بہت کچھ بدلتے دیکھا مگر!

17 جولائی 2017
بہت کچھ بدلتے دیکھا مگر!

وہ گاﺅں میں رہتا تھا۔ ایسا گاﺅں جو بڑے دیہات میں شمار ہوتا ۔ باوجود پچیس سو سے تین ہزار ووٹ کاسٹ ہونے پر بھی اقلیت اپوزیشن کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق نہ ہوتا۔ جونہی وہ گریجوایشن کے پہلے سال میں پہنچا تو ضیائی خاتمے کے بعد جماعتی الیکشن 1988ءکا وقت آ گیا۔ سارے گاﺅں کا تعلق مسلم لیگ سے تھا۔ وہ لوگ جو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بعد بھٹو کو پیر و مرشد مانتے تھے اور جن کے پاس چینی کا ڈپو ہوتا وہ بھی بدل گئے۔ الیکشن سے چند دن قبل پی پی پی کے کچھ لوگ گاﺅں میں آئے تو انہیں چوہدریوں کے ڈر سے بٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ آخر اس لڑکے نے انہیں اپنے ڈیرے پر بٹھایا حالانکہ اس وقت وہ انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا اور کالج میں اسلامی جمعیت طلبہ کا سپورٹر تھا۔ کوئی جیالا نہیں چند لوگوں نے پی پی پی کے اس تنظیمی لوگوں کو سننے کی جرا¿ت کی جس میں قابل ذکر ایک جیالا رانا محمد رفیق خان تھا۔ خیر شہر کے وسط سے 12 کلو میٹر دور یہ گاﺅں پولیس اور عدالتوں سے بہت ڈرتا تھا۔ زمینداروں کا نہیں مزدوروں اور کسانوں کا گاﺅں تھا۔ ایک آدھ گھرانہ تھا جس کی زمین مربعوں میں تھیں یعنی وہ بھی تین چار مربعوں تک محدود۔ بہر حال اس دور میں صرف نام نہاد چوہدریوں کے ڈیروں سے نہیں، کالج اور یونیورسٹی میں پہنچنے والوں کو وہاں سے بھی سیاسی منشور ملتا تھا جو آج نہیں ملتا۔
آگے سنیئے ، وہ لڑکا کالج سے گھر آ رہا تھا کہ راستے میں گاﺅں کا ایک چوہدری ملتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ آپ کے گھر پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا کیوں لگا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گھر جا رہا ہوں دیکھتا ہوں۔ گھر سے ابھی تھوڑی دور تھا کہ گاﺅں کے نمبردار صاحب سے ملاقات ہوئی اس کا بھی سوال تھا کہ جھنڈا کیوں لگایا؟ اسے اتار دیں! گھر پہنچنے پر پتا چلتا ہے کہ اس لڑکے کے ماموں آئے جو خواجہ محمد اسلم لون امیدوار پی پی پی قومی اسمبلی کے والد محترم کے قریبی تھے۔ وہ جھنڈا دے گئے اور اس کے چھوٹے بھائی نے شوق شوق میں جھنڈا لگا دیا۔ بھائی کی عمر 12 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ لڑکے کے والد صاحب ان دنوں بیرون ملک گئے ہوئے تھے جو بہرحال ضیاءالحق کو پسند کرتے تھے۔ اس گھران کا اس وقت پی پی سے کوئی تعلق نہ تھا وہ الگ بات ہے کہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد یہ گھرانہ بھٹو سے بہت خوش تھا۔ تاہم وہ لڑکا جب چند سال کا تھا تو اس کے والد نے سید ابو الاعلی مودودی اور بھٹو صاحب کو بیک وقت متعارف کرایا تھا بلکہ کندھوں پر اٹھا کر 1974ءکی اسلامی سربراہی میں کانفرنس کے مناظر بھی دکھائے۔ بات چل رہی تھی جھنڈے کی۔ چھوٹے بچے کو راضی کر لیا گیا اور فیصلہ ہوا صبح پی پی کا جھنڈا تار دیا جائے گا۔ لیکن شام کو ہونے والے انتخابی جلسے میں مقامی رہنما کہہ رہے تھے۔ اس گاﺅں میں پی پی کا کوئی ووٹر نہیں بس چند جراثیم ہیں۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے یعنی ری ایکشن، جھنڈا نہ اتارا گیا۔ دمادم مست قلندر ہوگیا۔ قصہ مختصر، الیکشن 88ءکی مہم کے دوران ”ظالموں حیا کرو بہن کا نکاح کرو“ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے لئے دروازے کے سامنے انتہائی غلیظ زبان استعمال کی جاتی۔ وہ غلیظ زبان کہ جو کسی حد تک شیخ رشید قومی اسمبلی میں بے نظیر بھٹو کے خلاف استعمال کیا کرتا تھا جو اس وقت میاں نواز شریف کا انتہائی قریبی ساتھی تھا۔ الیکشن گاﺅں سے تو مسلم لیگ جیت گئی شب بھر دروازے کے سامنے ڈھول بجتا رہا۔ لڑکا اور اس کی فیملی صبر سے سنتی رہی۔ مگر سحر کے وقت معلوم ہوا کہ خواجہ اسلم لون پی پی پی انور بھنڈر سے جیت گئے۔ پھر سحر کے وقت نکلنے والے ڈھول نے پول بھی کھولے اور دما دم مست قلندر کا دریچہ بھی!
چشم فلک نے اس وقت بھی بہت کچھ بدلتے دیکھا اور چشم بینا آج بھی بہت کچھ بدلتے دیکھ رہی ہے۔ اسی اسلم لون کا بیٹا خالد لون آج تحریک انصاف میں ہے اور وہی بزرگ انور بھنڈر بھی تحریک انصاف میں۔ انور بھنڈر 1963ءتا 1969ءصوبائی اسمبلی آف مغربی پنجاب کے سپیکر رہے۔ اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان اکٹھے تھے اور یہ کنونشن لیگ کا حصہ تھے۔ پھر پی پی نے متنازعہ الیکشن 1977ءکے بعد انہیں پنجاب کا سپیکر بنایا۔ بعد ازاں جنرل ضیاءالحق نے انہیں مجلس شوریٰ کا ممبر بنا لیا۔ 88ءکے الیکشن میں انہوں نے پی پی کے ٹکٹ کی کوشش کی فاروق لغاری نے بھی مدد کی لیکن ٹکٹ نہ ملا اور پھر مسلم لیگ سے الیکشن لڑ لیا۔ الیکشن 2002ءمیں ق لیگ کے ہوگئے بھتیجا شاہد اکرم بھنڈر وزیر مملکت بھی رہا۔ الیکشن 2013ءمیں بھی ق لیگ کے رہے آج تحریک بزرگی میں تحریک انصاف میں چلے گئے۔ واہ رے تبدیلی۔ آج اگر نذر محمد گوندل، بابر اعوان، فردوش عاشق، مرتضیٰ ستی، غلام سرور خاں، امتیاز صفدر وڑائچ وغیرہ پی پی میں گئے ہیں تو کیا ہوا۔ یہ یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی بھی تو میاں نواز شریف کو چھوڑ کر 1988ءمیں پی پی پی میں آئے تھے۔۔۔ ارے! یہاں نظام کیا بدلے گا جہاں لوگ بدل جاتے ہیں۔ یہاں چند اکابرین کے سوا سبھی عمائدین بیرسٹر سلطان چوہدری ہیں۔
تاریخ کے سینے پر یہ دلخراس واقعات بھی کندہ ہیں کہ 3 دسمبر 1977ءکو کمانڈوز رمضان کے مہینے میں بے نظیر بھٹو کے بیڈ روم میں گھس آئے، اچھلتے کودتے رہے اور الماری سے کپڑے پھینکتے رہے۔ ڈریسنگ ٹیبل الٹا دیا اور احتجاج پر پستول بھی تان لیا۔ وہ 16 دسمبر 1977ءنصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کرکٹ میچ میں سٹیڈیم پہنچیں تو تالیوں کی گونج کی تاب نہ لاتے ہوئے آمر کی پولیس نے لاٹھیوں سے نصرت بھٹو کو لہو لہان کر دیا اور اس طرح کے کئی منظر چشم فلک نے دیکھے۔ آج کے حکمران دعا کریں کبھی ایسا ان کے ساتھ نہ ہوا اور وہ حکمران ضیاءالحق تھا جو ان کی انگلی پکڑ کر اقتدار میں لایا ہے۔ آج تک 16 آرمی چیف آئے۔ کم و بیش 6 سے ان حکمرانوں کا واسطہ پڑا۔ ہم نے اتنا کچھ بدلتے دیکھا کہ ضیاءالحق کے ساتھ یہ اس کی موت کے بعد بدلے لیکن باقیوں کے ساتھ اپنا کام نکلنے کے بعد!!!
وقت سے سیکھتے ہم نے کم ہی دیکھے ورنہ لوگ ہی نہیں نظام بھی بدلتا۔ میرا ذالی خیال تھا کہ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت پر حملے اور چیف جسٹس (ر) افتخار چوہدری کو مکھن سے بال کی طرح نکالنے کے بعد میاں صاحبان کا احتساب نا ممکن ہے لیکن ہم نے دیکھا کہ زاہد حامد اور دانیال عزیز انہیں وہاں تک لے آئے جہاں انہوں نے جنرل مشرف کو پہنچایا تھا۔ ہم نے آخر دیکھا کہ آج جے آئی ٹی نے رول دیا۔ اقتدار جائے نہ جائے اہل نظر کے نزدیک کریڈ بیلٹی چل گئی۔ ہم نے پی پی پی میں یہ تبدیلی ضرور دیکھی کہ جب عرفان اللہ مروت کو پی پی میں تقریباً لے لیا گیا تو بے نظیر بھٹو کی صاحبزادیوں نے مخالفت کر دی۔ زرداری صاحب نے پوچا پھیرنے کی کوشش کی لیکن بات بنی نہیں آخر سندھ حلقہ 114 میں مروت صاحب نے الیکشن کیا لڑنا تھا انہوں نے ہلکی پھلی حمایت تحریک انصاف کی کر دی وہ الگ بات ہے کہ اس حالیہ ضمنی الیکشن میں سعید غنی ممبر سندھ اسمبلی بن گئے لیکن یہ حسین اتفاق ہے کہ کوئی اسے پی پی کا کم بیک تصور نہ کرے اور ایک تبدیلی پی پی قیادت میں یہ دیکھی کہ انہوں نے سیاسی اور غصیلی زبان مریم نواز شریف کے خلاف ضرور استعمال کی لیکن وہ نہیں جو کبھی شیخ رشید یا مسلم لیگی قیادت بے نظیر بھٹو کے خلاف کیا کرتی تھی۔ خواجہ آصف تو بہت سیانے ہیں” اس درجہ“ پر وہ کیا سمجھیں گے کہ انہیں ان کی زبان کے استعمال کا طعنہ دیا جائے جو انہوں نے پارلیمنٹ میں شیریں مزاری کے خلاف استعمال کی تاہم تحریک انصاف کے نوجوانوں اور نوجوان قیادت سے ضرور عرض کریں گے کہ مریم نواز ہو یا کوئی اور سیاسی مخالفت رج کے کریں لیکن خاتون کے خلاف مہذب رہنا ضروری ہے اور یاد کریں ان لیگیوں کو جو بے نظیر بھٹو کو کیا کچھ کہتے تھے جو آج ان کے اپنے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ہم تو کہتے ہیں خواتین کو حقوق دیں، مظلوموں اور محکوموں کو حقوق دیں۔ اقلیتوں کو حقوق دیں، غلاموں کو حقوق دیں، یہی نہیں انہیں قومی دھارے میں شامل کریں گے تو جمہوریت میں نکھار آئے گا ورنہ نہیں۔ ہم اس تبدیلی سے بھی آشنا ہیں کہ میاں نواز شریف نے سیاسی اننگ کا آغاز تحریک استقلال سے کیااور اسی پارٹی سے اعتزاز احسن بھی میدان سیاست میں اترے۔ حامد ناصر چٹھہ سچے اور پکے مسلم لیگی رہے آج وہ ریٹائر ہونے پر مجبور ہو گئے اور صاحبزادگان تحریک انصاف میں ہیں۔ سندھ میں جتوئی خاندان اور کے پی کے سے امیر مقام خاندان نے بھی رنگ بدلے مگر نظام کا رنگ وہی ہے۔ شیخ رشید بھی سوچتے ہوں گے اگر میں اکیلا ہوں تو کل 2008ءمیں عمران خان بھی اسمبلی میں اکیلا تھا کیا پتہ کب اسٹیبلشمنٹ کی ”مدد“ زیرو سے ہیرو بنا دے۔ تبدیلی تو یہ بھی ہے کہ حاضر وقت وزیراعظم اور حکومت کے خلاف جے آئی ٹی نے کیا کچھ ثابت نہیں کر دیا۔ بے شک ن لیگ پولی پولی ڈھولکی یا ڈھول جے آئی ٹی اور اداروں کے بجائے خلاف اور بے شک حکومت ختم ہو نہ ہو لیکن وزیراعظم کے ماتھے پر وہ کلنک آ گیا کہ ”دیکھو ، دیکھو ! کون آیا؟“ ہاں یہ بھی بدلتے دیکھا کہ 1988ءکے لڑکے اور ترگڑی (گوجرانوالہ) میں تبدیلی آ چکی۔ تیر، شیر اور لالٹین والے کے گھر میں بلے کے ووٹ ہیں اور کوئی جھوٹا چوہدری انہیں جراثیم نہیں کہہ رہا۔ کاش نظام بدلنے کی تبدیلی بھی آ جائے لیکن نوجوان نسل کی تربیت اس طرح نہیں ہوئی جو اس لڑکے کی بطور طالب علم کارکن یا رہنما ہوئی تھی۔ آج وہ تربیت ہوتی تو شاید نظام بدل جاتا۔ تربیت نہ ہونے سے نظام بونا اور اشرافیہ بڑا ہو گیا لیکن آج کا نوجوان سمجھنے سے قاصر ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭....٭....٭....٭