سیاست میں تحمل برداشت اور بردباری کی ضرورت

17 جولائی 2017

مولانا فضل الرحمن مجلس عمل کی بحالی کے لئے کوشاں۔ چودھری شجاعت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے لئے متحرک ہو گئے۔ حکومت نے پانامہ کیس میں عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا۔ سپریم کورٹ میں آج پانامہ کیس کی سماعت ہو گی۔
پانامہ کیس کے سلسلے میں جی آئی ٹی رپورٹ کے بعد جو سیاسی اتھل پتھل مچی ہے اس نے کئی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنما¶ں کو نئی صف بندی پر مجبور کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کے اتحادی ہیں وہ بھی ایک مرتبہ پھر اپنے پرانے سیاسی اتحاد مجلس عمل کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے چکروں میں نظر آ رہے ہیں۔ کراچی میں انہوں نے گذشتہ روز جے یو پی نورانی گروپ کے سربراہ انس نو رانی سے بھی اسی سلسلہ میں ملاقات کی ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھتی ہے یا نہیں۔ دوسری طرف چودھری شجاعت بھی کمر کس کر اپوزیشن جماعتوں کو ایک چھتری تلے جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت بھی عدالت اور پارلیمنٹ دونوں جگہوں پر اپنے دفاع کے لئے مصروف عمل ہے۔ یوں پورے ملک میں سیاسی تلاطم جاری ہے۔ ان حالات میں اصل آزمائش سیاستدانوں کی ہے۔ وہ فیئر پلے سے کام لیں ایسی حرکات سے اجتناب کریں جس سے افراتفری پھیلے اور نادیدہ قوتوں کو میدان میں آنا پڑے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور دشنام سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ابھی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ سب تحمل کے ساتھ اس فیصلے کا انتظار کریں۔ اگر حالات کو مزید ہیجان خیز بنایا گیا تو اس کا نقصان پورے جمہوری عمل کو اٹھانا پڑے گا۔