرنے کے نام پر احتجاج کر رہے تھے اور یہی سب باتیں کر رہے تھے جو وہ آج کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نواز شریف کی حمایت اس لئے نہیں کر رہا ہوں کہ میرا حکومت میں اسٹیک ہے، بلکہ میں جمہوریت کو نقصان نہیں ہونے دینا چاہتا۔ انھوں نے کہا کہ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو 90ء سے جانتا ہوں وہ سخت مزاج ضرور ہیں لیکن وہ نواز شریف کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ انھوں نے ایک سوال پر کہا کہ میں 90ء میں پہلی بار نواز شریف کا اتحادی بنا تھااوراور جب پرویز مشرف نے ٹیک اوور کیا تو میں اس کے بعد بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔مسلم لیگ ن کے رہنما شاہ محمد شاہ نے کہا کہ میر حاصل بزنجو کے والد میر غوث بخش بزنجو ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اس ملک کو 73ء کا آئین دیا۔ ان لوگوں میں ولی خان،ذوالفقار علی بھٹو، اور مولانا مفتی محمود شامل تھے۔
میرحاصل بزنجو