منشیات سمگلنگ میں پاکستانیوں کو سزائیں

17 جولائی 2017
منشیات سمگلنگ میں پاکستانیوں کو سزائیں

پاکستان سے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ پونڈ سے زائد مالیت کی منشیات سمگل کرنے کے جرم میں برطانوی عدالت نے 8 افراد کو 130 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ایک مقامی اخبار برمنگھم میل کی رپورٹ کے مطابق مجرمان کراچی، لاہور کے راستے گزشتہ سال فروری اور جولائی میں بڑی مقدار میں ہیروئن برطانیہ سمگل کرنے کی منظم سازش کا حصہ تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال 18، 23 ٹن ہیروئن افغانستان سے نکل کر پاکستان کے راستے سمگل ہوکر مختلف واسطوں اور انسانی کوریئرز کے ذریعے برطانیہ پہنچتی ہے۔ منشیات کی سمگلنگ کو انسانیت کیخلاف جرم قرار دیتے ہوئے مختلف ملکوں میں اس دھندے میں ملوث افراد کیلئے مختلف سزائیں رائج ہیں۔ کہیں سزائے موت اور کہیں قید ہے۔ سعودی عرب میں ایسے افراد کا سر قلم کرنے کی سزا رائج ہے جس میں کوئی رورعایت نہیں کی جاتی۔ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے منشیات فروشوں کے سر قلم کرنے کی خبریں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں مگر عبرت کوئی نہیں پکڑتا۔ بیرون ملک جانے والے پاکستان کے وقار کا خیال رکھیں۔ پیسے کی ہوس میں ملک کے وقار کو بٹہ لگا کر دشمنوں کو اسے مطعون اور بدنام کرنے کاموقع نہ دیں۔ بدقسمتی ہے کہ انسداد منشیات اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں اور ایجنسیوں کی موجودگی میں لوگ ایسی ممنوعہ اشیاءبیرون ملک لے جانے میں کامیاب ہو جاتے اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اس حوالے سے اپنی کارکردگی بہتر بناکر بیرون ملک جاکر پاکستان کی بدنامی کا باعث بننے والوں کا کڑا محاسبہ کریں۔