پیر ‘ 22 شوال المکرم ‘ 1438ھ‘ 17 جولائی 2017ء

17 جولائی 2017
پیر ‘ 22 شوال المکرم ‘ 1438ھ‘ 17 جولائی 2017ء

ایم کیو ایم کے سابق بانی رہنما سلیم شہزاد کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان
اب شاید یہی کسر باقی رہ گئی تھی یا یہی آخری ٹکڑا ہونا باقی تھا۔ جس طرح لوگ پرانے مکان کی کھڑکیاں‘ دروازے شہتیر‘ بالے وغیرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اٹھا کر نکال کر لے جاتے ہیں۔ کچھ یہی حال ایم کیو ایم کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لندن والے علیحدہ دکان سجائے بیٹھے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کی برانچ بند کر دی گئی ہے۔ اسلئے وہ فی الحال صرف لندن میں پکوڑے تلتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھی زبانی کلامی۔ چند ایک موالی اس دکان پر دل پشوری کرنے آ جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالت کچھ اچھی نہیں لگتی۔ مصطفی کمال پاک سرزمین پارٹی کا پرچم اٹھائے ایم کیو ایم سے اپنا حصہ وصول کر چکے اب ڈربے سے بھاگنے والی مرغیوں کو پکڑنے میں مصروف ہیں۔ فاروق ستار عالم گھبراہٹ میں بھی متحدہ کی پتنگ اڑاتے نظر آ رہے ہیں۔ بچے بالے ہی نہیں جوان اور بوڑھے بھی ان کی پتنگ کی طرف لپکے جاتے ہیں۔ ان میں شاید کچھ کٹنے کے بعد اسے لوٹنے اور ڈور اکٹھی کرنے کے چکر میں بھی ہوں گے۔ ایم کیو ایم اس تکون میں میں بھی اب تک مزے میں تھی کہ اب ایک نیا کونہ نکال کر اسے چوکور بنانے کی ٹھان لی گئی ہے۔ ایم کیو ایم اکے ایک بانی رہنما سلیم شہزاد نے طویل خاموشی کے بعد زبان کھولی ہے اور اپنی ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جو عنقریب سامنے آئے گی۔ سلیم شہزاد کے ساتھ ان کے پرانے ایم کیو ایم کے ساتھی بھی اس میں ہوں گے۔ اس طرح اب کہہ سکتے ہیں کہ کراچی میں مہاجر سیاست اب چومکھی لڑے گی۔ اور پھر
”جس دیئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا“
٭٭٭٭٭٭
مفتی عبدالقوی نے مجھے چھونے کی کوشش کی: رپورٹر بی بی سی
مرحومہ ماڈل گرل قندیل کے ساتھ بے باک تصاویر بنوانے والے مفتی صاحب کی تو بات ہی نرالی ہے۔ قندیل کے ساتھ اپنی تصاویر عام ہونے کے بعد بھی وہ پریشان نہیں تھے بلکہ ان تصاویر کے لیک ہونے کے بعد اصل پریشانی قندیل کو لاحق ہو گئی اور بالآخر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ مقدمہ قتل میں مفتی صاحب کا بھی نام آیا مگر وہ ایک قویٰ اور بااثر شخصیت ہیں اسلئے ابھی تک عدالت نے انہیں طلب نہیں کیا اور نہ پولیس والوں نے انہیں روایتی پوچھ گچھ کے لائق سمجھا۔ قندیل چونکہ ایک عام گھرانے کی بے باک باغی قسم کی لڑکی تھی۔ اس لئے اسے اسی کے گھر والوں رشتہ داروں کے ہاتھوں مروانے والے آج تک پردہ راز ہیں۔ یوں یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ اب قندیل کی پہلی برسی پر بی بی سی کی ایک خاتون رپورٹر جب مفتی عبدالقوی سے بات چیت کے لئے انٹرویو کے لئے پہنچی تو یہاں بھی مفتی صاحب اپنی روایتی خوش مزاجی کا مظاہرہ کرنے سے نہ چوکے۔ نہایت عالمانہ انداز میں انہیں ان کے نام کا مطلب بتانے کی کوشش کرتے ہوئے چہرے کو چھونے کی کوشش کی۔ ان کے اس الزام کے جواب میں حسب سابق مفتی صاحب نے وہی پہلے والا دفاعی جملہ کہہ دیا کہ انہوں نے اپنے پر لگائے الزامات کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے مفتی جی ایسی چھوٹی موٹی باتوں اور حرکات کو برا نہیں سمجھتے۔ اب کم از کم کوئی تو ان کی نیک نیتی اور معصومانہ حرکات کا نوٹس لے کیونکہ بگڑے بچے کو سدھارنا بھی ضروری ہے....
٭٭٭٭٭٭
جے آئی ٹی پر میرا تجزیہ غلط نکلا‘ دعا قبول ہو گئی: طاہرالقادری
یقین نہیں آتا یہ جملہ مولانا طاہرالقادری نے اپنی زبان سے ادا کیا ہو گا۔ آج تک تو مولانا اپنی ہر بات کو پتھر پر لکیر کہتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بات اکثر و بیشتر ریت پر لکھی تحریر ثابت ہوتی رہی ہے۔ اب یہاں بھی مولانا اپنے کو بچا گئے۔ کہ ان کی باتیں اور دعوے جے آئی ٹی کے حوالے سے سب غلط نکلے۔ جے آئی ٹی والے اندر سے نہ تو حکومت سے ملے تھے نہ ہی دال میں کچھ کالا تھا۔ جے آئی ٹی ڈرامہ نہیں تھی۔ اب جب مولانا کے دعوے غلط نکلے تو فرماتے ہیں میرا تجزیہ غلط تھا۔ یوں اب جو جے آئی ٹی نے حکومت کے گرد شکنجہ کسا تو مولانا اسے بھی اپنی کرامات بتانے پر تل گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ میری دعا کا نتیجہ ہے جو قبول ہوئی۔ گویا جے آئی ٹی کی اپنی کارکردگی کچھ نہیں تھی۔ جے آئی ٹی کا اپنا کمال کچھ نہیں تھا۔ یہ سب مولانا کی دعا کا نتیجہ ہے۔ گویا یہاں بھی کرامت بتائی جا رہی ہے۔
یہ جو رپورٹ ہے یہ بھی مولانا کی دعا کی وجہ سے خودبخود عالم غیب سے لکھ کر آ گئی ہے۔ ویسے بات تو لگتی بھی کچھ ایسی ہی ہے کیونکہ اتنی 10 یا 12 ضخیم جلدوں پر مشتمل رپورٹ کی تیاری 3 ماہ میں انسانوں کی مہارت سے ممکن نہیں۔ یہ کام واقعی جنوں یا بھوتوں کی کارستانی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ دن بھر کیس کی سماعت کرنا جرح کرنا اور رات کو اسے مرتب کرنا پھر ٹائپ کرنا پھر پروف ریڈنگ کرنا اور پھر اشاعت کے لئے دینا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ کام واقعی غیبی طاقتوں سے ہی ممکن ہے۔ شاید انہی طاقتوں سے کام لینے کی مولانا نے دعا کی تھی جو واقعی قبول ہو گئی۔
٭٭٭٭٭٭
راول ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت اور سندھ میں پینے کے گندے پانی کا مسئلہ۔
راولپنڈی کے باسیوں کو پینے کا پانی راول ڈیم سے سپلائی ہوتا ہے۔ جس کے ارد گرد اراضی پر لینڈ مافیا قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ یہی لوگ یہاں کشتی رانی اور مچھلی کے شکار کے بھی ماجھے ساجھے بنے ہوئے ہیں‘ ان کی مرضی سے یہاں سب کچھ ہوتا ہے۔ ارد گرد کی آبادیوں کے سیوریج کا پانی اور گندگی اسی جھیل میں پھینکی جاتی ہے۔ اب انتظامیہ نے اس پر روک لگانے کی کوشش کی تو اس ظالم مافیا نے زہریلا کیمیکل جھیل میں پھینک دیا جس سے ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں مر گئیں اور چاروں طرف تعفن پھیلا ہوا ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطاً راولپنڈی والوں کو پانی کی سپلائی بھی روک دی ہے تاکہ کوئی بڑا نقصان نہ ہو۔ اب پانی کو مکمل لیبارٹری ٹیسٹنگ کے بعد اسے قابل استعمال قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سندھ میں بھی نجانے کیسے صوبائی حکومت کو پانی ٹیسٹ کرانے کا خیال آیا تو نہایت حوصلہ شکن رپورٹ سامنے آئی ہے۔ پورے سندھ میں مجموعی طور پر 70 فیصد پینے کا پانی ناقابل استعمال ہے۔ اس میں انسانی فضلہ تک شامل ہے۔ کراچی‘ حیدر آباد‘ لاڑکانہ‘ سکھر میں پانی تو زہر بن چکا ہے۔ معلوم نہیں جو لوگ یہ پانی استعمال کرتے ہیں وہ زندہ کس طرح ہیں۔ کوئی ادارہ قانون کی پاسداری کرنے پر قادر نہیں راول جھیل پر قابض لوگ ہوں یا سندھ میں پانی کی صفائی پر مامور ادارہ کیا وہ قانون سے ماورا ہیں یا ان کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ قانون بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ آخر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ راول جھیل کے ٹھیکیداروں کو لگام کیوں نہیں ڈالتے۔ سندھ میں پانی کے صاف پانی کی فراہمی میں ناکام رہنے والوں کو سزا کیوں نہیں دیتے۔ کیا اس کام کے لئے بھی اب چین یا ترکی سے لوگ منگوانے پڑیں گے....
٭٭٭٭٭٭